کے ٹو پرلاپتہ کوہ پیما کسی کھائی میں گرے یا گلیشئر کی زد میں آئے؟

دنیا کی دوسری سب سے بلند چوٹی K-2 کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے معروف پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور انکے دو غیر ملکی ساتھیوں کے بارے میں اس خیال کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ کے ٹو پہاڑ کی ڈیتھ زون میں یا تو کسی کھائی میں گر گئے ہیں یا کسی برفانی تودے کی زد میں آ گئے ہیں۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ وہ آکسیجن نہ ہونے کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور برف میں کہیں دب چکے ہیں۔ تینوں کوہ پیماوں کی لاشیں تلاش کرنے کا مشن 8 فروری کو تیسرے روز بھی ناکام رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب چونکہ کوہ پیماؤں کے زندہ رہنے کے کوئی امکانات باقی نہیں رہے اس لیے تلاش کے لیے بھیجے جانے والے زمینی دستوں کو کام سے روک دیا گیا ہے لیکن آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے لاشوں کی تلاش جاری رکھی جائے گی۔
یاد رہے کہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جوان پابلو موہر جمعہ 5 فروری کی شام سے لاپتہ ہیں۔ ان کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں جن میں تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ کوہ پیمائی کی گائیڈ کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کے مینیجر داوا شرپا، جو کے ٹو بیس کیمپ پر موجود ہیں، نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ آرمی کے ہیلی کاپٹروں نے 8 فروری کو تقریباً 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی تاکہ لاپتہ کوہ پیماؤں کا سراغ لگایا جا سکے۔ انھوں نے ان علاقوں کا چکر لگایا جن کے جغرافیے سے وہ آگاہ ہیں۔ داوا شرپا کے مطابق کے ٹو کی بالائی سطح بادلوں سے مکمل طور پر ڈھکی ہوئی ہے اور چوٹی پر حد نگاہ بہت کم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ تین روز سے پاٹلٹس انتہائی غیرمعمولی کام کر رہے ہیں مگر اب تک ہم لاپتا کوہ پیماؤں کا سراغ نہیں لگا پائے ہیں۔ ریسکیو ٹیم موسم کے بہتر ہونے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ کھوج کے کام کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
دوسری طرف حکومت کی جانب سے لاپتہ کوہ پیماؤں کی زمینیں تلاش کا عمل ختم کر دینے کے باوجود محمد علی سدپارہ کی کھوج کے لیے اُن کے دو رشتہ داروں امتیار اور اکبر نے رضا کارانہ طور پر کے ٹو کا سفر شروع کر دیا ہے۔ دونوں کوہ پیماوں نے ماضی میں کے ٹو سر کیا ہوا ہے۔ انھوں نے 4 فروری کو محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ کی بھی کے ٹو بیس کیمپ واپسی میں مدد کی تھی۔ دوسری طرف ساجد سدپارہ نے کہا ہے کہ ان کے والد اور ساتھی کوہ پیماؤں کو جو بھی حادثہ پیش آیا وہ چوٹی سر کرنے کے بعد ہی ہوا اور یہ کہ ان کی تلاش اور بچاؤ کی مہم کو اب ان کی لاشوں کی تلاش کی مہم کے طور پر جاری رکھنا چاہیے۔ واضح رہے کہ ساجد سدپارہ بھی اپنے والد کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل تھے لیکن آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے کے باعث وہ مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آ گئے تھے۔ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جوان پابلو موہر کا 5 فروری کی شام سے بیس کیمپ، اپنی ٹیم اور اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اپنے گھر سکردو واپس پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ساجد سدپارہ نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ محمد علی سد پارہ اور ان کی ٹیم نے سردیوں میں K-2 فتح کرنے کا کارنامہ انجام دے دیا تھا اور ان کے ساتھ جو بھی حادثہ ہوا، وہ واپسی کے سفر میں ہوا ہے۔‘
ساجد سدپارہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’انتہائی سرد موسم کے ساتھ آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر کسی انسان کے اتنے زیادہ وقت تک بچ جانے کے امکانات کم ہی ہیں۔ تاہم لاش کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہنا چاہیے۔‘ خیال کیا جاتا ہے کہ محمد علی سدپارہ اور ان کے دونوں کوہ پیما ساتھی کے ٹو پہاڑ کی ڈیتھ زون میں یا تو کسی کھائی میں گر گئے ہیں یا کسی برفانی تودے کی زد میں آ گئے ہیں۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ وہ آکسیجن نہ ہونے کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور برف میں کہیں دب چکے ہیں۔
محمد علی سدپارہ، ان کے ساتھی کو پیما آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جے پی موہر کے قریبی عزیزوں کے مطابق تینوں نے جمعے کی شام تک آٹھ ہزار میٹر کا سنگ میل عبور کر لیا تھا جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وہ جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ ٹورسٹ پولیس سکردو کے مطابق ان تینوں کی تلاش کا آپریشن شروع کیا جا چکا ہے اور تمام تر ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ تینوں کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطے کے لیے جان سنوری کے پاس موجود ٹریکر کے علاوہ تینوں کے پاس موجود سیٹلائیٹ فون اور واکی ٹاکی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ رابطوں کے لیے جان سنوری اپنے پاس موجود ٹریکر ہر ایک گھنٹے بعد آن کر کے اطلاع فراہم کر دیتے تھے۔ انھوں نے جمعہ کے روز آخری مرتبہ اپنی موجودگی کی اطلاع چار بجے فراہم کی تھی۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ نیپالی مہم جووں کی جانب سے کے ٹو کو سردیوں میں تاریخ میں پہلی مرتبہ فتح کرنے کے بعد محمد علی سد پارہ اور دو ساتھیوں نے اپنی مہم جاری رکھی تھی۔ اس مہم کے دوران جمعہ کے روز موسم بہتر ہونے کی بنا پر تینوں آگے بڑھے تھے۔ تاہم الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق جمعہ کے روز دوپہر کے وقت اچانک کے ٹو پر تیز ہواہیں چلنا شروع ہو گئیں تھیں۔
محمد علی سد پارہ اور ساجد علی پارہ باپ بیٹا ہیں جن کا تعلق گلگت بلتستان میں سکردو کے علاقے سد پارہ سے ہے۔ سد پارہ کا علاقہ مہم جوؤں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ محمد علی سد پارہ کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جنھوں نے 2016 میں سردیوں کی مہم جوئی کے دوران پہلی مرتبہ نانگا پربت کو سر کیا تھا۔ محمد علی سد پارہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے آٹھ ہزار میٹر کی آٹھ چوٹیاں فتح کرنے کے علاوہ ایک سال کے دوران آٹھ ہزار میٹر کی چار چوٹیاں سر کی ہیں۔ ان کے بیٹے ساجد علی سد پارہ کو کے ٹو فتح کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ساجد علی سد پارہ نے کوہ پیمائی کی تربیت اپنے والد ہی سے حاصل کی ہے۔ جان سنوری کا تعلق آئس لینڈ سے ہے۔ انھیں کے ٹو سمیت دنیا کی دس مختلف چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ جس میں دنیا کی دشوار گزار چوٹیاں بھی شامل ہیں۔ جے پی موپر کا تعلق چلی سے ہے اور وہ بھی ایک کہنہ مشق مہم جو سمجھے جاتے ہیں۔
