گھڑی فروش نے عمران خان کا سفید جھوٹ بے نقاب کر دیا

شفیق نامی شخص کا ایک حلفیہ ویڈیو بیان سامنے آنے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر مستند جھوٹے اور دھوکے باز ثابت ہو گئے ہیں کیونکہ ان کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہو گیا ہے کہ انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ملنے والی قیمتی گھڑی اسلام آباد کے ایک دکاندار کو فروخت کی تھی۔ عمران کی گھڑی کے مبینہ خریدار نے اپنے حلفیہ ویڈیو بیان میں بتایا ہے کہ میرا نام محمد شفیق ہے اور میں جناح سپر مارکیٹ ایف 7 میں اس دکان کا مالک ہوں جہاں عمران خان اپنی گھڑی بیچنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میرے خلاف پروپیگنڈا چل رہا ہے کہ میں نے عمران کی گھڑی خریدی۔ محمد شفیق کا کہنا ہے کہ نہ تو میں نے عمران خان سے کوئی گھڑی خریدی اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے، انہوں نے کہا کہ میری دکان کی جو رسید بطور ثبوت دکھائی جا رہی ہے وہ جعلی ہے، اور نہ تو اس پر میرے دستخط ہیں، اور نہ ہی میری لکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری دکان کی سٹمپ کا غلط استعمال ہوا ہے، میں خاصے عرصے سے خاموش تھا کہ معاملہ ختم ہو جائے گا لیکن مجھے ہر طرف سے پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ میرا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔ شفیق نے کہا کہ میں عمران خان کی گھڑی خریدنے کی سختی سے تردید کرتا ہوں، اگر اب مجھے اس معاملے میں گھسیٹا جائے گا تو میں ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گا۔
اسلام آباد کے جس دکاندار کو سابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی شہزادے کی جانب سے تحفتاً دی گھڑی فروخت کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس کی اتنی مالی استطاعت ہی نہیں تھی کہ وہ اتنی قیمتی گھڑی خرید سکتا۔ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام آباد کے رہائشی محمد شفیق اور ان کی گھڑیوں کی دکان ’آرٹ آف ٹائم‘ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ اور ٹیکس ریٹرن عمران خان سے 50 ملین روپے میں جیول واچ سیٹ خریدنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتا تھا۔ سینئر صحافی قاسم عباسی کے مطابق محمد شفیق کی جانب سے سال 2018 سے 2022 کے ٹیکس گوشواروں کے مطابق دکان ’آرٹ آف ٹائم‘ کی خالص آمدنی تقریباً 12 ملین روپے ہے، جو شفیق کے واچ شاپ کے کاروبار کے انکم ٹیکس گوشواروں کی عکاسی کرتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پانچ سالوں کے دوران محمد شفیق کی ویلتھ سٹیٹمنٹ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے کل اثاثے 2018 میں 2.8 ملین سے بڑھ کر 2022 میں 10.6 ملین ہو گئے۔ محمد شفیق کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ 2019 سے اب تک شفیق کے بینک کھاتوں میں سب سے زیادہ 45 لاکھ روپے تک کا بیلنس تھا اور اس عرصے کے دوران اس نے زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے نکالے تھے۔ گھڑی کی دکان ’آرٹ آف ٹائم‘ کے انکم ٹیکس ریٹرن سے مزید انکشاف ہوتا ہے کہ اس دکان نے ان پانچ سالوں میں سب سے زیادہ 1.8 ملین روپے کا ذخیرہ رکھا۔ جبکہ آرٹ آف ٹائم کے ذریعے 2018 سے 2020 تک خالص خریداری تقریباً 20 ملین روپے رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام سالوں میں آرٹ آف ٹائم کی جانب سے خریدی گئی گھڑیوں کا کل سٹاک صرف 20 ملین روپے ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے اسی دکاندار محمد شفیق کو 50 ملین روپے کی گھڑی فروخت کرنے کی رسیدیں جمع کرائی تھیں۔ سابق وزیر اعظم اپنی پارٹی کے ارکان کے سامنے بار بار یہ دعویٰ کر تے ہیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلما ن کی جانب سے تحفے میں دی گئی مشہور جیول کلاس گھڑی جنوری 2019 میں محمد شفیق کو 50 ملین روپے میں فروخت کی گئی۔
ایک بڑے سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محمد شفیق سے متعلق ان دستاویزات کی تصدیق کی اور انکشاف کیا کہ حکام کی جانب سے معاملے کی انکوائری بھی کی جا رہی ہے۔ذرائع نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکام اس حقیقت سے پریشان ہیں کہ ایک آدمی 100 ملین روپے کی گھڑی صرف 50 کروڑ میں کیسے بیچ سکتا ہے؟ اس گھڑی کی 100 ملین قیمت کا اندازہ بھی عمران خان کی اپنی حکومت نے لگایا تھا۔ عہدیدار نے کہا کہ ہم بھی متجسس میں ہیں کہ کوئی سرکاری ریکارڈ میں نجی رسید کیوں چھوڑے گا؟یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ رسیدیں توشہ خانہ کے ریکارڈ میں نہیں بلکہ وزیراعظم ہاؤس سے ملٹری سیکرٹری ٹو وزیراعظم کے دفتر میں موجود تھیں۔
