کے ٹو پرلاپتہ کوہ پیماؤں کے زندہ ہونے کا کتنا امکان ہے؟


5 فروری کی شام سے کے ٹو کی آٹھ ہزار میٹر بلندی پر لاپتہ ہونے والے علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیمائی کے زندہ ہونے کے حوالے سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر انہوں نے کسی سنو شیلٹر یا غار میں پناہ لے رکھی ہے لہذا ان کا سراغ لگانے کے لئے پاک فوج اور عالمی اداروں کی مدد سے ریسکیو آپریشن جاری رکھنا چاہیئے۔
تینوں کوہ پیماؤں کی بازیابی کے لئے قائم ورچوئل بیس کیمپ میں شامل امریکی کوہ پیما وینیسا او برائن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ تینوں کوہ پیما چونکہ انتہائی تجربہ کار اور ضروری ساز وسامان سے لیس ہیں اس لئے بعید از قیاس نہیں کہ انہوں نے کسی غار میں پناہ لے رکھی ہے۔ اس امید پر ریسکیو آپریشن جاری رکھنا چاہیئے۔ پاکستان، آئس لینڈ اور چلی کے تینوں لاپتہ کوہ پیماؤں کے خاندانوں کو بھی 72 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود امید ہے کہ وہ زندہ ہوں گے۔ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش جاری رکھنے کے لیے ایک ’ورچوئل بیس کیمپ‘ بھی قائم کیا گیا ہے جس کو علی سد پارہ کے دیرینہ دوست راؤ احمد، ان کے بیٹے ساجد سدپارہ اور برطانوی نژاد امریکی کوہ پیما، وینیسا او برائن نے مل کر بنایا ہے۔ ونیسا نے بتایا کہ ورٹیکل اور ہاریزانٹل کوریج کے چھ ہیلی کاپٹر پروازوں کے باوجود کسی حادثے یا لاشوں کی کوئی علامت نہیں دیکھی گئی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ علی سدپارہ اور دونوں غیر ملکی مہم جو خاصے ہوشیار کوہ پیما ہیں، ان کے پاس پانی پگھلانے کے لیے ایندھن موجود تھا ان تینوں نے مل کر یقیناً کوئی پناہ گاہ بنا لی ہو گی۔
وینیسا کے بقول اگر انھوں نے کوئی سنو شیلٹر یا غار بنا لیا ہے تو اس صورت میں ظاہر ہے وہ نظر نہیں آ سکتے اور اسی لیے ہم نے آئس لینڈ کی سپیس ایجنسی کے ساتھ شراکت کی ہے کیونکہ ان کی ٹیکنالوجی کے ذریعے دن ہو یا رات، بارش ہو یا ہوا، آپ اوپر سے نیچے تک دیکھ سکتے ہیں۔ ونیسا کے مطابق علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش اور ریسکیو کے لیے ورچوئل بیس کیمپ میں علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ کے علاوہ ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز امتیاز، اکبر، فضل علی اور جلال بھی موجود ہیں جو سخت تھکن اور مشکلات کے باوجود تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے لیکن ان میں سے صرف ساجد سد پارہ ہی ایکلیمٹائزڈ ہیں۔ کوہ پیمائی کے ماہر عمران کہتے ہیں کہ ابھی تک جو ہیلی کاپٹر مشن ناکام لوٹے ہیں ان کا یہی مطلب ہے کہ وہ 7000 میٹر سے اوپر موجود ہیں اور اس کے لیے گراؤنڈ سرچ ہی ایک آپشن ہے اور وہاں وہی جائے گا جو ایکلیمٹائزڈ ہو گا اور وہ صرف ساجد یا وہ نیپالی شرپا ہیں جو دسمبر سے وہاں موجود ہیں اور انھوں نے سات سات سمٹ کر رکھے ہیں۔ عمران کہتے ہیں شمشال کے بلند پہاڑوں میں پیدا ہونے والے یہ سارے پورٹرز اگرچہ انتہائی تجربہ کار ہیں لیکن چونکہ وہ ایکلیمٹائزڈ نہیں ہیں اس لیے وہ کیمپ تھری یعنی 7350 میٹر بلندی تک ہی پہنچ پائیں گے اور اس سے آگے ان کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔ عمران کا کہنا تھا کہ اگر تو ان تینوں کا سراغ مل گیا تو اس کے بعد پتا چلے گا وہ کس بلندی پر ہیں لیکن اس سب کے باوجود 8000 میٹر سے تو کسی باڈی کو نیچے نہیں لایا جا سکتا۔
عمران کہتے ہیں کہ اللہ رب العزت کسی کو زندگی بخشی دے تو کچھ ممکن نہیں لیکن اگر سائنسی طورپر دیکھیں تو 8000 میٹر سے اوپر کوئی بھی 90 گھنٹوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکا جبکہ علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیما گزشتہ کئی روز سے اس بلندی پر لاپتہ ہیں۔ یاد رہے نیپال کے پیمبا گلجئین شرپا سنہ 2008 میں دو کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے 90 گھنٹے تک کے ٹو کے ڈیتھ زون میں رہے تھے۔ عمران کے مطابق نیپالی شرپاؤں کا ہیموگلبن عام انسانوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے لہذا سب سے بہتر صورتحال تو یہی ہو گی کہ وہاں پہلے سے بہترین انداز میں ایکلیمٹائزڈ اور تجربہ کار نیپالی شرپا جو اوپر سے نیچے آئے ہیں انھیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا جائے لیکن وہ کہتے ہیں یہ نیپالی شرپا جو خود بنا سمٹ کیے اپنی جان بچا کر نیچے آئے ہیں تو وہ کسی اور کو بچانے یا ریسکیو کرنے کیوں جائیں گے۔ عمران کے مطابق ابھی علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیماؤں کا کوئی سراغ نہ ملنے کی صورت میں امکان یہی ہے کہ جون کے موسم گرما میں سمٹ کرنے کے لیے آنے والوں کو ان تینوں لاپتہ کوہ پیماؤں کی باقیات کا کوئی نشان مل سکے۔
دوسری جانب سکرود میں موجود علی سد پارہ کے چھوٹے بیٹے مظاہر حسین سدپارہ کا کہنا تھا کہ انھیں پوری امید ہے کہ ان کے والد زخمی ہوں گے اور ریسکیو کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ مظاہر کا کہنا تھا کہ والدہ کو بھی ہم نے پُرامید رکھا ہوا ہے کہ والد لوٹ آئیں گے۔ تاہم محمد علی سدپارہ کے بڑے بیٹے ساجد سدپارہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے والد اور ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش اور بچاؤ کی مہم کو اب ان کی لاشوں کی تلاش کی مہم کے طور پر جاری رکھنا چاہیے۔
وینیسا او برائن کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں لاپتہ کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ نے پاکستانی حکومت اور فوج سے ریسکیو مشن جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ریسکیو مشن ان کا سراغ ملنے تک جاری رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق کوہ پیماؤں کے خاندان اور بیس کیمپ میں ان کی ٹیم کے سینئیر ممبران ہی مل کر فیصلہ کریں گے کہ کب تک سرچ اینڈ ریسکیو مشن کو جاری رکھا جانا چاہیے۔
کیونکہ اگر کوہ پیما برف کے نیچے دبا ہو اور کسی صورت اس کے مقام کا اندازہ نہ لگایا جا سکتا ہو تو ایسے میں صرف گرمیاں اور برف کا طوفان آنے کا انتظار ہی کیا جا سکتا ہے جس کے دوران ان کی باڈی نظر آنے کا امکان ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button