گلوکار شہزاد رائے کے ‘واسو’ برے حال میں ہیں


معروف گلوکار شہزاد رائے کے ٹی وی پروگرام ‘واسو اور میں’ سے شہرت پانے والے بلوچی گلوکار واسو خان ان دنوں ’انتہائی غربت‘ اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یاد رہے کہ2011 میں شہزاد رائے نے یوٹیوب پر بلوچستان کے ایک گاؤں سے واسوخان کو ڈھونڈا تھا، واسو نے پاکستان کی سیاسی تاریخ اپنے منفرد انداز میں بیان کرنے سے شہرت حاصل کی تھی۔ گلوکار شہزاد رائے نے واسو کے ساتھ مل کر ایک مشہور گانا ’اپنے الو‘ بنایا، جس کے بعد ایک ٹی وی شو بھی سامنے آیا۔ ٹی وی پروگرام کی وجہ سے واسو کافی مقبول ہوئے لیکن پھر وہ گمنامی کی دنیا میں چلے گئے۔ حال ہی میں ایک صحافی نے واسو کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور ساتھ میں ان کی حالت زار بیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہ دو وقت کی روٹی کےلیے بھی محتاج ہیں کوئی شہزاد رائے کو جگا دے۔
تاہم ایک خبر رساں ادارے نے جب واسو سے رابطہ کیا تو انہوں اپنے مخصوص لہجے اور انداز میں حالات و واقعات سے آگاہ کیا تاہم انہوں نے اس تاثر کو زائل کیا کہ شہزاد رائے نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ انکی صحت سے متعلق دریافت کرنے پر واسو خان نے بتایا کہ میں بیمار ہوں۔ شوگر ہے مجھے، ٹانگ میں درد ہے، بخار بھی رہتا ہے، ابھی تو چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔’ شہزاد رائے سے تعلق کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘میں بیمار ہوگیا۔ اس نے میرا بہت علاج کرایا۔ دو لاکھ خرچ کیا۔ آغا خان اسپتال کراچی میں علاج کرایا۔ اب بھی اس کی بہت مہربانی ہے۔ وہ رابطہ کرتے ہیں۔ 24 گھنٹے رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گلوکاری چھوڑی نہیں اب بھی گاتا ہوں تاہم صحت کی وجہ سے ڈھیلا پڑگیا ہوں۔ صحت مند ہو کر شہزاد رائے کے ساتھ مزید گلوکاری کروں گا۔
ایک سوال کے جواب میں واسو خان نے بتایا کہ شہزاد رائے نے مجھے مکان لے کر دیا تھا 2010 کے سیلاب میں وہ گر گیا جس کو بیچ کر اپنا علاج کرایا۔ اب میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ شہزاد نے تو گھر دیا، پیسہ دیا بہت کچھ دیا ہے تاہم اپنی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہزاد رائے سے ناراضی سے متعلق سوال کے جواب میں واسو خان نے بتایا کہ وہ ناراض نہیں ہیں بلکہ شہزاد رائے کی مجھ سے ناراضی کی جو وجہ تھی وہ کام ہی میں نے چھوڑ دیا ہے۔ خیال رہے کہ واسو خان گزشتہ سال بیمار ہوئے تھے جس کے بعد شہزاد رائے انہیں کراچی لے گئے تھے جہاں ان کا علاج ہوا تھا۔ واسو خان کا تعلق ضلع جعفر آباد سے ہے اور وہ بلوچستان کی مقامی زبانوں کے علاوہ اردو، پنجابی اور سرائیکی میں گانے گاتے ہیں۔ واسو خان نے شہزاد رائے کے ساتھ گلوکاری کے علاوہ سماجی مسائل پر ‘میں اور واسو’ پروگرام میں بھی شرکت کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button