افغانستان کی غیر قانونی حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہ ہے: عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم ایک غیر قانونی اور غیر نمائندہ حکومت ہے جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہے، طالبان نے زبردستی حکومت پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی حالیہ جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا،پاکستانی فورسز نے کارروائی کرتےہوئے افغان فورسز کی متعدد چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے، پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کےلیے افغان سرزمین استعمال ہوئی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت غیر قانونی حکومت ہے اور طالبان نے زبردستی حکومت پر قبضہ کیا ہوا ہے،اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغانی ملوث تھے،وہاں سے پاکستان میں دہشت گرد آ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ طالبان رجیم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے،افغانستان میں خواتین،بچے اور اقلیتیں بھی محفوظ نہیں،افغانستان میں خواتین کو حقوق نہیں دیے جا رہے،وہاں 13 سال کی عمر کے بعد لڑکی کو تعلیم حاصل کرنےکی اجازت نہیں،ہائر سیکنڈری کےبعد وہ داخلہ نہیں لے سکتی،وہ کوئی ملازمت نہیں کر سکتی،وہ کوئی پیشہ اختیار نہیں کرسکتی،وہ عوام مقامات پر نہیں جاسکتیں اور جہاں وہ جاسکتی ہیں وہاں ان کے بولنے پر پابندی ہے اس کےلیے 3 ہزار افراد کی فورس بنائی گئی ہےکہ وہ موقع پر ہی خواتین کےخلاف کارروائی کرے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 12 فروری 2026 کی ایک رپورٹ میں طالبان رجیم کے طرز عمل پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔مختلف خواتین حقوق تنظیموں اور عالمی اداروں نے طالبان کی پالیسیوں کو قابل مذمت قراردیا ہے اور کہا ہےکہ افغانستان میں خواتین خود کو غیرمحفوظ محسوس کرتی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق عالمی فوجداری عدالت نے طالبان کے سپریم لیڈر اور چیف جسٹس پر مبینہ طور پر صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے الزامات کے تحت وارنٹ جاری کیے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کاکہنا تھاکہ بچوں کو ویکسینیشن اور صحت کی سہولیات جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔
آپریشن غضب للحق : طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک اور 400 زخمی ہوئے، ترجمان پاک فوج
انہوں نے کہا کہ طالبان نے مختلف طبقات کےلیے مختلف قوانین نافذ کیے ہیں۔ اعلیٰ طبقے کو صرف اطلاع دی جاتی ہے،متوسط طبقے کو قید کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اور نچلے طبقے کےلیے قوانین سخت اور جبر پر مبنی ہیں،یہ نظام واضح طور پر ظلم و جبر پر مبنی ہے اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
