گھروں میں گھسنے والے تیندوے پاکستانی ہیں یا بھارتی؟

کرونا لاک ڈاؤن سے عوام کے گھروں میں محصور ہونے کے بعد جنگلی تیندووں کی اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں آزادانہ گھومنے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ گھروں میں داخل ہو کر پالتو کتوں پر حملہ آور ہونے والے تیندووں کا تعلق بھارت سے ہے یا پاکستان سے۔ کچھ صارفین دیوار پھلانگ کر تیندووں کے گھروں میں داخل ہونے کی ویڈیوز کو بھارتی شہر گجرات سے جوڑ رہے ہیں جبکہ بعض سوشل میڈیا صارفین مصر ہیں کہ ان میں سے ایک واقعہ اسلام آباد کے مارگلہ روڈ کے ایک گھر میں پیش آیا۔ تاہم یہ طے ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تینوے سمیت دیگر جنگلی جانوروں کی اسلام آباد کے شہری علاقوں میں آمدورفت میں اضافہ ہو چکا ہے۔
لاک ڈاؤن نے جہاں لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں پہاڑوں سے جڑے شہروں میں جنگلی حیات کو آآزادانہ بننے کا لائسنس بھی مل گیا۔ اسلام آباد میں مبینہ طور پر رہائشی علاقوں میں داخل ہونے والے تیندووں کی ویڈیوز چند دنوں سے سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔ صارفین یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان میں سے ایک ویڈیو کا تعلق اسلام آباد کے گنجان آباد سیکٹر ایف سکس سے ہے۔ کئی لوگوں نے تیندوے کے اسلام آباد کے ٹریل پر نظر آنے کی ایک اور ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے جس میں ایک تیندوے کو ایک گھر میں کودتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ ‘تیندوے کے گھر میں چھلانگ لگانے والی ویڈیو اسلام آباد کے مارگلہ روڈ پر واقع ایک گھر کی ہے۔’ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک تیندوہ گھر کے اندر چھلانگ لگا کر پالتو کتے پر حملہ کر رہا ہے۔ تاہم دوسری طرف ٹائمز آف انڈیا کی کچھ دن پہلے شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق یہ ویڈیو انڈین ریاست گجرات کی ہے۔ یہ سی سی ٹی وی ویڈیو گجرات میں انا نام کی رہائشی سوسائٹی کی ہے۔ انڈین شہر گجرات کے مقامی چینیلز نے 9 اپریل کو ہونے والے اس واقعے کو خبروں کی زینت بنایا۔اس بات کی تصدیق اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے بھی کی ہے۔ ٹوئٹر پر ایک صارف کی ویڈیو کے جواب میں انہوں نے لکھا ہے کہ ‘یہ ویڈیو اسلام آباد کی نہیں ہے۔
ایک اور ویڈیو جو سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہوئی اس میں ایک اور تیندوے کو ایک گھر کے پورچ میں سوئے ہوئے کتے پر حملہ آور ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں ایک تیندوے کو سڑک کنارے دیکھا جا سکتا تھا جس کے بعد کئی صارفین نے اس علاقے کی نشاندہی اسلام آباد کے علاقے ایف سکس سے کی تھی۔تیندوے کی یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسلام آباد کے کئی رہائشیوں نے ٹوئٹر پر خوف کا بھی اظہار کیا۔ شرمین علی نامی ایک صارف نے کہا کہ یہ بہت خوفناک ہے کہ تیندوے اسلام آباد کی سڑکوں پر آزاد گھوم رہے ہیں۔ شرمین علی کے علاوہ دیگر صارفین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی آیا کہ کیا یہ ویڈیوز مصدقہ ہیں بھی یا نہیں؟ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محکمہ وائلڈ لائف اسلام آباد کے مینجمنٹ بورڈ کے رکن سخاوت علی نے سوشل میڈیا ہر گردش کرنے والی تمام ویڈیوز کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیندووں کی نشاندہی شہری علاقوں میں نہیں بلکہ صرف اور صرف جنگل میں ہوئی ہے۔اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ صارفین پرانی ویڈیوز ایڈیٹ کے بعد خوف و ہراس پھیلانے کے لیے شیئر کر دیتے ہیں۔
سخاوت علی کے مطابق 2018 میں تیندووں کے دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے چھ سے آٹھ تیندوے مارگلہ ہلز کے مقام پر پائے گے تھے۔ سخاوت علی کے مطابق لاک ڈاؤن سے قبل مارگلہ ہلز میں جمعے سے اتوار کے درمیان عمومی طور پر ڈھائی سے تین ہزار افراد روزانہ ٹریل فائیو کا دورہ کرتے تھے۔البتہ کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر اس تعداد میں واضح کمی آئی ہے اور اس کے باعث تیندووں کو ٹریل فائیو کے ٹریک پر دیکھا گیا ہے۔سخاوت علی نے کہا کہ لوگوں کو تاکید تو کی گئی ہے کہ وہ سورج غروب ہونے کے بعد مارگلہ ہلز کا رخ نہ کریں مگر پھر بھی وہ باز نہیں آتے۔ سخاوت علی کا کہنا تھا کہ تیندووں کی موجودگی ماحولیاتی نظام کے لیے مفید ہے اور انسانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ تیندووں کے حملوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات عمومی طور پر انسانوں نہیں بلکہ مال مویشی کے حوالے سے ہوتی تھیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں میں اسلام آباد کے نواحی علاقے جیسا کہ شاہدرہ، تلہار اور بری امام کے شمال میں واقع بستیوں سے تیندووں کے جنگلوں سے نکل کر انسانوں اور مویشیوں پر حملہ کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button