گڑکے طبی فوائد

گڑ گنے کے رس سے حاصل ہوتا ہے گنے کے رس کو کڑاہے میں ڈال کر تیز آنچ پر پکایا جاتا ہے جب یہ گاڑھا ہو جاتا ہے تو اس کے گولے بنا لئے جاتے ہیں یوں گڑ تیار ہو کر بازار میں بکنے کےلئے تیار ہوتا ہے۔ گڑ ایک ایسی قدرتی مٹھاس ہے جو گنے کے رس کو فقط گرم کرنے سے یا پکا کر حاصل ہوتی ہے۔ ہمیشہ مارکیٹ سے براؤن یا کالا گڑ خریدیں کیوں کہ یہ کیمیکل سے پاک ہوتے ہیں۔
گُڑ میں کیروٹین، نکوٹین، تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ گُڑ کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں پرانا گُڑ خشک ہے جبکہ نیا گُڑ کف، دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ جیسے مختلف امراض کےلیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے ۔ گڑ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے۔ قبض دور کرتا اور گیس کی تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔
حافظہ تیز کرنے اور یادداشت بڑھانے میں گُڑ کے حلوہ کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ لہذا وہ طلبا جنھیں سبق یاد نہ ہوتا ہو انھیں صبح و شام گُڑکا حلوہ استعمال کرنا چاہیے۔
گڑ میں موجود فولاد، انیمیا کو بھی ٹھیک کرتا ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتا ہے۔ جسم کی قوت مدافعت مضبوط کرتا ہے۔ آرتھرائٹس یا گھٹنے کے درد اور سوزش میں مبتلا افراد 5گرام گڑ اور 5گرام ادرک کا پاؤڈر استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف گھٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ سوجن بھی کم ہو گی۔ اسی طرح تھوڑا سا گُڑ اور بھنا ہوا ادرک گرم پانی کے ساتھ سونے سے پہلے استعمال کرنے سے دائمی زکام اور درد سے افاقہ ہوتا ہے۔
قبض، بے شمار جسمانی امراض کی جڑ ہے۔ اس سے بواسیر جیسی تکلیف دہ بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ قدرت نے گُڑ میں قبض کشا صفت بھی رکھی ہے۔ جن لوگوں کو قبض ہو انہیں گُڑ کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ نیم کی پکی نمولی پرانے گُڑ کے ساتھ دن میں تین بار کھانے سے بواسیر جیسے مہلک مرض سے نجات مل جاتی ہے۔
کھانسی سے نجات کے لیے یہ نسخہ بھی مفید ہے: 10 گرام سرسوں کے خالص تیل میں 10 گرام گُڑ ملا کر صبح و شام ایک ایک چمچہ چاٹ لیں۔ کھانسی دور ہو جائے گی۔اگر کسی مریض کا ملیریا بخار نہ اتر رہا ہو تو کالا زیرہ اور گُڑ کا سفوف ملا کر کھلانے سے فائدہ ہوگا۔
سردیوں کے موسم میں گُڑ اور کالے تل کے لڈو بنا کر صبح و شام کھانے سے ٹھنڈک کے خلاف جسم میں بھرپور قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے اور کھانسی، دمہ اور برانکائیٹس وغیرہ میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ہچکی روکنے کے لیے بھی گُڑ کارگر ثابت ہوا ہے۔
ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں میگرین یا درد شقیقہ کا مرض عام ہوتا جا رہا ہے۔ اسے آدھے سر کا درد بھی کہتے ہیں۔ اس سے نجات کےلیے صبح سورج نکلنے سے پہلے اور رات کو سوتے وقت 12 گرام گُڑ کو 6 گرام گھی میں ملا کر چند دن کھائیں۔ اگر بلغم کی شکایت ہو اور بلغم بھی زیادہ بن رہا ہو توگُڑ کے ساتھ ادرک کا رس استعمال کروانے سے بلغم کی شکایت ختم ہو جاتی ہے ۔
بزرگ و خواتین حضرات کو اکثر کمر درد کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اگر وہ 50 گرام اجوائن کے سفوف میںہم وزن گُڑ ملا لیں اور اس آمیزہ کا 5 گرام صبح اور 5 گرام شام کے وقت کھائیں تو اس سے انھیں افاقہ ہوگا۔
مٹاپے سے نجات پانے کے خواہش مند چینی کی جگہ گڑ کا استعمال کریں۔ وہ افراد جنھیں پیشاب کے قطرے آتے ہیں،گڑ اور تل کے لڈو بنا کر کھانے سے انہیں اس عارضے سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔گُڑ میں پکے ہوئے چاول کھانے سے بیٹھا ہوا گلا ٹھیک اور آواز سریلی ہوجاتی ہے۔
