گیلا تیتر کہلانے والا عمران خان لعن طعن کا شکار


گیلے تیتر کی عرفیت رکھنے والا ایجنسیوں کا ٹاوٹ اینکر عمران ریاض خان اسلام آباد میں قتل ہونے والی لڑکی نور مقدم کے زیرِ تفتیش کیس کا ڈیٹا نشر کرنے اور مقتولہ کی کردار کشی کرنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر لعن طعن کا شکار ہو گیا ہے۔ موصوف نے ایک شریف خاندان سے تعلق رکھنے والی مقتول لڑکی کے بارے میں جو ہزیان بکا ہے وہ سن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے لیکن گیلے تیتر اور شرم کا دور پار کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
ہم زیادہ پیچھے نہیں جاتے، گذشتہ برس موٹروے ریپ کیس کے وقت عام عوام تو ایک طرف اس کیس کی تفتیش کرنے والے سی سی پی لاہور عمر شیخ نے اجتماعی ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کے متعلق کہا تھا ’تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔‘ اب نور مقدم قتل کے بعد بھی کچھ ایسی ہی بحث ہوتی نظر آتی ہے جس میں گیلے تیتر نے بھی حصہ ڈالا ہے۔ میڈیا میں ایجنسیوں کا قابل بھروسہ ٹاؤٹ گردانے جانے والے عمران ریاض خان کا ایک کلپ سوشل۔میڈیا۔پر وائرل ہے جس میں اس نے بظاہر نور مقدم کے فون سے حاصل ہونے والی معلومات عام کی ہیں جسے مقتولہ کی ‘کردار کشی’ قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر گیلے تیتر نے صدف کنول کے متنازعہ بیان پر ان کے خلاف بولنے والوں پر تنقید سے لے کر پاکستانی فیمینسٹ، میرا جسم میرا مرضی کا حق مانگنے والی خواتین، اسلام آباد میں قائد کی تصویر کے نیچے ہونے والے فوٹو شوٹ سے لے کر نور مقدم کیس تک۔۔۔۔ ہر معاملے پر ’بطور صحافی خبر دینے کے بجائے‘ اپنی ’ذاتی رائے‘ دی ہے جو خواتین کے حوالے سے انتہائی متعصبانہ اور جاہلانہ قرار دی جا رہی ہے اور گیلے تیتر کے اس کلپ پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔۔۔
نور مقدم کے اپنے والدین کے ساتھ کیسے تعلقات تھے۔۔۔ انھوں نے اپنے والدین کو کتنی کالیں یا ٹیکسٹ میسج کیے۔۔۔۔ بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ یہ سب معلومات اول تو زیِر تفتیش مقدمے سے متعلق ہیں، انھیں میڈیا پر شئیر کرنا جرم ہے۔۔۔۔ دوم نور اور ان والدین کے ذاتی تعلقات جیسے بھی ہوں، یہ نور کے قتل کا جواز فراہم نہیں کرتے۔
سوشل میڈیا پر گیکے تیتر کے خلاف تنقید کا نقطہ یہ ہے کہ ذہنی طور پر بیمار اینکر زیِر تفتیش معلومات کو استعمال کرتے ہوئے، مقتولہ کی کردار کشی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتا نظر آیا۔ گیلے تیتر کے کلپ پر رائے دیتے ہوئے صحافی زیب النسا برکی کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی ناگوار اور خطرناک ہے اور اسے رپورٹ کیا جانا چاہیے۔‘
پاکستان میں خواتین کے لیے موجودہ ماحول کو ’تاریک دور‘ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ سوچ ہے جس کے خلاف پاکستانی عورتیں لڑ رہی ہیں۔ رابعہ محمود نے تبصرہ کیا ’مذہبی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک صحافی کا مرد کے تشدد کا شکار خواتین کے خلاف خطرناک بیانیہ۔ یہ متاثرین پر الزام تراشی سے کہیں بڑھ کر ہے۔۔۔ عمران سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اپنے شوہروں، والد اور بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین کے متعلق کیا کہیں گے۔‘
سلمان صوفی نے نام نہاد اینکر کی اس حرکت کو ’جرم‘ قرار دیا جبکہ صحافی ابصا کومل نے اسے ’غیر ذمہ دارآنہ صحافت‘ کا نام دیا۔ اسی حوالے سے اینکر منصور علی خان نے یو این ویمن کا ایک کلپ شئیر کیا ہے جس پر درج ہے ’آئیے متاثرین پر الزام تراشی والے بیانیے کو بدلتے ہیں اور زبان کی طاقت کو بچ جانے والوں کی خدمت کے لیے استعمال کریں نہ کہ مجرموں کے فائدے کے لیے۔‘ساتھ ہی منصور نے ’مرد نے اس عورت کو مار دیا جس نے اپنے والد کو صرف تین مرتبہ ٹیکسٹ پیغام بھیجا‘ والی ہیڈ لائن کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اس خبر کو اس طرح لکھا جانا چاہیے ’مرد نے عورت کا قتل کر دیا‘۔ اس بارے شانزے کا کہنا ہے کہ ’مرد کے ہاتھوں عورت کے قتل کو جائز ثابت کرنے کے لیے ہم بحیثیت قوم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’یہ اسلام والا سیاق و سباق صرف عورت پر ہی نہیں مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اس کیس میں مرد کی اتنی بڑی غلطی نظر نہیں آ رہی اور اس کی حمایت میں عورت کو مارا جا رہا ہے۔‘
کچھ افراد سوشل میڈیا پر اپنے والدین کے ساتھ تعلقات اور ٹیکسٹ پیغامات کے جواب نہ دینے کی وجوہات بھی شیئر کرتے نظر آئے۔
