گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کو ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا : خالد مقبول صدیقی

چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کو ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ ہماری حکومت کے ساتھ اعتماد میں بہت کمی آئی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کامران ٹیسوری بہت اعتماد سے گورنر ہاؤس چھوڑ کرگئے ہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت سے بات کی کہ سندھ کے شہری علاقوں سے گورنر بننے کی روایت تھی۔سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ ہمارے پاس ہمیشہ سےرہا ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ کراچی کے فنڈز سے موٹرویز بنتے ہیں لیکن کراچی حیدرآباد کا کوئی موٹروے نہیں ہے۔ہیوی ٹریفک شہر کے بیچ سے گزرتا ہے اور کتنے لوگوں کو کچل دیتا ہے،کراچی میں جس طرح زمینوں پر قبضہ ہوا ہے لگتا ہے کہ اس پر قومی اتفاق رائے ہے۔
دھمکیوں کے باوجود ایم کیو ایم اسی تنخواہ پر نوکری کرے گی
چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے انتخابات سے قبل کہا تھاکہ تعلیم کی وزارت مل گئی تو تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے،ہم نے صدر سے درخواست کی کہ کراچی میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق اپنا کردار ادا کریں۔
