گھڑی سکینڈل میں عمران کے کونسے 10 گھپلے پکڑے گئے؟

سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے "میری گھڑی، میری مرضی” کے بھونڈے مؤقف پر اصرار کرنا اس لیے افسوس ناک ہے کہ سعودی ولی عہد نے انہیں گھڑی بطور وزیر اعظم پاکستان تحفہ دی تھی جس کو بیچنا پاکستان کی عزت نیلام کرنے کے مترادف تھا لہٰذا انہیں اپنے اس عمل کا دفاع کرنے کی بجائے نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ سعودی شہزادے سے بھی سر عام معافی مانگنی چاہئے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ان دنوں بدقسمتی سے پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں محمد بن سلمان کی گھڑی کی دھوم مچی ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا موجب بن رہی ہے لیکن دوسری طرف عمران خان نیازی اب بھی بڑی ڈھٹائی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میری گھڑی، میری مرضی۔ اس حوالے سے سب سے پہلے جس صحافی نے امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہوئے عمران سرکار سے سوال پوچھنے کی ”گستاخی“ کی تھی، ان کا نام رانا ابرار خالد ہے۔
انہوں نے توشہ خانہ کے تحفوں بارے سوال پوچھنے کی ہمت تب کی تھی جب فوج، ایجنسیاں اور عمران ایک پیج پر تھے اور جب ملک میں چارسو مرشَد کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ رانا ابرار کی اس صحافتی کاوش کے جواب میں پہلے انہیں کروڑوں روپے کا لفافہ دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی، پھر ان کو نوکری سے نکالا گیا اور وہ آج تک بے روزگار ہیں۔ عمران خان نیازی کے ‘میری گھڑی میری مرضی’ کے بعد انہوں نے خان صاحب کے نام میرے کالم کے ذریعے ایک کھلا خط لکھا ہے جو کچھ یوں ہے۔
”جناب عمران خان صاحب! جس گھڑی کو آپ ذاتی بتا رہے ہیں وہ آپ کی ذاتی نہیں تھی کیونکہ ہیروں والی گھڑی سمیت سوا کروڑ ڈالرز کی لگ بھگ مالیت کا ’’گراف‘‘ کا سیٹ سعودی ولیٔ عہد نے آپ کو نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان کو گفٹ کیا تھا۔ چنانچہ نہ صرف آپ نے امانت میں خیانت کی اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ سرِ بازار بیچ ڈالا بلکہ قانون کی درج ذیل خلاف ورزیاں کیں۔
نمبر 1۔ قانون کے مطابق سعودی ولیٔ عہد کا تحفہ ملتے ہی وہاں تعینات پاکستانی سفیر کو ان تحائف کی بابت توشہ خانہ کے انچارج کو تحریری طور پر آگاہ کرنا چاہئے تھا۔ مگر آپ نے سفیر کو ٹرانسفر کی دھمکی دے کر رپورٹ بھجوانے سے منع کر دیا۔نمبر 2۔ قانون کا تقاضا تھا کہ سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف آپ کابینہ ڈویژن یا پی ایم آفس کے مختار افسر کے سپرد کرتے جو پاکستان پہنچ کر یہ تحائف قواعد کے مطابق توشہ خانہ میں جمع کراتا۔ مگر آپ اسے اپنے ذاتی سامان کے ساتھ سیدھے بنی گالا اپنے گھر لے گئے اور توشہ خانہ کے سٹاف کو ان تحائف کی شکل تک نہ دیکھنے دی۔
نمبر 3۔ رولز کے مطابق ہونا یہ چاہئے تھا کہ 2019 میں سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف پہلے توشہ خانہ میں جمع ہوتے اور پھر آپ ان کو Retain کرنے کی تحریری درخواست مع بیان حلفی انچارج توشہ خانہ کو بھجواتے. مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔
