گلگت میں دہشتگرد دوبارہ منظم کیوں ہو رہے ہیں؟

حال ہی میں شمالی علاقے گلگت بلتستان اور اس کے پڑوسی ضلع اپر کوہستان میں رونما ہونے والے دہست گردی کے دو افسوسناک واقعات نے اسٹرٹیجک لحاظ سے پاکستان کے لیے حساس اور سیاحت کے لیے مشہور خطے میں شدت پسند گروہوں کے منظم ہونے کے حوالے سے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔
سات جولائی کو پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں ’مجاہدین گلگت بلتستان و کوہستان‘ نامی غیر معروف تنظیم سے وابستہ کمانڈرحبیب الرحمٰن کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ علاقے میں واپسی کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد خوف و ہراس پیدا ہو گیا تھا۔ اس کے ایک ہفتے بعد 14 جولائی کو ضلع دیامر سے متصل ضلع اپر کوہستان، جو خیبرپختونخوا کی حدود میں آتا ہے، اسکے علاقے داسو میں چینی انجینئرز کو لے جانے والی ایک بس کے ساتھ خود کش کار سوار بمبار کے ٹکرانے سے 10 چینی انجینئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے۔ ابتدا میں پاکستان نے اس واقعے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ قرار دیا لیکن چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا اور پاکستان سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
چینی حکام کے سخت ردعمل کے بعد پاکستان نے بھی اسے دہشت گردی کا واقعہ تسلیم کرتے ہوئے چین، پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک منصوبے کے خلاف سازش قرار دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ گلگت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے لیے ایک دروازے کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستانی وزارتِ داخلہ نے گلگت بلتستان کی حکومت سے خطے میں سی پیک سے وابستہ منصوبوں کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ہدایات جاری کرتی رہتی ہے۔ کئی ارب ڈالرز کے اس منصوبے میں چین کے شہر کاشغر سے آنے والے تجارتی ساز و سامان کی پہلی منزل گلگت ہو گی جہاں سے روٹ کے مطابق یہ سامان ملک کے مختلف حصوں سے ہوتا ہوا گوادر منتقل کیا جائے گا جب کہ اسی طرح گوادر بندر گاہ پر بحری جہازوں سے اترنے والا سامان بھی اسی روٹ کے ذریعے سے چین لے جایا جائے گا۔
یاد رہے کہ گلگت کے علاقے چلاس سے تعلق رکھنے والے شدت پسند کمانڈر حبیب الرحمٰن تقریباً تین برس بعد حال ہی میں اپنے ساتھیوں سمیت منظرِ عام پر آئے جس کے فوری بعد بعد چینی انجینئرز کی بس پر حملے کا واقعہ پیش آگیا۔ 7 جولائی کو مجاہدین گلگت بلتستان و کوہستان نامی تنظیم سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہوئے شدت پسند کمانڈر حبیب الرحمٰن جدید خود کار ہتھیاروں سے لیس اپنے نقاب پوش ساتھیوں کے ہمراہ بابو سر کی ایک پولو گراؤنڈ میں نظر آیا جہاں اس نے ایک کھلی کچہری منعقد کی۔ اس موقع پر کمانڈر حبیب الرحمٰن نے ایک یو ٹیوب چینل کو انٹرویو بھی دیا جس میں اسں نے حکومت اور ایک خفیہ ادارے کے ساتھ 2019 میں کیے جانے والے معاہدے پرعمل درآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
یاد رہے کہ کمانڈر حبیب کو گلگت پولیس نے جون 2013 میں نانگا پربت میں 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں کو قتل کرنے کے الزام پر گرفتار گیا تھا جب ضلع دیامر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں 10 غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں یوکرین، چین، امریکہ اور روس کے شہری شامل تھے جبکہ حملے کی ذمے داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ذیلی گروہ جنودِ حفصہ نے یہ کارروائی کی ہے جس کا مقصد امریکی ڈرون حملوں کے خلاف ردعمل دینا ہے۔ ستمبر 2013 میں کمانڈر حبیب الرحمن کی گرفتاری کے وقت حکام نے خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی حدود میں ایک مسافر بس پر دہشت گرد حملے کا مرتکب بھی اسی کو قرار دیا تھا۔ اس مسافر بس کو لالو سر کے مقام پر روک کر شناخت کے بعد 20 شیعہ مسافروں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
البتہ فروری 2015 میں کمانڈر حبیب الرحمٰن اپنے ساتھیوں سمیت گلگت شہر میں واقع جیل سے فرار میں ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا جسکی گرفتاری میں مدد کے لیے اس وقت گلگت بلتستان کی حکومت نے 20 لاکھ روپے کی رقم کا اعلان بھی کیا تھا۔
چلاس کے ایک سیاسی رہنما کے مطابق کمانڈر حبیب الرحمٰن کے بارے میں اسکے گاؤں میں یہ مشہور تھا کہ وہ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب حکومت کمانڈر حبیب الرحمٰن کی سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ویڈیو کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے کہ طالبان شدت پسند گلگت بلتستان میں فعال ہو چکے ہیں۔
دس جولائی کو سینیٹر شیری رحمٰن کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ اُمور کی بریفنگ کے دوران کمیٹی کے رکن سینیٹر مشاہد حسین سید نے جب شدت پسند کمانڈرکی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کیا گلگت بلتستان میں طالبان آ گئے ہیں؟ اس کے جواب میں وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا تھا کہ طالبان شدت پسندوں کی گلگت بلتستان میں کوئی منظم موجودگی نہیں ہے۔انہوں نے اسے پڑوسی ملک بھارت پر پروپیگنڈا ویڈیو بنا کر پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت ایسے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
گلگت بلتستان کے وزیرِ اطلاعات فتح اللہ خان نے بھی ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلگت بلتستان میں طالبان شدت پسند کی موجودگی کے حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
گلگت کی مرکزی امامیہ جامع مسجد کے علامہ آغا سید راحت حسین الحسینی کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے گلگت بلتستان و کوہستان کے امیر و دیگر ساتھیوں کا بابو سر کے مقام پر ریاستی اداروں سے کیے جانے والے معاہدے کا انکشاف کرنا اور سیاحت کے اس موسم میں اسی طرح کھلے عام دھمکیاں دینا حیران کن ہے۔ شیعہ عالم دین نے حکومت سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت شدت پسند گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کی ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف دیامر میں بلکہ پورے گلگت میں سیاحت اور پر امن ماحول کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
