گلگت بلتستان کورونا پر قابو پانے والا پاکستان کا پہلا علاقہ بن گیا

گلگت بلتستان کورونا وائرس پر قابو پانے والا پاکستان کا پہلا علاقہ بن گیا۔ نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہم نے وائرس پر قابو پا لیا ہے۔
حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سب سے پہلا مریض ہمارے پاس آیا تھا، جس کے بعد 60 لوگوں کے ٹیسٹ کئے گئے تاہم 6 مریض نکلے، انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کورونا کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی۔
پاک فوج اور وفاق نے ہماری بہت مدد کی۔ پاکستان بھر میں سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے صوبے میں کورونا وائرس سے بچاؤ اور لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کو ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط کیا جائے گا۔حکومت کا مقصد کسی کے کاروبار کو بند کرنا نہیں بلکہ قیمتی انسانی جانوں کو کورونا وائرس سے محفوظ بنانا ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران سماجی دوری اور ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ جو ماسک نہیں خرید سکتے ان کو مفت ماسک دیا جائے گا۔ بغیر ماسک باہر نکلنے والوں پر 100 روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ صوبے میں دکانوں کے اوقات کار میں 2 گھنٹے مزید نرمی کی جائے گی۔ ورکشاپس اور گارمنٹس کے دکانوں کو بھی شیڈول کے مطابق کھولا جائے گا۔
تاجر برادری کو ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کا پابند بنایا جائے گا۔ استور میں کورونا وائرس سے بچاؤ کےلیے ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کےلیے اقدامات کئے جائیں گے۔ استور میں کورونا وائرس سے بچاؤ کےلیے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ موبائل وینٹی لیٹر اور موبائل اسپتال فراہم کیا جائے۔ گلگت بلتستان میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی شرح دیگر صوبوں سے کم ہے لیکن تمام میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی کٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
