گیس کے بلوں نے عوام کا سردیوں میں پسینہ نکال دیا

 ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر لیا گیا قرض اب تک عوام کو مہنگا پڑ رہا ہے،آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے حکومت نے عوام پر گیس بم گرا دیا ہے۔موسم سرما کے آتے ہی اب عوام کے لیے گیس کے بل کی ادائیگی نا ممکن ہوتی جا رہی ہے، گزشتہ سال جس گھر کے گیس کا بل 1 ہزار تک آتا تھا وہ اب 6 ہزار روپے سے زائد آنے لگا ہے، دوسری جانب جس گھر کا گیس کا ماہانہ بل 10 ہزار تک آتا تھا وہ اب 50 ہزار روپے سے زائد آرہا ہے۔

بجلی کے بعد گیس کے زائد بلوں نے عوام کو مزید معاشی پریشانی سے دوچار کردیا ہے اور وہ گیس بلوں میں اس قدر اضافے سے مجبوراً ملک گیر احتجاج کرنا ہوگا، عوام تو گیس کے زائد بلوں سے پریشان ہے ہی جبکہ حکومت اس کی الگ منطقیں پیش کر رہی ہے جس سے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال گیس صارفین سے کوئی بھی فکسڈ چارجز وصول نہیں کیے جا رہے تھے۔اسی طرح اس قدر زائد جنرل سیلز ٹیکس بھی وصول نہیں کیا جا رہا تھا اور گیس کے نرخ بھی کم تھے، اب آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے 2 ہزار فکسڈ چارجز، 20 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، اور گیس نرخ 172 فیصد تک بڑھا دیے ہیں۔

ایک گھریلو صارف کے مطابق گزشتہ سال جنوری میں گیس کا بل 800 روپے آتا تھا اور پوری سردیوں میں کبھی بھی بل 2 ہزار روپے سے زائد نہیں آیا، تاہم اس بار جنوری میں ان کے گھر گیس کا بل 6 ہزار روپے آیا ہے، اس مرتبہ گیس بل میں فکسڈ چارجز 2 ہزار روپے وصول کیے گئے ہیں اس کے علاوہ 1 ہزار روپے سے زائد جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔’تمام تر بچت کرنے کے باوجود اگر گیس کے بل بھی 6 سے 8 ہزار روپے آنے لگ جائے گا تو اپنے مخصوص بجٹ میں گھر چلانا اور بچوں کی فیس ادا کرنا مشکل ہو جائے گا، سمجھ نہیں آتا کہ حکومت کہتی تھی کہ آئی ایم ایف کی قسط مل جائے گی تو معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے لیکن ہمارے معاشی حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں۔‘ گیس کے بل میں اس حد تک اضافے سے صرف وہ ہی نہیں بلکہ پورا خاندان پریشان ہے۔

واضح رہے کہ نگراں وزیر توانائی محمد علی نے اکتوبر میں گیس نرخوں میں 172 فیصد اضافہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پچھلے ایک عشرے سے پاکستان میں گیس کی طلب کے مقابلے میں گیس کی پیداوار کم رہی ہے اور اضافی گیس درآمد کرنا پڑتی ہے۔’آج جو ہم تیل اور گیس نکال رہے ہیں وہ 10 سال قبل نکالے جانے والے تیل اور گیس کے مقابلے میں ہزار ارب روپے سے کم ہے، تو مانگ کو پورا کرنے کے لیے جو تیل اور گیس ہم درآمد کرتے ہیں وہ مہنگے ہوتے ہیں۔ درآمدی گیس کی قیمت مقامی کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔‘نگراں وزیر توانائی محمد علی کے مطابق عوام تک پہنچانے کے بعد گیس کی قیمت اور وصولی میں 210 ارب روپے کا فرق آتا ہے، لہذا اگر یہ قیمت نہ بڑھائی جاتی تو سالانہ 400 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا۔

Back to top button