کیا پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی زندہ واپسی اب ناممکن ہے؟

دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی کوشش کرنے والے معروف پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت تین کوہ پیما لاپتہ ہو گے ہیں اور ان کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ سد پارہ کا جمعہ کے روز سے اپنے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ ان کی تلاش میں شروع کیے گئے ریسکیو مشن کے دوران آرمی ہیلی کاپٹروں نے 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی تاہم ابھی تک تینوں کوہ ہیماؤں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ محمد علی سد پارہ اور ساجد علی پارہ باپ بیٹا ہیں جن کا تعلق گلگت بلتستان میں سکردو کے علاقے سد پارہ سے ہے۔ سد پارہ کا علاقہ مہم جوؤں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔
سرچ مشن میں ناکامی اور آرمی ہیلی کاپٹر کی سکردو واپسی کے بعد محمد علی سدپارہ اور ان کے دو غیرملکی ساتھیوں کے واپس لوٹنے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کچھ روز پہلے ایک بلغارین کوہ پیما اسی مہم کے دوران گلیشیئر سے گر کر ہلاک ہو گیا تھا۔ تاہم سدپارہ دو روز پہلے کے ٹو سر کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کے بعد انہوں نے جمعہ کے روز واپسی کا سفر شروع کیا تھا لیکن اب ان کے بیس کیمپ تھری پہنچنے میں چوبیس گھنٹوں کی تاخیر ہوچکی ہے۔ اب بیس کیمپ میں بھی موسم بہت خراب ہو رہا ہے۔ آرمی کی ریسکیو ٹیم کا کہنا ہے کہ ہم مزید پیشرفت کے منتظر ہیں لیکن موسم اور ہوا ہمیں تلاش جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے رہے۔
دوسری طرف علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بحفاظت کیمپ ون میں پہنچ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ساجد سدپارہ بھی اپنے والد کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل تھے لیکن آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے کے باعث وہ نیچے کیمپ تھری پر آ گئے تھے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری کے مطابق آرمی ایوی ایشن کے دو ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا تھا اور انھوں نے اس سرچ آپریشن میں محمد علی سدپارہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے آٹھ کوہ پیما اور نیپال کے دو کوہ پیماؤں کے شریک ہونے کی اطلاع دی تھی۔ محمد علی سد پارہ کے مینجر راؤ احمد کا کہنا یے کہ جمعے سے ان کا تینوں کوہ پیماؤں سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے اور وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ محمد علی سدپارہ، ان کے ساتھی کو پیما آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جے پی موہر کے قریبی عزیزوں نے میدیا کو بتایا ہے کہ تینوں نے جمعے کی شام تک آٹھ ہزار میٹر کا سنگ میل عبور کر لیا تھا جس کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ وہ جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔
ٹورسٹ پولیس سکردو کے مطابق ان تینوں کی تلاش کا آپریشن شروع کیا جاچکا ہے اور تمام تر ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اس خطرناک مہم کے دوران تینوں کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطے کے لیے جان سنوری کے پاس موجود ٹریکر کے علاوہ ان کے پاس موجود سیٹلائیٹ فون اور واکی ٹاکی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ رابطے کے لیے جان سنوری اپنے پاس موجود ٹریکر ہر گھنٹے بعد آن کر کے اطلاع فراہم کردیتے تھے۔ انھوں نے جمعہ کے روز آخری مرتبہ اپنی خیریت کی اطلاع چار بجے فراہم کی تھی۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ نیپالی مہم جووں کی جانب سے کے ٹو کو سردیوں میں تاریخ میں پہلی مرتبہ فتح کرنے کے بعد محمد علی سد پارہ اور دو ساتھیوں نے اپنی مہم جاری رکھی تھی۔ اس مہم کے دوران جمعہ کے روز موسم بہتر ہونے کی بنا پر تینوں آگے بڑھے تھے۔ تاہم الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق جمعہ کے روز دوپہر کے وقت اچانک کے ٹو پر تیز ہواہیں چلنا شروع ہوگئیں تھیں۔
محمد علی سد پارہ اور ساجد علی پارہ باپ بیٹا ہیں جن کا تعلق گلگت بلتستان میں سکردو کے علاقے سد پارہ سے ہے۔ سد پارہ کا علاقہ مہم جوؤں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ محمد علی سد پارہ کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جنھوں نے 2016 میں سردیوں کی مہم جوئی کے دوران پہلی مرتبہ نانگا پربت کو سر کیا تھا۔ محمد علی سد پارہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے آٹھ ہزار میٹر کی آٹھ چوٹیاں فتح کرنے کے علاوہ ایک سال کے دوران آٹھ ہزار میٹر کی چار چوٹیاں سر کی ہیں۔ ان کے بیٹے ساجد علی سد پارہ کو کے ٹو اور ماوئنٹ ایورسٹ فتح کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ساجد علی سد پارہ نے کوہ پیمائی کی تربیت اپنے والد ہی سے حاصل کی ہے۔ جان سنوری کا تعلق آئس لینڈ سے ہے۔ انھیں کے ٹو سمیت دنیا کی دس مختلف چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ جس میں دنیا کی دشوار گزار چوٹیاں بھی شامل ہیں۔ جے پی موپر کا تعلق چلی سے ہے اور وہ بھی ایک کہنہ مشق مہم جو سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تینوں کو پیمانہ زندہ واپس آتے ہیں یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button