گلگت بلتستان میں آئینی بحران کا خطرہ ٹل گیا

گلگت بلتستان میں ایک بڑا آئینی بحران پیدا ہونے کا خطرہ اسوقت ٹل گیا جب سپریم کورٹ نے گلگت کی موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان میں نگران سیٹ اپ کے قیام اور نئے انتخابات کرانے کی اجازت دے دی۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت کی مدت معیاد 24 جون، 2020 کو ختم ہو رہی ہے جبکہ نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے آرڈر 2018 اور آرڈر 2019 میں کوئی شق شامل نہیں ہے جس کی وجہ سے گلگت میں نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
وفاقی حکومت نے نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے آرڈر 2018 اور آرڈر 2019 میں ترمیم کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ آرڈر 2018 میں ضروری ترامیم کی اجازت دی جائے تاکہ نگران حکومت کی شق اس میں شامل کی جا سکے جس پر چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے وفاق کی درخواست پردلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے وفاق کو آرڈر 2018 میں ترمیم کر کے نگران سیٹ اپ اور نیا الیکشن کرانے کی اجازت دے دی۔
دوران سماعت ایڈوکیٹ گلگت بلتستان نے عدالت کو بتایا کہ ’گلگت بلتستان حکومت کو وفاقی حکومت کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ گلگت بلتستان میں نئے انتخابات کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 کا اطلاق کر دیا جائے تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہو جائے گا؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ گلگت بلتستان میں نئے انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کون ہوگا؟ اس پر اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان میں پہلے سے موجود ہے۔عدالت نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق آرڈر 2018 ابھی لاگو ہے، تفصیلی فیصلے میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار واضح کردیں گے۔
اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تفصیلی فیصلے میں جو حل تجویز کیا جائے اس پر صدر مملکت سے حکومت الیکشن آرڈر جاری کروا لیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اس سے پہلے بھی گلگت بلتستان حکومت کی مدت ختم ہوتی رہی ہے۔ ماضی میں گلگت بلتستان میں الیکشن کس قانون کے تحت ہوتے رہے؟اٹارنی جنرل پاکستان نے بتایا کہ 2015 کا الیکشن آرڈر 2009 کے تحت ہوئے تھے جبکہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 نگران سیٹ آپ کے حوالے سے خاموش ہے۔ آرڈر 2018 میں نگران سیٹ اپ کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کے بعد حکومت نے اب تک قانون سازی کیوں نہیں کی؟ واضح رہے کہ پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں نافذ ہونے والے ایمپاورمنٹ اینڈ گورننس آرڈر 2009 کے تحت پہلےانتخابات 2009 جبکہ دوسرے انتخابات سنہ 2015 میں ہوئے۔ جون 2020 دوسرے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی کے پانچ سال پورے ہونے پر رواں برس تیسرے انتخابات ہونے ہیں۔حکومت پاکستان نے ستمبر 2009 میں گلگت بلتستان میں انتظامی، سیاسی، معاشی اور عدالتی اصلاحات پر مشتمل ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر دو ہزار نو نافذ کیا تھا۔
اس حکم نامے کے تحت گلگت بلتستان میں پہلے انتخابات کے بعد منتخب وزیر اعلیٰ نے اپنا عہدہ سنبھالا۔ اس سے پہلے بھی گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی تو تھی لیکن حکومت کا سربراہ چیف ایگزیکٹیو کہلاتا تھا اور یوں اس علاقے کی منتخب حیثیت غیر واضح تھی۔ حکومت پاکستان کی طرف سے 2009 میں گلگت بلتستان میں متعارف کرائے جانے والی نئی اصلاحات کے تحت گلگت بلتستان کی 15 اراکین پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی گئی، جس کے چیئرمین عہدے کے لحاظ سے پاکستان کے وزیر اعظم مقرر کیے گئے۔اس کے علاوہ کونسل میں وزیراعظم کے نامزد کردہ چھ پاکستان وزرا، جب کہ چھ اراکین کا انتخاب گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی سے طے پایا گیا۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ اور گورنر کونسل کے اراکین ہیں۔
مئی 2018 میں وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لیے اصلاحاتی آرڈر نافذ کیا گیا جس کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی، گلگت بلتستان اسمبلی کہلانے لگی۔ جس کے بعد گلگت بلتستان کو ارسا سمیت تمام وفاقی مالیاتی اداروں میں نمائندگی مل گئی۔
گلگت بلتستان میں آئینِ پاکستان کے تحت سٹیزن ایکٹ 1951 بھی لاگو کیا گیا۔ گلگت بلتستان چیف کورٹ کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان ہائیکورٹ رکھ دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button