گومل یونیورسٹی کا حریم شاہ مافیا وی سی کو بلیک میل کرنے لگا

پاکستانی سیاست میں ہلچل مچانے والی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کے بعد گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسمعیل خان میں بھی ایک حریم شاہ کی موجودگی کے چرچے ہیں جس کے پاس کئی اہم شخصیات کی ویڈیوز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حریم شاہ عورت نہیں بلکہ مرد ہے جو جامعہ کے مختلف افسران، اساتذہ اور اہم شخصیات کے راز لئے بیٹھا ہے اور انہیں بلیک میل کر رہا ہے۔
معروف سیاسی وسماجی شخصیات کی ویڈیوز اور آڈیوز افشا کر کے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچانے والی حریم شاہ کی طرح گومل یونیورسٹی میں حریم شاہ جیسے کردار کے حامل ایک مردانہ کردار نے اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ درجنوں سرکاری افسران اور اساتذہ کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیوز رکھنے کے دعویداراس مافیا کی طرف سے یونیورسٹی طالبات اور اساتذہ کو بلیک میل کر کے ان کی عزتوں سے کھلواڑ جاری ہے۔
حال ہی میں گومل یونیورسٹی سے طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں برطرف ہونے والے پروفیسر حافظ صلاح الدین جیسے درجنوں جنسی درندے اس طاقتور مافیا کا حصہ ہیں، یونیورسٹی میں نوکریوں کا لالچ دے کر، فیل کرنے کی دھمکی دے کر اور نوکری سے برخاستگی کی تڑی لگا کر حافظ صلاح الدین جیسے اساتذہ نما جنسی درندے آج بھی اپنے گھناؤنے عزائم پورے کر رہے ہیں۔ گومل یونیورسٹی میں ایک خفیہ آپریشن میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور ویڈیوز ثبوت سامنے آنے کے باوجود یہ طاقتور مافیا اپنے اہم کارندے صلاح الدین کو بحال کروانے کیلئے متحرک ہو چکا ہے اور اب تو یہ اطلاعات ہیں کہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کو بھی بلیک میل کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گومل یونیورسٹی کے مردانہ حریم شاہ کے پاس وائس چانسلر سمیت کئی اساتذہ اور طالبات کی درجنوں ویڈیوز موجود ہیں جن کی بنیاد پر وہ پروفیسرحافظ صلاح الدین کو بحال کروانے کے لیے حکام کو بلیک میل کر رہا ہے لیکن انہی ویڈیوز کے باعث اس طاقتور مافیا اور اس کے کارندوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے طاقتور مافیا کو ہر قسم کی کرپشن اور جنسی ہراسانی کے باوجود تحفظ میسر ہے اور وہ بے خوف و خطر اپنے گندے دھندے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق گومل یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے جنسی سکینڈل میں پکڑے جانے والے حافظ صلاح الدین نے نوکری سے فارغ ہونے پر مافیا کے سرغنہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر ان کو بحال نہ کروایا گیا تو وہ سب کو بےنقاب کردے گا جس پر یونیورسٹی کے طاقتور مافیا میں بے چینی پھیل چکی ہے اور صلاح الدین کی بحالی کیلئے ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گومل یونیورسٹی کے حریم شاہ کے طاقتور مافیا کا حصہ صرف یونیورسٹی اساتذہ یا انتظامی افسران ہی نہیں بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عہدیداران، سول سوسائٹی کے نمائندے، صحافی اور اعلیٰ افسران، سماجی تنظیمیں و دیگر اہم شخصیات بھی اس کا حصہ ہیں جو اپنے ضمیروں کا سودا کرکے حریم شاہ مافیا کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ عوامی دباؤ کو کم کرنے کیلئے گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر یونیورسٹی کے 2 پروفیسرز اور عملے کے 2 ملازمین کو ان کی ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ جامعہ کے ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ چاروں ملازمین پر الزام ثابت ہونے پر ان کے خلاف فیصلہ کیا گیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر عمران قریشی، پروفیسر ڈاکٹر بختیار خان، گیم سپروائزر حکمت اللہ اور لیب اٹینڈنٹ حفیظ اللہ کو 3 مارچ کو ‘جنسی طور پر ہراساں کرنے’ کا الزام ثابت ہونے کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے.
