گرفتار ڈاکٹروں کی 50 ہزار روپے فی کس پر ضمانت

پشاور ہائیکورٹ نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت حراست میں لیے گئے تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی 50 ہزار روپے فی کس ضمانتی مچلکے اور اچھے سلوک کی تحریری یقین دہانی پر ضمانت منظور کرلی اور حکومت کو تمام افراد کو رہا کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے اپنے مختلف فیصلے میں کہا کہ زیرحراست ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کو اپنے متعلقہ ہسپتالوں میں واپسی سے متعلق ایک حلف نامہ بھی جمع کرانا ہوگا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی رہائی سے قبل 2 ذاتی ضمانتیں بھی فراہم کرنی ہوں گی۔پولیس کی جانب سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے حدود میں ریجنسل اینڈ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز ایکٹ 2019 کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی جبکہ اس دوران گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔
تاہم اس معاملے پر آج ہونے والی سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت بھی کہ وہ پشاور میں ڈاکٹرز پر مبینہ تشدد کی تحقیقات کرے اور 14 روز میں ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کو تفصیلی انکوائری رپورٹ جمع کروائے۔
قبل ازیں دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قیصر شاہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ جس دن تصادم ہوا، اس روز ضلعی انتظامیہ نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ کی درخواست پر ہسپتال کی حدود میں دفعہ 144 نافذ کی تھی۔اس پر ڈاکٹروں کے وکلا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف وہاں صرف اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے جمع تھا کہ جب پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کی۔
سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت ڈاکٹرز نے مریضوں کے علاج سے انکار کیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کا رویہ بھی نامناسب تھا ، چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو کہا کہ وہ اس احتجاج کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ریکارڈ بھی پیش کریں۔
دوران سماعت عدالت نے سرکاری نمائندے کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے تعلیم یافتہ لوگوں پر تشدد کر کے بہت ناانصافی کی ، اس سے قبل جمعرات کو عدالت میں چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس عبدالشکور کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے گرفتار ڈاکٹروں کی رہائی سے متعلق دو درخواستوں کی سماعت کی تھی۔
تاہم عدالت نے زیرحراست افراد کی رہائی کے لیے صوبائی حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان کسی نتیجہ پر نہ پہنچنے پر سماعت کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔عدالت کی جانب سے حکومت اور ڈاکٹروں کے وکلا کو کچھ وقت دیا گیا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button