گالم گلوچ بریگیڈ مولانا طارق جمیل کو مزید متنازعہ بنا رہا ہے

تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے مولانا طارق جمیل کی جانب سے میڈیا اور پاکستانی قوم کے حوالے سے قابل اعتراض گفتگو کرنے اور پھر عوامی ردعمل آنے کے بعد اپنے ریمارکس پر معافی مانگ لینے کے باوجود سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔ مولانا طارق جمیل کے نام نہاد پیروکار اب بھی سینئر صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں حالانکہ مولانا نے سرعام میڈیا اور پوری قوم سے معافی مانگی ہے۔
یاد رہے کہ 23 اپریل کو وزیرِ اعظم عمران خان نے کرونا وائرس ریلیف فنڈ کے لئے ”احساس“ کے نام سے ٹیلی تھون نشریات میں شرکت کی جس میں ملک کے دس بڑے چینلز کے ٹاپ اینکرز کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جب اس ٹیلی تھون کے اختتام پر مولانا طارق جمیل کو دعا کے لئے بلایا گیا تو انھوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کو اُجڑا ہوا چمن قرار دیا بلکہ میڈیا کے بھی خوب لتے لئے۔ مولانا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جس طرح ماضی میں حکمرانانِ وقت کی مدح سرائی کرتے رہے ہیں، اسی طرح وہ آج کل عمران خان کی خوشامد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ”احساس“ ٹیلی تھون میں مولانا کو ملک کے بڑے ٹی وی چینلز کے نیوز اینکرز ایک ساتھ بیٹھے نظر آئے تو انھیں کپتان کی خوشامد کا ایک آسان موقع ہاتھ لگا اورانھوں نے یہ فتویٰ جاری کر دیا کہ جتنا جھوٹ میڈیا پر بولا جاتا ہے اور کہیں نہیں بولا جاتا۔ تاہم میڈیا کی طرف سے شدید ردعمل آنے کے بعد مولانا نے ایک چینل پر آ کر پوری قوم اور میڈیا سے معافی مانگ لی۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی، مولانا غلطی تو کر ہی چکے تھے لیکن اب مسئلہ اور بھی تھا کہ اپنے فالورز کا سامنا کس منہ سے کریں؟ چنانچہ انھوں نے یہ اہم فریضہ اپنے مرید فنکاروں کو سونپ دیا جو مولانا کو خوش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا فنکاروں کے جھرمٹ میں کچھ زیادہ ہی خوش رہتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بالی ووڈ ہو یا لالی ووڈ، فنکاروں کے ساتھ ان کی ایک سیلفی تو ہو ہی جائے۔ یاد رہے کہ بالی ووڈ ہیرو عامر خان کے ساتھ جب ان کی تصویر منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت بھی کافی چہ مگوئیاں ہوئی تھیں۔ ان کے انتہائی قریب رہنے والی خوبرو اداکارہ حمائمہ ملک کا تو پورا خاندان مولانا کے دفاع میں نکل کھڑا ہوا۔ ان کی بہن دعا ملک نے تو باقاعدہ روتے ہوئی اپنی ویڈیو شیئر کی ہے جبکہ ان کے بھائی فیروز خان، جنھوں نے حال ہی میں مولانا کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے شوبز سے کنارہ کشی کا اعلان کیا ہے کے علاوہ میرا، وینا ملک، رابی پیرزادہ، منیب بٹ، بلال قریشی، ہارون شاہد، عمران عباس، اعجاز اسلم اور کئی دوسرے فنکاروں نے بھی مولانا کے حق میں سوشل میڈیا کا محاذ سنبھال رکھا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا کے گالی بریگیڈ نے بھی ریس پر پاؤں رکھا ہوا ہے۔
تاہم اس تمام تر گالم گلوچ میں سوشل میڈیا پر ایک صارف نے حامد میر کی جرآت رندانہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر مولانا ظفر علی خان یا شورش کاشمیری میں سے کوئی ایک بھی آج زندہ ہوتا تو وہی کچھ لکھتا جو حامد میر لکھ رہے ہیں اور وہی کچھ کرتا جو حامد میر کر رہے ہیں۔ آج جبکہ عالمی استعمار اور مجاہدین اسلام کے درمیان تاریخی معرکہ کے آخری راؤنڈ کا بگل بج چکا ہے اور امریکہ کی قیادت میں پوری دنیائے کفر بوریہ نشین اور حریت پسند ملاؤں کو صفحہ ہستی سےمٹانے کے لیے کیل کانٹوں سے لیس ہو کر میدان جنگ میں اتری ہوئی ہے، میرے جیسے نظریاتی کارکنوں کو ایک عدد ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کا انتظار تھا جو قافلہ حق کا حدی خواں ہو اور باطل کو انہی کے بے لچک لہجے میں للکارے۔ یوں لگتا ہے کہ حامد میر کی صورت میں ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کے صحافتی کردار کا تسلسل ایک بار پھر قائم ہو رہا ہے اور میں اس کے لیے بارگاہ ایزدی میں سراپا تشکر ہو کر حامد میر کی ثابت قدمی اور استقامت کے لیے دعاگو ہوں۔
اس حوالے سے حامد میر کا کہنا ہے کہ مولانا طارق جمیل نے تو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لی لیکن لگتا یہ ہے کہ ان کے معافی مانگنے سے ان لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی جو مولانا طارق جمیل کی میڈیا مخالف تقریر سے خوش تھے اور سمجھ رہے تھے کہ مولانا نے اپنی تقریر میں میڈیا کو شرمندہ کر دیا۔ ان افراد میں زیادہ تعداد پاکستان تحریک انصاف والوں کی تھی۔ اب جب مولانا نے معافی مانگ لی ہے تو وہ لوگ اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے مجھ پر تنقید کر رہے ہیں یا ٹرینڈ چلا رہے ہیں، تو میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ حامد میر نے مزید کہا کہ جب مولانا طارق جمیل نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا نماز جنازہ پڑھایا تو تحریک انصاف کے بہت سے لوگوں نے اس پر بھی تنقید کی تھی۔ ویسے میں نے بطور صحافی مولانا طارق جمیل کو نواز شریف، پرویز مشرف اور اب عمران خان کی تعریف کرتے دیکھا ہے۔ وہ عالم دین ہیں لیکن میں نے تو انھیں ہر حکومت کے ساتھ ہی دیکھا ہے۔ میری رائے میں جو علمائے دین ہوتے ہیں وہ حکمرانوں کے اس طرح درباری نہیں بنتے۔ حامد میر کے مطابق مولانا نے معافی مانگ لی، ان کی طرف سے معاملہ ختم ہوگیا۔ اب اگر ان کے حامی اس کو ختم نہیں کرنا چاہتے تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔
