’’گھر سے درزی بننے گیا تھا لیکن کرکٹر بن کر لوٹا‘‘

معروف سابق بلے باز محمد یوسف نے انکشاف کیا ہے کہ ان کرکٹر بننا کسی معجزے سے کم نہیں تھا کیونکہ وہ گھر سے درزی بننے کے لیے نکلے تھے لیکن کرکٹر بن کر واپس لوٹے تھے۔سابق کرکٹر محمد یوسف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے اپنی شمولیت کو ’’اللہ‘‘ کا نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کرکٹ کھیلوں گا کیوںکہ اس وقت پاکستان کیلئے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا خاصا مشکل تھا، انہوں نے کہا کہ اس وقت میری فیملی بے حد غریب تھی، اتنی غریب کے گھر کا گزر بسر بھی خاصا مشکل تھا لیکن یہ سب اللہ کا نظام تھا جس کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی، میں پاکستان ٹیم کیلئے کیسے منتخب کرلیا گیا یہ سب کیسے ہوا، سابق کرکٹر نے مزید بتایا کہ گھر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے کرکٹ چھوڑ کر درزی کا کام سیکھنا شروع کر دیا تھا، 4 سے 5 مہینے تک میں گراؤنڈ ہی نہیں گیا تھا لیکن اسی دوران ریلوے کالونی کے ٹورنامنٹ کے میچ میں ٹیم کا ایک کھلاڑی کم ہوگیا تو اس ٹیم کے چند لوگ میرے پاس آئے اور مجھ سے ٹیم جوائن کرنے کو کہا۔انہوں نے کہا کہ میں نے والدہ کی اجازت سے اس میچ کو جوائن کیا اور سنچری کی، اسی وقت اس کلب کے ایک ممبر نے جو انگلینڈ لیگ کنٹریکٹ کرواتا تھا مجھ سے انگلینڈ لیگ کے حوالے سے پوچھا کہ کیا میں انگلینڈ لیگ کھیلوں گا؟ میں نے ہاں کر دی، اس کے بعد میں انگلینڈ لیگ کھیلنے چلا گیا جس کے مجھے کوئی پیسے نہیں دیئے گئے، جب میں اس لیگ کو کھیلنے کے بعد پہلی بار واپس آیا تو مجھے 75 اوررز کا قومی ٹورنامنٹ کھیلنے کا موقع مل گیا، اس ٹورنامنٹ میں، میں نے 210 رنز کیے، اس کے بعد 1997 میں ایک بار پھر انگلینڈ لیگ کیلئے چلا گیا جس کے بعد مجھے واپڈا کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی ٹیم کیلئے کال آگئی اور پھر اس کے بعد پہلے ہی سال میرا نام پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے منتخب کرلیا گیا۔

Back to top button