گومل یونیورسٹی: لڑکیوں کو بلیک میل کرنے والے پروفیسرکا اعتراف جرم

گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں گریڈ 21 کے ڈین فیکلیٹی آف اسلامیات پروفیسر حافظ صلاح الدین نےخواتین طالبات کو بلیک میل اور ہراساں کرنے کے الزامات پر گرفتاری کے بعد دوران تفتیش اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ تھانہ کینٹ پولیس نے جنسی سکینڈل میں ملوث گومل یونیورسٹی کے پروفیسر صلاح الدین کو یونیورسٹی سے برطرفی کے بعد جامعہ کی طالبات اور کچھ لیکچرار حضرات کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے جامعہ کے لیکچرار شہریار کی مدعیت میں پروفیسر حافظ صلاح الدین کے خلاف زیر دفعہ 250 ٹیلی گراف اور زیر دفعہ 166,500,506 پی پی کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کیا۔ ڈی ایس پی سٹی سرکل محمد اقبال بلوچ کا کہنا ہے کہ ایسی تمام طالبات اور اساتذہ جن کو پروفیسر حافظ صلاح الدین کی جانب سے ہراساں کیا گیا وہ فوری طور پر ڈسٹرکٹ پولیس یا محمد اقبال بلوچ ڈی ایس پی سے رابطہ کریں تاکہ اس جنسی درندے کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران پروفیسر حافظ صلاح الدین نے طالبات کو ہراساں کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ دس سال سے بلیک میلنگ کا کام کر رہا ہے اور کتنی ہی لڑکیوں کو بلیک میل کر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق حافظ صلاح الدین نے بتایا کہ وہ عام طور پر طالبات کو فیل کرنے کی دھمکی دے کر، پیپرز میں فیل کر کے یا نمبر بڑھانے کا لالچ دے کر واردارت کرتا تھا۔ پروفیسر صلاح الدین نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسے گومل یونیورسٹی کے بعض اعلی عہدیداروں کی حمایت حاصل تھی اور وہ بعض مخصوص طالبات کو ان عہدیداران کے پاس بھیجتا تھا۔ چنانچہ اگر اس کے خلاف کوئی شکایت آتی تو اسے دبا دیا جاتا تھا۔ پروفیسر حافظ صلاح الدین کا کہنا ہے اسے گومل یونیورسٹی میں تین اعلی ترین عہدے بھی اسی لئے دئیے گئے تھے۔ دریں اثنا پروفیسر کے کرتوت ایک سٹنگ آپریشن میں سامنے آنے پر گومل یونیورسٹی کے بعض اعلی عہدیدران میں خوف کی کیفیت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گومل یونیورسٹی کے دوپروفیسروں نے پولیس حراست میں پروفیسر حافظ صلاح الدین سے ملاقات کی۔ جبکہ گومل یونیورسٹی نے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں باریش پروفیسر کو برطرف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ ایک اعلی تعلیمی ادارے میں ملی بھگت سے ایسا گھناونا کھیل سالوں سے کھیلا جا رہا ہےتھا اور متعدد شکایات سامنے آنے کے باوجود اس مولوی نما شیطان کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
