گوگلی نیوز اعظم سواتی کے خلاف سپریم کورٹ میں سرخرو


گوگلی نیوز اعظم وزیر ریلوے اعظم سواتی کے خلاف ایک خبر کے معاملے میں سپریم کورٹ سے سرخرو ہو گیا ہے۔ ایف آئی اے نے وزیر ریلوے اعظم سواتی کی جانب سے اپنے جگری دوست شاہ رخ کو غیر قانونی طور پر رائل پام کنٹری کلب کا کرتا دھرتا مقرر کرنے کی جو خبر بریک کرنے پر گوگلی نیوز پر کیس بنایا تھا اس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر ریلوے کے مشیر شاہ رخ خان کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یوں گوگلی نیوز اس معاملے میں بھی سرخرو ہوا اور ایف آئی اے ایک مرتبہ پھر پھر ذلیل و رسوا ہو گیا۔
یاد رہے کہ گوگلی نیوز نے یہ خبر بریک کی تھی کہ وزیر ریلوے اعظم خاں سواتی نے اقربا پروری کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے ایک دوست شاہ رخ کو امریکہ سے بلوا کر پہلے تو اپنا مشیر مقرر کیا اور پھر اسے ڈنڈے کے زور پر ریلوے کے زیر انتظام چلنے والے رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور کا انتظامی کنٹرول بھی دلوا دیا۔ یہ خبر بریک کرنے پر وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ایف آئی اے کو گوگلی نیوز کے سی ای او عامر میر کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست دی تھی چنانچہ ایف آئی اے نے انہیں 26 جعن کو اسلام آباد طلبی کا نوٹس جاری کردیا تھا۔ اپنے تحریری جواب میں عامر میر کا مؤقف تھا کہ یہ رپورٹ سو فیصد حقائق پر مبنی ہے اور انکے پاس اسکے ثبوت موجود ہیں۔ اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد انکا موقف درست ثابت ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پبلک آفس میں ایسی غیر قانونی تقرریاں نہیں کی جا سکتیں، تقرریوں کے قوانین اور پورا طریقہ کار موجود ہے، لہذا وزیرریلوے اعظم سواتی کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ شاہ رخ کو رائل پام کنٹری کلب کا چارج دے دیتے۔ جج نے سوال کیا کہ کیا سیکرٹری ریلوے نے اپنے وزیر کو نہیں بتایا تھا کہ وہ گالف کلب میں ایسے غیر قانونی بھرتی نہیں کر سکتے؟ انہون نے کہا کہ گالف کلب میں انتظامیہ کی تقرریاں عدالتی حکم پر ہوئی تھیں اور وزیر ریلوے کی جانب سے اپنے دوست کو مشیر مقرر کرنا عدالتی فیصلے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گالف کلب میں کی جانے والی یہ تقرری عدالت کے علم میں کیوں نہیں لائی گئی؟ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی دانستہ طور پر کی گئی۔ اس موقع پر جب اعظم سواتی کے وکیل نے بتایا کہ شاہ رخ کی تقرری بغیر تنخواہ کے کی گئی ہے تو انہوں نے غصے سے جواب دیا کہ کیا حکومت پاکستان چیریٹی پر چل رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اداروں کی بہتری چاہتے ہیں، انہیں مستقبل میں محفوظ ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں، ریلوے گالف کلب میں کسی قسم کی بھرتیاں یا انتظامیہ میں رد و بدل برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے اولڈ ریلوے گالف کلب کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ گوگلی نیوز نے یہ خبر بریک کی تھی کہ وزیر ریلوے اعظم خاں سواتی نے اقربا پروری کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے ایک دوست شاہ رخ کو امریکہ سے بلوا کر پہلے تو اپنا مشیر مقرر کیا اور پھر اسے ڈنڈے کے زور پر ریلوے کے زیر انتظام چلنے والے رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور کا انتظامی کنٹرول بھی دلوا دیا۔ یوں اب اعظم سوستی اور شاہ رخ کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ گوگلی نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شاہ رخ خان ریلوے پولیس اور ریلوے گارڈز کی بھاری نفری کے ہمراہ رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب میں زبردستی گھس کر اس کا انتظامی کنٹرول سنبھال چکے ہیں جبکہ کلب کے چیف فنانشل آفیسر سے زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔ کنٹری کلب کے جنرل مینجر اور ڈائریکٹر فوڈ اینڈ بیوریجز کو بےدخل کر کے ان کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے اور ان پر بھی استعفے دینے کیلئے دباو ڈالا جا رہا ہے لیکن وہ ابھی تک ایسا کرنے سے انکاری ہیں۔ کنٹری کلب کے انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ پر بھی استعفے کیلئے دباؤ ہے اور ان کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ شاہ رخ نے کلب کا کنٹرول لینے کے فوری بعد اپنے ایک قریبی ساتھی کو چیف فنانشل آفیسر بنا دیا ہے حالانکہ اسکی بنیادی قابلیت بھی اکاوئنٹس اور فنانسنگ کی نہیں ہے۔ اسی طرح رائل کنٹری کلب کے گالف کورس مینجر روشن کو بھی شاہ رخ انتظامیہ نے ریلوے پولیس کے ذریعے دھمکیاں دی ہیں اور ان سے بھی استعفیٰ مانگا جا رہا ہے۔
گوگلی نیوز کی رپورٹ کے مطابق شاہ رخ بطور مشیر وزیر ریلوے اعظم سواتی کے زبانی احکامات پر کنٹری کلب کے امور چلا رہے تھے اور کوئی تحریری حکم نہیں دے رہے تھے جس کو کسی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے۔ کلب ملازمین کی برخاستی اور نئی بھرتیوں کے احکامات بھی زبانی جاری کیے جا رہے تھے۔ اسی طرح انٹر ڈیپارٹمنٹل تبادلے بھی کیے جا رہے تھے اور پرانے ملازمین کو نئی انتظامیہ کا ساتھ دینے پر ترقیوں کا لالچ بھی دیا جا رہا تھا۔
گوگلی نیوز کی رپورٹ کے۔مطابق قوائد و ضوابط کے تحت چیئرمین ریلوے کی سربراہی میں ایک مینجمنٹ کمیٹی کے ذریعے کنٹری کلب کے امور چلائے جاتے ہیں جبکہ شاہ رخ بطور مشیر وزیر ریلوے مینجمنٹ کمیٹی سے کوئی منظوری لیے بغیر ہی تمام معاملات چلا رہے تھے اور فیصلے کر رہے تھے۔ اس صورتحال سے کنٹری کلب کے ملازمین خوفزدہ تھے اور کلب ممبران میں تشویش پھیل چکی تھے۔ کلب کے متاثرہ اعلیٰ انتظامی افسران بشمول وائس پریزیڈنٹ احمد اقبال سعید، سی او علی ایوب اور ڈائریکٹر فوڈ اینڈ بیوریجز محمد امتیاز نذیر نے کلب صورتحال کی سنگینی پر سیکرٹری ریلوے اور سی ای او ریلوے کو ایک خط بھی لکھا تھا اور الزام لگایا کہ انہیں ہراساں کیا جارہا ہے اور زبردستی استعفے لینے کیلئے دباو ڈالا جارہا ہے۔ متاثرہ ملازمین نے کلب کا غیر قانونی قبضہ واپس کرنے اور برخاست شدہ ملازمین کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ متاثرہ انتظامی افسران نے وزیر ریلوے کی جانب سے کلب کے امور زبردستی اپنے دوست کو سونپنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ قراردے چکی تھی کہ کنٹری کلب ممبرز کے رائٹس کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونے چاہیئں جبکہ ملازمین کو بھی تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے پرائیویٹ سیکٹر میں کلب چلانے کیلئے نئی انٹرنیشنل بڈنگ کروانے کا حکم بھی دیا تھا اور اس حوالے سے ٹینڈرز بھی تیار ہوچکے تھے لیکن پھر اعظم سواتی نے کلب کا قبضہ لے لیا اور یہ عمل روک دیا۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کی جانب سے اپنے دوست شاہ رخ حسن کو کلب کا کرتا دھرتا بنانے کا فیصلہ منسوخ کرکے گوگلی نیوز کو سرخرو کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ لاہور شہر میں 140 ایکٹر قیمتی اراضی پر بنایا گیا رائل پام گاف اینڈ کنٹری کلب ریلوے کے زیر انتظام چلنے والا واحد منافع کمانے والا ادارہ ہے۔ لیکن کلب میں پیدا ہونے والے انتظامی بحران کے باعث اس ادارے کے بھی خسارے میں چلے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

Back to top button