گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے عوام کتنا متاثر ہونگے؟

نگران حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی اس کی توثیق کر دی ہے، یہ ایسا ایسے وقت میں سامنے آیا جب پہلے ہی عوام مہنگائی سے ستائے ہوئے ہیں، ڈیزل و پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کی شرح 28 فیصد سے زائد کی بلند شرح پر موجود ہے۔وفاقی کابینہ کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ یکم فروری 2024 سے موثر ہو گا یعنی فروری کے مہینے میں گیس استعمال کرنے پر صارفین کو مارچ کے مہینے میں اس کے بل کی ادائیگی کرنی پڑے گی، حکومتی فیصلے سے صنعتی صارفین بھی متاثر ہوں گے تاہم اس کے ساتھ گھریلو صارفین کو بھی گیس کے استعمال پر زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ گھریلو صارفین کی کیٹگری میں پروٹیکیڈ اور نان پروٹیکیڈ صارفین دونوں کے لیے گیس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے۔گیس کی سلیبز میں 0.25 ہیکٹرومیٹر سے 0.90 ہیکٹرو میٹر تک ماہانہ گیس استعمال کرنے والے صارفین پروٹیکیڈ کیٹگری میں شامل ہیں اور اس سے زیادہ گیس استعمال کرنے والے نان پروٹیکیڈ صارفین میں شمار ہوتے ہیں۔ان دونوں کیٹیگریوں کے لیے گیس کی قیمت میں پانچ سے 67 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔گیس و بجلی کے شعبے کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی خلیق کیانی نے بتایا کہ نومبر کے اضافے کی شدت اس لیے بھی زیادہ محسوس ہوئی تھی کیونکہ گیس کے بلوں میں فکسڈ چارجز کو بہت زیادہ بڑھا دیا گیا تھا۔پاکستان میں نگران حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے اور آٹھ فروری کے بعد نئی حکومت بنانے کی تیاریاں جاری ہیں تاہم اس کے باوجود نگران حکومت نے گیس کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔توانائی شعبے کے ماہر راؤ عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی روشنی میں کیا گیا، آئی ایم ایف کہتا ہے کہ جو گیس کی قیمت اور اس پر جو خرچہ اٹھ رہا ہے، اسے صارفین کو متنقل کیا جائے تاکہ ملک کا مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہے۔راؤ عامر نے بتایا کہ اس اقدام سے عام گھریلو صارفین کے گیس کے بل میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔اسی طرح نان پروٹیکیڈ صارفین کے لیے فکسڈ چارجز کے علاوہ گیس کے نرخ بھی شامل تھے جس کی وجہ سے کافی اضافہ ہوا۔موجودہ اضافے کو دیکھا جائے تو گیس کے بل تو بڑھ جائیں گے تاہم یہ اضافہ دس سے پندرہ فیصد تک ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح معلوم کرنے کے پیمانے کنزیومر پرائس انڈیکس گیس کے نرخوں کا وزن 0.66 فیصد ہے اور حالیہ اضافے سے مہنگائی کے اس انڈیکس میں کچھ اضافہ ضرور ہو سکتا ہے۔پاکستان میں گھریلو صارفین جہاں سوئی سدرن اور سوئی نادرن کی جانب سے پائپ لائنوں کے ذریعے فراہم کی گئی گیس استعمال کرتے ہیں تو دوسری جانب سلنڈر میں ایل پی جی بھی گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔اوگرا کی جانب سے فروری 2024 کے لیے ایل پی جی کی قیمت 257.60 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے تاہم یہ ملک کے مختلف حصوں میں تین سو روپے فی کلو سے زیادہ پر بک رہی ہے جس کی وجہ اس کی بلیک مارکیٹنگ ہے۔ صحافی خلیق کیانی کہتے ہیں کہ دونوں کی قیمت کا تقابل اس طرح تو نہیں نکالا جا سکتا ہے کہ کوئی حتمی طور پر بتائے کہ کون سی گیس مہنگی ہے کیونکہ یہ گیس کی کھپت پر منحصر ہے کہ کون کتنی گیس استعمال کر رہا ہے۔راؤ عامر بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حالیہ اضافے کے باوجود قدرتی گیس کی قیمت ایل پی جی کے مقابلے میں کم ہے، ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین عرفان کھوکھر نے کہا کہ بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے ایل پی جی کی قیمت زیادہ ہے تاہم ’جس طرح گیس کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ مستقبل میں ایل پی جی سے مہنگی ہو جائے گی۔

Back to top button