گورنر سندھ عمران اسمٰعیل میں کرونا وائرس کی تصدیق

سندھ کے گورنر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمران اسمٰعیل بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عمران اسمٰعیل نے کہا کہ ‘مجھ میں کورونا کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے، لیکن اللہ کرم کرنے والا ہے اور میں اس کا مقابلہ کروں گا۔’انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان نے ہمیں مشکلات سے لڑنا سکھایا ہے اور میرے خیال میں یہ اس سے بلکل مختلف نہیں ہے جو ہم نے سیکھا ہے۔’

گورنرسندھ نے کہا کہ میں نے خودکو آئسولیٹ کرلیاہے، مجھے گزشتہ رات ہی خود کو قرنطینہ کرلینا چاہیے تھا، لیکن آج صبح کیا’۔گورنرسندھ نے مزید کہا کہ ‘جن لوگوں سے میری ملاقاتیں رہیں ان کو بتادیا ہے، اہلخانہ کے ٹیسٹ بھی کرارہا ہوں، عوام سے دعاؤں کی اپیل ہے، طبیعت بہتر ہے کوئی پریشانی نہیں ہے’۔
یاد رہے کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پچھلے دو ہفتے انتہائی مصروف گزارے اور انہوں نے اس دوران اندرون سندھ کے دورے اور ملاقاتیں کیں۔گورنرسندھ نے 16 اپریل کو کراچی الیکٹرونک مارکیٹ اور تاجروں کے وفد سے ملاقات کی تھی جبکہ 20 اپریل کو مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان اور شہنشاہ نقوی سے ملاقات کی۔گورنر سندھ نے 20 اپریل کو دعوت اسلامی کے مرکز فیضان مدینہ کا دورہ کیا تھا اور اسی روز انجمن تاجران سندھ کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی تھی۔
گورنر سندھ نے 21 اپریل کو معروف صنعت کاروں کے 25 رکنی وفد اور تاجروں سے ملاقات کی تھی۔گورنر سندھ نے 22 اپریل کو حیدرآباد اور جامشورو میں مصروف دن گزارا جہاں پی ٹی آئی ارکان حلیم عادل شیخ، جمال صدیقی اورسدرا عمران ان کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد سومرو اور ڈی جی احساس پروگرام نےگورنرکوبریف کیا تھا جبکہ انہوں نے کوٹری میں گرلزکالج میں احساس سینٹر کا دورہ کیا تھا۔ڈپٹی کمشنر جامشورو کے آفس میں گورنرسندھ کوبریفنگ بھی دی گئی جبکہ انہوں نے ضلع مٹیاری میں اپنےاعزاز میں تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔
گورنرسندھ نے 24 اپریل کو جیولرزمینیوفیکچرایسوسی ایشن، بیوٹی پارلرایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی تھی جس میں صباح انصاری، نادیہ حسین اور این جی مارشل شامل تھے۔اسی روز عمران اسماعیل نے فیلڈ آئیسولیشن سینٹر کو حفاظتی لباس دینے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں عمران اسماعیل نے اندرون سندھ کا دورہ کیا تھا اور اس دوران حیدرآباد، ٹھٹھہ ، سجاول، مٹیاری اور دیگر علاقوں میں گئے تھے اور وہاں احساس ایمرجنسی کیش کی تقسیم کا بھی جائزہ لیا تھا۔اس دورے کی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران اسماعیل لوگوں کے درمیان کھڑے ہیں اور سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا گیا جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے تنقید بھی کی تھی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں سیاسی رہنما کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔دو روز قبل متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بلدیات و دیہی ترقی کامران بنگش میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔کامران بنگش کا کورونا کا ٹیسٹ ہفتہ کو خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کی لیبارٹری میں ہوا جس کا نتیجہ مثبت آیا۔معاون خصوصی نے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں وائرس کی کچھ علامات ظاہر ہوئی تھیں جس کے بعد انہوں نے ٹیسٹ کرایا جس میں ان کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مشورے پر انہوں نے خود کو گھر میں ہی آئیسولیٹ کر لیا ہے اور وہ بہتر محسوس کر رہے ہیں۔
دوسری جانب قبائلی ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی کو وائرس کی تصدیق کے بعد حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے آئیسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا تھا۔
قبل ازیں وزیر تعلیم سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سعید غنی نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی اور وہ صحتیاب ہوگئے تھے۔
سعید غنی 23 مارچ کو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ٹوئٹر پر ہی ایک ویڈیو میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ روز میں نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے’۔انہوں نے مزید کہا کہ تاحال جو علامات اس وائرس کی بتائی جاتی ہیں ان میں سے انہیں کچھ محسوس نہیں ہورہا اور وہ خود کو بالکل صحتمند محسوس کررہے ہیں۔30 مارچ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو ٹوئٹ میں سعید غنی نے بتایا کہ ‘الحمدللّٰہ، آج میرے کورونا وائرس کے ہونے والے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آئی ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق میں بالکل صحت مند ہوں اور جہاں سے کام چھوڑا تھا سے وہیں سے دوبارہ شروع کروں گا۔’
24 اپریل کو سندھ سے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی سید عبدالرشید میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔سید عبدالرشید لیاری سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس-108 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں کورونا وائرس کے دوران اپنی ٹیم کے ہمراہ سماجی سرگرمیوں میں مصروف تھا اور ڈاکٹرز کی ہدایت پر میں نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا اور مجھ میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں فوری طور پر ہوم آئسولیشن میں آ گیا ہوں، فی الحال کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور دو تین دن آئسولیش میں رہنے کے بعد میں ٹیسٹ دوبارہ کرواؤں گا۔