نمبر 4۔ تحائف Retain کرنے کیلئےآپ کی درخواست موصول ہونے کے بعد انچارج توشہ خانہ 15 روز میں رولز کے مطابق خط بھجوا کر ایف بی آر سے اور مارکیٹ سے ان کی قیمت کا اندازہ لگواتا۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ یہ تحائف توشہ خانہ میں لائے ہی نہیں گئے۔نمبر 5۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ رولز کے مطابق توشہ خانہ کی پرائس ایویلیوایشن کمیٹی بنائی جاتی جو ایف بی آر اپریزر اور پرائیویٹ اپریزر کی تعین کردہ قیمتوں کا جائزہ لے کر سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے تحائف کی حتمی قیمت کی منظوری دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔
نمبر 6۔ آپ کی حکومت نے دسمبر 2018 میں توشہ خانہ رولز آف پروسیجر آفس میمورنڈم میں ترمیم کرکے تحائف کی مارکیٹ پرائس 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دی۔ مگر 2019 میں سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘ کے ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کے معاملے میں انچارج توشہ خانہ نے جعلی اپریزل کے ذریعے انڈر پرائسنگ کر کے جو قیمت متعین کی وہ 10 کروڑ روپے تھی۔ اس کے برعکس آپ کی طرف سے محض دو کروڑ روپے ادا کیے گے۔ اس طرح آپ نے 20 فیصد ادائیگی کر کے اپنے ہی بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی کی۔
نمبر 7۔ آپ نے سعودی ولی عہد سے ملنے والے ’’گراف کمپنی‘‘کے سوا دو کروڑ ڈالرز کے لگ بھگ مالیت کے ٹیلر میڈ ڈائمنڈسیٹ کیلئے جو 2 کروڑ روپے کی معمولی رقم ادا کی وہ آپ کےذاتی اکاؤنٹ یا آپ کے نام سے پے آرڈر کے ذریعے قومی خزانے میں جمع نہیں ہوئی بلکہ ان تحائف کو بیرون ملک بیچنے کا انتظام کرنے والے معاون خصوصی کی طرف سے مذکورہ رقم جمع کروائی گئی۔
نمبر 8۔ آپ نے دوست ملک سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘ کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ بشمول ایک گھڑی، ایک انگوٹھی، دو کف لنکس اور ایک قلم شامل، اور غیرملکی دوروں میں ملنے والے دیگر تحائف اندرون اور بیرون ملک مارکیٹوں میں بیدردی سے فروخت کردئیے۔ حالانکہ یہ تحائف آپ نے نیلامی میں نہیں خریدے تھے بلکہ توشہ خانہ سے Retain کئے تھے اور Retaining کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے قانون میں غیرملکی دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی Retaining کی اجازت اس لئے ملتی ہے کیونکہ وہ اپنی درخواست میں لکھتا ہے کہ ’’یہ تحفہ مجھے فلاں اہم شخصیت نے پیش کیا تھا جو میرے لئے یادگار ہے اور میں اسے بطور یادگار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں،‘‘ اسی لئے ہر تحفہ لینے والے کو اسے Retain کرنے کیلئے ایک بیان حلفی بھی اپنی درخواست کے ساتھ لف کرنا پڑتا ہے۔
نمبر 9۔ آپ نے سعودی ولیٔ عہد سے ملنے والا ’’گراف کمپنی‘‘کا ٹیلر میڈ ڈائمنڈ سیٹ دبئی فروخت کرنے کیلئے ایکسپورٹ NOC کے بغیر نجی جہاز پر بیرون ملک سمگل کروایا جس کا شعبہ کسٹم کے ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں۔نمبر 10۔ خان صاحب، آپ کی اس حرکت کی پاداش میں پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کیش ڈیپازٹ کی واپسی اور موخر ادائیگی پر تین ارب ڈالر تیل فراہمی کے معاہدے کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا جس کا ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔ کیا ان حقائق اور قانون کی خلاف ورزیوں کے بعد آپ کو یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ میری گھڑی، میری مرضی؟
