گیس لوڈشیڈنگ صارفین کو پرانے دور میں کیوں لے گئی؟

پاکستان میں گیس عام ہونے سے قبل گھروں میں کھانا پکانے کیلئے رائج طریقے ایک مرتبہ پھر استعمال ہونا شروع ہو گے ہیں جس کی بنیادی وجہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہونے والی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے۔ اس حوالے سے سب سے کارگر اور سستا طریقہ کار انگھیٹی نما چولہے کا استعمال ہے جس میں جانوروں کے گوبر اور لکڑی کے برادے سے تیار کیا جانے والا مٹیریل استعمال ہوتا ہے۔ 80 سے 90 روپے فی کلو میں دستیاب یہ میٹریل ایک دفعہ آگ پکڑ لے تو دو گھنٹے تک جلتا رہتا ہے، آج گیس لوڈ شیڈنگ کے دوران گھریلو خواتین سالوں سے آزمودہ اس طریقے سے اپنا کچن چلاتی نظر آتی ہیں۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری یہ انگیٹھی استعمال کر رہے ہیں، پشاور کے ریتی بازار میں انگیٹھی فروخت کرنے والے دکاندار مدثر کے مطابق اسکو استعمال کرنے والے مٹھی بھر میٹریل انگیٹھی میں ڈال کر اس پر تھوڑا سا مٹی کا تیل ڈالتے ہیں اور آگ لگا دیتے ہیں، جب میٹریل آگ پکڑ لیتا ہے تو پھر اس میں موجود تین انچ کا چھوٹا پنکھا چلا دیا جاتا ہے جو آگ کو بھڑکاتا ہے اور چولہا دیر تک دہکتا رہتا ہے۔
پشاور کے صراف حاجی ظاہر شاہ بتاتے ہیں کہ ’میرے گھر میں اسی طرح کی انگیٹھیاں استعمال ہو رہی ہیں اور گھر کی خواتین ان کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ یہ کم خرچ ہے اور اس سے کھانا پکانے کے علاوہ کمرہ گرم بھی ہو جاتا ہے۔ نوشہرہ کے شہری سرفراز کہتے ہیں کہ ’ہمارے لیے تو پرانا دور واپس آ گیا ہے، وہی دور جب گھروں میں لکڑیاں یا اُوپلے جلا کر کھانا بنایا جاتا تھا اور انگیٹھی میں یہی ایندھن ڈال کر کمرہ گرم بھی کیا جاتا تھا، وجہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں گیس پائپ لائن اور میٹر تو موجود ہیں لیکن گیس نہیں ہے۔سرفراز گیس کی عدم دستیابی کے باعث لکڑیاں اور جھاڑیاں بازار سے خرید کر لاتے ہیں۔
یاد رہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں قدرتی گیس کی شدید قلت دیکھنے میں آ رہی ہے جو شہریوں کو مارکیٹ میں موجود توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب راغب کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت موسم سرما کی آمد سے قبل ہی ملک میں قدرتی گیس کی شدید قلت اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے کئی علاقوں میں دن میں 16 گھنٹے تگیس کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کر چکی ہے۔
