گندم چینی بحران کے ملزمان کو بچانے کی کوششیں جاری

گندم اور چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹس سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے رپورٹس کے فرانزک آڈٹ کے لئے مزید تین ہفتے کی مہلت دیے جانے اور مختلف فورمز پر اس حوالے سے مزید تحقیقات کی ہدایات کو تجزیہ کار ملزمان کو بچانے اور کیس کو طول دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گندم اور چینی سکینڈل کی تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش ہوئی اور پبلک کر دی گئی۔ جس کے بعد وزیر اعظم نے ایف آئی اے کو 25 اپریل تک فرانزک رپورٹ مکمل کرنے کا حکم دیا تاہم مزید وقت کی استدعا پر وفاقی کابینہ نے فرانزک رپورٹس مکمل کرنے کیلئے مزید تین ہفتے کی مہلت دے دی ہے جس سے یہ معاملہ لٹکتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف فرانزک رپورٹس آنے سے قبل نیب، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت دیگر فورمز پر بھی گندم اور چینی بحران کو میگا سکینڈل قرار دے کر تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو نے 21 اپریل کو ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں گندم اور چینی بحران، قیمتوں میں اضافے، سمگلنگ اور سبسڈی سمیت تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات کی منظوری دی ہے۔ قانونی ماہرین مختلف فورمز پر گندم اور چینی سکینڈلز کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کو اصل ملزمان کی نشان دہی کے حوالے سے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔
سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کہتے ہیں کہ ‘بالآخر تمام رپورٹس کو جمع تو ایک ہی فورم پر ہونا ہے۔ جیسے نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ دیگر اداروں سے تحقیقات اپنے پاس منتقل کر سکتا ہے۔ لیکن انکوائری کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد فرانزک کرانے کے حکم نے معاملے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘جب تحقیقاتی کمیشن نے ملوث افراد کی نشاندہی کر دی تو اس کے بعد کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ تاہم نیب میں جانے سے معاملہ مزید طوالت پکڑے گا اور نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا’۔ سابق نیب پراسیکیوٹر شہزاد انور بھٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ‘ایف آئی اے اور نیب کی تحقیقات میں فرق یہ ہے کہ ایف آئی اے تحقیق یا تفتیش کرکے اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو بھجوا دے گی۔ وہ از خود کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ جبکہ نیب جو تحقیق اور تفتیش کرے گا، اس کی بنیاد پر ریفرنس بھی فائل کرے گا اور کیس کو منطقی انجام تک بھی پہنچائے گا۔
دوسری جانب طویل عرصے سے خاموش پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اپنا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ سابق نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق کا اس حوالے سے کہا ہے کہ ‘پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی اس معاملے میں مداخلت خوش آئند ہے۔ کیونکہ تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ حکومت ایف آئی اے کی تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اور یہ کہ حقائق کو دبایا جا سکتا ہے لہٰذا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جیسی طاقتور پارلیمانی کمیٹی کا اپنے طور پر اس معاملے کی جانچ پڑتال اور نگرانی کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اتنے بڑے معاشی سکینڈل کو صرف ایف آئی اے کے رحم و کرم پر چھوڑنا مناسب حکمت عملی نہیں۔’
بات یہیں پر نہیں رکتی بلکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے گندم چینی بحران کے تناظر میں خصوصی آڈٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مشترکہ آڈٹ ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے خصوصی آڈٹ کے لیے وزارت خزانہ، صنعت و پیداوار اور قومی تحفظ خوراک و تحقیق کے سیکرٹریز، گورنر سٹیٹ بینک، چئیرمین ایف بی آر کو خط لکھ کر تمام آکاونٹس کی تفصیلات اور متعلقہ ریکارڈ ٹیم کو دینے اور تعاون کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
اس صورت حال میں ایک عام شہری کے ذہن میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ دراصل کس ادارے کی تحقیقات کی بنیاد پر کسی ملزم کو مجرم ٹھہرا کر سزا دی جائے گی اور قومی دولت واپس خزانے میں جمع ہو گی؟ ڈاکٹر خالد رانجھا کہتے ہیں کہ جگہ جگہ پر تحقیقات کا ملزمان کو ہی فائدہ ہوگا۔ ملزم کی تو کوشش ہوتی ہے کہ وہ تاریخ پر تاریخ لے تاکہ وہ ثبوت ختم کر سکے۔ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکے۔ لہذا موجودہ صورت حال میں فرانزک رپورٹ جاری کرنے میں تاخیر حکومت کی اس معاملے میں بد نیتی ظاہر کر رہی ہے جس کا واحد مقصد معاملے کو الجھا کر ملزمان کو ریلیف دینا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button