گومل یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کا تشدد ‘شرمناک عمل’ قرار

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی میں اتنظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کے تشدد اور ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔محسن داوڑ نے ٹوئٹ میں یونیورسٹی میں پرامن مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد اور طلبہ تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کی گرفتاری کو قابل مذمت اور شرمناک حرکت قرار دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنہیں گرفتار کیا گیا انہیں فوری رہا کیا جائے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل نے بھی ٹوئٹ میں کہا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گومل یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج اور موقف کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مسائل حل کرنے کے بجائے پولیس تشدد اور ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں سمیت یونیورسٹی کو بند کرنے کا اقدام ‘بلاجواز’ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے جائز مطالبات فوراً تسلیم اور یونیورسٹی میں تدریسی عمل بلاتاخیر بحال کیا جائے۔مقامی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی درخواست پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 147 (ہنگامہ آرائی کی سزا)، 149 اور 341 کے تحت 9 طلبا کی گرفتاری کے بعد احتجاج نے پرتشدد موڑ اختیار کرلیا۔ذرائع نے بتایا کہ طلبہ کے خلاف پہلی ایف آئی آر 14 فروری کو درج ہوئی جبکہ دوسری ایف آئی آر منگل کی رات درج کی گئی۔
طالبعلم رہنما پیر قیصر نے ڈان نیوز ٹی وی کو بتایا کہ پولیس نے منگل کے روز طاقت کا استعمال کیا اور طلبہ پر لاٹھی چارج کیا۔علاوہ ازیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج پر امن تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی احتجاج روکنے کے لیے پولیس کو استعمال کررہی ہے۔علاوہ ازیں ڈان نیوز ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار ظاہر شاہ نے کہا کہ طلبہ کے 16 مطالبات میں سے 14 مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود طلبہ شہر کی اہم سڑکوں پر مستقل احتجاج کر رہے ہیں جس کے باعث امن و امان کی صورتحال کا خطرہ لاحق ہورہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا 25 طلبہ پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘طلبہ نے مطالبہ کیا تھا کہ یونیورسٹی نے فیسوں کو 36 ہزار 500 روپے سے کم کرکے 30 ہزار روپے کردی جو ہم نے قبول کرلی لیکن وہ ابھی بھی احتجاج کررہے ہیں۔اس ضمن میں ، پیر قیصر نے کہا کہ یونیورسٹی نے تاحال اس بارے میں کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا۔ڈپٹی رجسٹرار ظاہر شاہ نے دعوی کیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ متعدد مرتبہ اپنے امتحانات میں ناکام رہے اور اب وہ ‘گولڈن ٹریٹمنٹ’ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ یونیورسٹی سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ان کے لیے خصوصی ضمنی امتحانات کا انتظام کریں جو قواعد کے منافی ہے۔جب اس ضمن میں ڈسٹرکٹ پولیسافسر وحید محمود سے رابطہ کیا گیا تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
