گنیش مندر مرمت کے بعد ہندو برادری کے حوالے

رحیم یار خان میں مشتعل ہجوم کی جانب سے توڑ پھوڑ کا نشانہ بننے والے گنیش مندر کو مرمت کے بعد دوبارہ ہندو برادری کے حوالے کر دیا گیا ہے ، ہندو برادری کی جانب سے کمیٹی کے رہنما اور سابق ایم پی اے کانجی رام نے بتایا کہ مندر کی مرمت حکومت کا بہت اچھا اقدام ہے ، مندر کے ارد گرد چار دیواری بھی بنائی جائے گی جس میں دو سے تین گیٹ نصب ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا ہے کہ دو سے تین پولیس چوکیاں مندر کے ارد گرد مستقل طور پر قائم کر دی جائیں گی تاکہ مندر اور یہاں آنے والے محفوظ رہیں۔کانجی رام کا کہنا تھا کہ یہ چند شر پسند عناصر کی کارروائی تھی جس کا الزام پوری برادری کو نہیں دیا جا سکتا۔
حکومت نے ہمیں کہا ہے کی مندر میں دوبارہ پوجا پاٹ شروع کریں جو ہم کر رہے ہیں لیکن اس وقت پوجا پاٹ مورتیوں کے بغیر کی جا رہی ہے کیونکہ یہاں 10 سے 12 مورتیاں تھیں جو حملے کے دوران شر پسندوں نے توڑ دیں تھیں۔انہوں نے بتایا کہ مورتیاں بنانے کے لیے ایک کاریگر ہے جو سانگڑھ میں ہے اور ایک مورتی بنانے میں ایک مہینے کا وقت لگتا ہے۔
کانجی رام نے بتایا کہ ضلعی حکومت نے ہمیں کہا ہے کہ ہم اس کاریگر کو بلوائیں اور مورتیاں بنوائیں اور جو بھی اس کا بجٹ ہوگا وہ حکومت پاکستان دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ گیارہ اگست کو اقلیتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کے حوالے سے فیصلہ ہوا ہے کہ پورا رحیم یار خان ضلع یہ دن بھونگ شریف کے اس مندر کے باہر منائے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ایک مشتعل ہجوم نے مندر کے داخلی دروازے کو آگ لگا دی تھی اور اندر موجود مورتیوں کو نقصان پہنچایا تھا جس دن یہ واقعہ پیش آیا تھا اُس دن پاکستان میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے کپل دیو نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا ایک قول اور حملے کی ویڈیو ٹویٹ کی تھی۔
ہجوم اس بات پر اشتعال میں آیا تھا کیونکہ عدالت نے آٹھ سالہ ہندو بچے کو ضمانت دے دی تھی جس نے مقامی مدرسہ دارالعلوم عربیہ تعلیم القرآن میں مبینہ طور پر پیشاب کر دیا تھا۔ہندو لڑکے کو مدرسے کی لائبریری میں قالین پر مبینہ طور پر پیشاب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لائبریری میں مذہبی لٹریچر رکھا ہوا تھا۔ اس وقت وہاں موجود ہجوم کا کہنا تھا کہ لڑکا مبینہ طور پر توہین مذہب کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا پاکستان میں موت ہے۔
حکام نے بعد میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا تھا جن پر ہندوؤں کے مندر پر حملہ کرنے کا شبہ تھا اور ان کو مندر کی مرمت کے اخراجات ادا کرنے کو کہا گیا تھا۔مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں ہندو اور مسلمان برادریاں پر امن طریقے سے رہتی ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران چند موقعوں پر مندروں پر حملے بھی کیے گئے ہیں تاہم اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مندروں کی تعمیر بھی کی گئی ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ اس معاملے کی چھان بین کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ پاکستان کا آئین اقلیتوں کو آزادی فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی عبادات آرام سے کر سکیں۔
رحیم یار خان پولیس کے ترجمان احمد نواز کے مطابق 24جولائی کو مدرسے کے نائب امام حافظ ابراہیم نے دیگر افراد کے ہمراہ تھانے میں ایک نو سالہ بچے کو پیش کیا اورمقدمہ درج کرایا کہ یہ بچہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور اس نے مدرسے کی لائبریری میں کھڑکی سے گھس کر پیشاب کیا اور ناپاک ہاتھ الماری کو لگائے، اس نے توہین مذہب کی ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے بچے کو گرفتار کرلیا اور چار اگست بروز بدھ مقامی عدالت میں پیش کیا، عدالت نے بچے کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دیا تو عدالت کے باہر موجود مدرسے کے طلبا اور اساتذہ مشتعل ہوگئے جس کے بعد احتجاج شروع کر دیا گیا۔
احمد نواز کے مطابق مظاہرین نے بھونگ شریف میں مندر کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ شروع کر دی اور بازار بھی بند کروا دیا۔ مظاہرین نے صادق آباد روڑ بلاک کیے رکھی، پولیس نے انہیں پر امن منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن حالات زیادہ کشیدہ ہونے پر رینجرز طلب کرنی پڑی لہٰذا کئی گھنٹے بعد روڑ خالی کرا لی گئی اور مظاہرین کو بھی منتشر کر دیا گیا۔
بشکریہ :اردو انڈیپینڈنٹ
