کینیڈا میں لاہور کے خاندان کو کچل کر کیوں مارا گیا؟


کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد مسلمان خاندان کے چار افراد کو نفرت کی بنیاد پر بے دردی سے گاڑی تلے روند کر ہلاک کیے جانے کو دہشتگردی قرار دیا جا رہا ہے اور اس واقعے کو کینیڈین معاشرے کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ اتوار 6 جون کی شام اونٹاریو کے شہر لندن میں پیش آیا تھا جب ایک 20 سالہ گورے نوجوان نے اپنی گاڑی اس وقت اس خاندان کے افراد پر چڑھا دی جب وہ اپنے گھر کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے۔ اس واقعے میں اس خاندان کا صرف ایک نو سال کا بچہ زندہ بچ پایا ہے جو شدید زخمی حالت میں ہسپتال داخل ہے۔
کینیڈین پولیس نے تسلیم۔کیا ہے کہ اس مسلمان خاندان کو ’سوچے سمجھے منصوبے‘ کے تحت گاڑی کے نیچے روند کر قتل کیا گیا ہے۔ اس واقعے پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشرقی ممالک میں پھیلنے والے ’اسلاموفوبیا‘ کی ایک کڑی قرار دیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملہ آور کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور اس کے خلاف چار قتل اور ایک اقدامِ قتل کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ حملہ آور پولیس کی تحویل میں ہے جو اس کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کے حوالے سے کینیڈین حکام سے مشاورت کر رہی ہے۔ پولیس کو یقین ہے کہ یہ ٹکر منصوبے کے تحت نسلی تعصب کی بنیاد پر ماری گئی۔ پولیس نے اسے ’نفرت پر مبنی جرم‘ قرار دیا ہے۔
کینیڈین پولیس کے ڈیٹیکٹیو سپرینٹنڈنٹ پال ویٹ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ان پاکستانی نژاد افراد کو مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔‘ مرنے والوں میں 46 سالہ فزیوتھریپسٹ سلمان افضل، پی ایچ ڈی کی طالبہ 44 سالہ مدیحہ سلمان، نویں جماعت کی طالبہ 15 سالہ یمنیٰ سلمان اور اُن کی 74 سالہ ضعیف دادی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی خاندان کے نو سالہ فائز سلمان ہسپتال میں داخل ہے مگر اس کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔
پولیس کے سپرینٹنڈنٹ پال وائٹ نے مزید کہا: ‘ملزم اور ہلاک شدگان کے درمیان پہلے کوئی تعلق نہیں ہے۔’ اُنھوں نے مزید کہا کہ ملزم نے ایک جیکٹ پہن رکھی تھی جو ‘بلٹ پروف جیکٹ جیسی’ لگ رہی تھی۔ حکام نے مزید کہا کہ جب اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بج کر 40 منٹ پر ہائیڈ پارک روڈ کے فٹ پاتھ پر یہ سیاہ ٹرک چڑھ رہا تھا تو اس وقت موسم اچھا تھا اور حدِ نگاہ بہت بلند تھی۔ ایک عینی شاہد نے سی ٹی وی نیوز کو اس منظر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اُنھیں اپنی کم سن بیٹی کی آنکھیں بند کرنی پڑیں۔ ایک اور عینی شاہد کے مطابق ’افراتفری‘ کا عالم تھا۔ پیج مارٹن نے کہا: ’ہر جگہ سے لوگ بھاگ رہے تھے۔ لوگ امدادی کارکنوں کو بتا رہے تھے کہ واقعہ کہاں ہوا ہے۔ ہر کوئی اشارے کر رہا تھا، چلا رہا تھا اور بازو گھما رہا تھا۔‘
کینیڈا کے لندن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر نے کہا کہ ’یہ مسلمانوں کا اجتماعی قتل ہے جس کی جڑ میں بے پناہ نفرت موجود تھی۔‘
حملہ آور کا نام نیتھانیئل ویلٹ مین بتایا گیا ہے۔ وہ 20 سال کا ہے اور لندن سے تعلق رکھتا یے۔ پال وائٹ نے بتایا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ حملہ آور کے کسی نفرت انگیز گروہ سے تعلقات ہیں یا نہیں۔اُسے جائے وقوعہ سے چھ کلومیٹر دور ایک شاپنگ سینٹر میں گرفتار کیا گیا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹویٹ کیا کہ لندن، اونٹاریو سے آنے والی خبر سے انھیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جن افراد کے پیاروں کو اس نفرت آمیز واقعے نے دہشت زدہ کیا ہے، ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ہم اس بچے کے ساتھ بھی کھڑے ہیں جو اس وقت ہسپتال میں داخل ہے۔ ہمارے دل آپ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم لندن کی مسلم کمیونٹی اور پورے ملک میں موجود مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسلاموفوبیا کی یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ خاموشی سے پنپنے والی یہ نفرت نقصان دہ اور انتہائی شرمناک ہے۔ اسے ختم ہونا ہو گا۔
اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ بھی مقتولین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں شامل تھے۔ اُنھوں نے ٹویٹ کی کہ ‘نفرت اور اسلامو فوبیا کی اونٹاریو میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’دہشتگردی کا یہ واقعہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا میں اضافے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنا ہو گی۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میرے نزدیک یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے اور جو لاشیں ملی ہیں وہ قابلِ شناخت نہیں ہیں اور تاحال پوسٹ مارٹم کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پولیس تحقیقات کے مطابق اس واقعہ میں اسلاموفوبیا کا عنصر موجود ہے جس میں تین بے گناہ، بے قصور نسلیں متاثر ہوئی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی متاثرہ فیملی کے ساتھ پہلا رابطہ ٹورانٹو میں ہمارے قونصل جنرل کا ہوا اور خاندان اس المناک سانحہ کے باعث کرب کا شکار ہے۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ان کو میتیں پاکستان بھجوانے کی پیشکش کی ہے تاہم متاثرہ فیملی نے وہیں تدفین کرنے کے متعلق آگاہ کیا ہے۔‘ انھوں نے کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے اور وہ کینیڈا میں مقیم مسلمان کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے قونصل جنرل تورانٹو نےبتایا کہ پولیس کا رویہ اطمینان بخش ہے۔
ادھر کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تہہ دل سے پاکستانی نژاد کینیڈین خاندان کے چار افراد کی المناک ہلاکت پر تعزیت کرتے ہیں۔‘ ’ہم صوبائی اور وفاقی حکام سے حقائق سامنے لانے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔‘ ہائی کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ’ابتدائی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ یہ افراد ایک دہشتگرد حملے کا نشانہ بنے جس کی بنیاد اسلاموفوبیا تھی۔‘ اعلامیے کے مطابق آج کونسل جنرل ٹورنٹو لواحقین سے افسوس کرنے کے لیے اونٹاریو جا رہے ہیں جہاں وہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہر ممکن امداد کی یقین دہانی بھی کروائیں گے۔

Back to top button