گھروں میں لاک ڈاؤن لوگ انٹرنیٹ پر کیا دیکھ رہے ہیں؟

دنیا کے بیشتر ملکوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے انٹرنیٹ کے استعمال میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ لوگ 24 گھنٹے فیملی کے ہمراہ گھروں میں قیام کےدوران اپنا زیادہ تر وقت سماجی رابطے کی ویب سائٹس یا انٹرنیٹ سرچنگ میں گزار رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے سرچ انجن گوگل کی جانب سے مارچ 2020 میں صارفین کی سرچنگ پریکٹس سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار میں کرونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر، علاج، ان ڈور مشغلے، انٹرٹینمنٹ اور عالمی وبا سے بچاؤ سے متعلق آرٹیکلز انٹرنیٹ سرچوں میں نمایاں رہے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں رہتے ہوئے خود کو فٹ رکھنے کے خواہشمندوں نے جہاں فٹنس کے طریقوں میں دلچسپی دکھائی وہیں وہ فیلڈ کے مشہور افراد کے لائیو سیشنز میں بھی دلچسپی لیتے رہے۔ معاملہ چونکہ انسانی صحت کو متاثر کرنے والی وبا کا ہے اس لیے دنیا کے مختلف حصوں میں صحت سے متعلق سرچز سب سے نمایاں رہیں۔
عالمی طور پر سب سے زیادہ سرچ کیے گئے ورڈز میں کووڈ 19، کرونا وائرس ٹپس، ہینٹا وائرس، کرونا وائرس یو کے اور کرونا وائرس اپ ڈیٹس نمایاں رہے۔ جبکہ سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے موضوعات میں کووڈ، الیکٹرونکس مینوفیکچرر، کیوبٹ، ہینڈ سینیٹائزر، کوارینٹائن، سیلف ائسولیشن اور کرونا نمایاں رہے۔پاکستانی انٹریٹ صارفین کی جانب سے مارچ کے مہینے میں مجموعی طور پر جو موضوع سرچ کیے گے ان میں کرونا وائرس، ورلڈومیٹرز، قرنطینہ، گوگل کلاس روم، وائرس، اور اذان وغیرہ شامل ہیں۔
کی ورڈز سرچ میں پاکستانی صارفین نے ماروی سرمد، نوروز، ہینٹا وائرس، پاکستان میں کورونا کیسز، کوارنٹائن ان اردو، پی ایس ایل 2020 پوائنٹس ٹیبل کو سب سے زیادہ سرچ کیا۔پاکستانیوں نے صحت و انٹرٹینمنٹ کی کیٹیگریز میں ہینڈ سینیٹائزر، قرنطینہ، قرنطینہ کے متعلق 2008 کی ایک فلم، عہد وفا ڈرامے، زوم وڈیو کال ایپلیکیشن، کورونا وائرس جیسے موضوعات کو گوگل سرچ انجن میں تلاش کیا۔
گوگل کے مطابق کرونا وائرس کے بعد کی صورت حال میں مارچ کے دوران سرچز کے متعلق رویہ اپریل کے پہلے ہفتے میں بھی برقرار ہے اور صارفین کرونا کے مرض، لاک ڈاؤن اور اس سے وابستہ امور جاننے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف کرونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں محصور ہونے کے بعد نہ صرف انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے، بلکہ آن لائن ٹریفک میں اضافے کی وجہ سے کئی مقامات پر اس کی سروس میں تعطل بھی آ رہا ہے۔اس وجہ سے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کوالٹی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔چند روز قبل پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک ریگولیٹری ادارے پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال 15 فیصد بڑھنے کی اطلاع دی تو انٹرنیٹ پروائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے اس میں 30 فیصد تک اضافہ تسلیم کیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے کنوینیئر وہاج السراج کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال 70 فیصد بڑھ چکا ہے۔ شہریوں کی کثیرتعداد گھر میں بیٹھ کر انٹرنیٹ پر فلمیں،ڈرامے اور ٹی وی شوز دیکھنے کے لیے انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہے جبکہ کرونا وائرس کی وجہ سے سوشل میڈیا ویب سائٹس کے استعمال میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ دنیا بھر میں اس وبا ءکے دوران گھروں تک محدود کروڑوں افراد کی جانب سے ٹوئٹراور فیس بک جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر انحصار بڑھ چکا ہے۔ فیس بک ایپس پر گزارے جانے والے وقت کے دورانیے میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک ہفتے میں فیس بک لائیو اور اس کی زیرملکیت ایپ انسٹاگرام کے ویوز دوگنا ہوگئے ہیں۔
ٹیلی کام سیکٹر کے ماہرین نے لوگوں کو بلاوجہ انٹرنیٹ استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال موجود ہ شرح کے مطابق بڑھتا رہا تو سسٹم چوک ہونے کا اندیشہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کو طویل ویڈیوز، گڈ مارننگ سمیت دیگر اضافی پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
