گیلانی کی اپوزیشن لیڈر سینیٹ سے مستعفی ہونےکی پیشکش مسترد

یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ سے مستعفی ہونےکی پیشکش کی جسے پارٹی نے مسترد کردیا۔
ذرائع کے مطابق سی ای سی اجلاس میں یوسف رضا گیلانی نے پارٹی کو اپوزیشن لیڈر سینیٹ سے مستعفی ہونےکی پیشکش کرتے ہوئےکہاکہ ہم نے جمہوریت کےلیے جانیں اور قربانیاں دیں ہیں۔یوسف رضا گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی پر ایسے الزامات نہیں لگائے جاسکتے جن میں کوئی حقیقت نہ ہو۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہےکہ سی ای سی نے متفقہ طور پر یوسف رضا گیلانی کی مستعفی ہونے کی تجویز مستردکردی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے تجویزکی مخالفت کی۔سی ای سی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈرسینیٹ پیپلز پارٹی کا عہدہ ہے اور اس بارے میں پارٹی ہی فیصلہ کرے گی۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری کی زیر صدارت سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہائبرڈ اجلاس بلاول ہاؤس میں ہوا، جس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے 50 ارکان نے شرکت کی۔اجلاس میں اہم ملکی سیاسی معاملات سمیت میں پی ڈی ایم کی جانب سے استعفوں کی تجویز کے معاملے پر بھی غور کیا گیا، جب کہ مستقبل میں پی ٹی آئی کی اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں کشمیر پر پی ٹی آئی کی کنفیوژڈ پالیسی پر تبادلہ خیال، میں پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف ڈیل کے ملکی معیشت پر اثرات اور اسٹیٹ بینک آرڈیننس پر بھی بات چیت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے پارٹی کو اپوزیشن لیڈر سینیٹ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارٹی سمجھتی ہے تو میں ابھی مستعفی ہونے کیلئے تیار ہوں کیوں کہ میرے لئے عہدہ کوئی معنی نہیں رکھتا، ہم نے جمہوریت کے لیے جانیں اور قربانیاں دیں ہیں۔یوسف رضا گیلانی کو اجلاس کے شرکاء نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو مستعفی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، پوری پارٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔
ترجمان پی پی پی کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سی ای سی کے شرکاء کو کل ہونے والی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دی، اور وزیراعلیٰ سندھ سی ای سی کے شرکاء کی دی گئی پالیسی کے تحت کل مشترکہ مفادات کونسل میں عوام کا مقدمہ لڑیں گے۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں میں پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور کے علاوہ یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، رحمان ملک، نیر بخاری، سلیم مانڈوی والا، اعتزاز احسن، قائم علی شاہ، نواب یوسف تالپور، اخوندزادہ چٹان مخدوم احمد محمود، قمرزمان کائرہ، ہمایون خان، علی مدد جتک، شازیہ مری، فیصل کریم کنڈی، ہری رام کشوری لعل، منظور وسان، مولابخش چانڈیو، رضا ربانی، اعجاز جاکھرانی، میرباز کھیتران اسلام الدین شیخ، رحیم داد خان، رخسانہ زبیری، سعید غنی، لطیف کھوسہ، نوید قمر، تاج حیدر، جام مہتاب ڈہر، چوہدری لطیف اکبر، امجد ایڈووکیٹ، چوہدری منظور، ناصر شاہ، صادق عمرانی، محمد موسی، نفیسہ شاہ، انور سیف اللہ خان، چوہدری محمد یاسین، اعظم خان افریدی، عبدالطیف انصاری، عامر فدا پراچہ اور وقار مہدی شریک ہوئے۔