جیو نیوز کے اینکر عبداللہ سلطان نے اپنے اور اپنے والدین کے درمیان تعلقات کے متعلق بتایا کہ ’میرے والدین میرے ساتھ رہتے ہیں، میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں اور اور ہم روزانہ گھنٹوں باتیں کرتے ہیں اس لیے ٹیکسٹ پیغامات کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔ اور میری والدہ تو اکثر واٹس ایپ پر آنے والے پیغامات مجھے بھیجتی ہیں جن کا میں شاذونادر ہی جواب دیتا ہوں۔‘یہ سب بتانے کے بعد عبداللہ پوچھتے ہیں ’کیا اس کا مطلب ہے کہ میں ایک برا مسلمان ہوں؟‘
سوشل میڈیا پر جہاں یہ بحث طول پکڑتی نظر آ رہی ہے وہیں کئی افراد مقتولہ کے خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کر رہے کہ انھیں اپنی بیٹی کھونے کے بعد اس طرح کی باتیں بھی سننی پڑ رہی ہیں اور میڈیا ٹرائل سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔ ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل نگہت داد نے کہا کہ ‘سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ ایک صحافی نے یہ کال ڈیٹا کہاں سے حاصل کیا؟’ وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی شخص کے ذاتی ڈیٹا کو اس کی اجازت کے بغیر حاصل نہیں کیا سکتا اور ٹیلی کام کمپنیوں کی پالیسی میں ہر صارف کے ڈیٹا کی حفاظت کرنا شامل ہے ’ایسی صورت (نور مقدم قتل کیس) میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ڈیٹا کو تفتیش کے مقصد کے لیے حاصل کر سکتے ہیں تاکہ جرم سے متعلقہ حالات اور اس میں ملوث لوگوں کو سمجھ سکیں۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ چاہے وہ ملزم ہے یا متاثرہ شخص، دونوں صورتوں میں ڈیٹا کی رازداری برقرار رہنی چاہیے اور اسے صرف اور صرف تفتیش کی غرض سے ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔ان کے مطابق اس کال ڈیٹا تک رسائی اور استعمال صرف وہی افراد کر سکتے ہیں جو اس کیس کا حصہ ہوں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس اینکر نے یہ ڈیٹا قانونی طریقے سے حاصل کیا؟
نگہت داد کہتی ہیں کہ کال ڈیٹا تفتیش کے دوران استعمال ہونے والی معلومات کا ایک اہم حصہ ہے اور پورا کیس سمجھنے کے لیے اسے دوسرے شواہد کے ساتھ جوڑ کر اسی تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘شواہد میں سے اس طرح کسی ایک ٹکڑے کو اٹھا کر میڈیا ٹرائل کرنے میں مسئلہ یہ ہے کہ تبصرے کرنے والوں کو تمام ثبوتوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ کسی بھی متاثرہ شخص کے اعمال، کال ڈیٹا، اس کا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ تھا۔۔۔ آپ ان سب معلومات کو الزام تراشی کے لیے ہتھیار بنا کر استعمال نہیں کر سکتے۔’وہ کہتی ہیں کہ قانونی طور پر کسی مقدمے کے دوران متاثرہ شخص کے کردار پر بات نہیں کی جاسکتی لیکن بدقسمتی سے اس قسم کے رویے ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ عام ہیں۔
نگہت کہتی ہیں کہ ‘ایک صحافی کے طور پر عمران ریاض کا کام صرف خبر پہنچانا تھا لیکن ایک تو انھوں نے صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی کے قانون کی خلاف ورزی کی دوسرا انھوں نے صحافت کے اصولوں کی بھی پاسداری نہیں کی اور اپنے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘ابھی یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن اس طرح سے وی لاگ میں کال ڈیٹا شئیر کرکے انھوں نے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے اور میڈیا پر معلومات شیئر کر کے وہ عوامی رائے تبدیل کرنے اور بحث کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”اس طرح کے کیسوں میں چاہے معلومات صحیح بھی ہوں لیکن اس سے معاشرے پر برا اثر پڑتا ہو اگر آپ خبر کو سنسنی کے انداز میں غلط رخ دے کر اپنے نظریے کی حمایت میں پیش کریں اور میڈیا پر ہائپ کریٹ کرنے کی کوشش کی جائِے تو آن لائن اور آف لائن مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں اور عدالتوں پر بھی پریشر بڑھتا ہے۔’ نگہت کہتی ہیں کہ ہمارے میڈیا میں عدالت یا پولیس کے سامنے جاری مقدمات پر تبصرے اور تجزیے عام ہیں، چاہے وہ سپریم کورٹ کے مقدمات ہوں یا نیب کے۔ان کا کہنا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ مقدمات میں کچھ خاص قسم کے تبصروں کی اجازت دی جانی چاہیے، پھر چاہے وہ زیر سماعت ہی کیوں نہ ہوں تاہم اگر یہ تبصرے کسی مقدمے کی منصفانہ کارروائی میں مداخلت کا سبب بنیں تو اس صورت میں عدالت نے تبصروں اور رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی۔نگہت نے بتایا کہ سنہ 2018 میں سپریم کورٹ نے (سو موٹو کیس نمبر 28/2018) میں کہا تھا کہ عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کے حوالے سے تبصرے جج کے ذہن میں تعصب پیدا کرنے یا عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کا سبب نہیں بننے چاہیے۔ عدالت نے پیمرا کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ زیرِ سماعت مقدمات پر رپورٹنگ کے لیے قواعد بنائے۔تاہم وہ کہتی ہیں کہ اظہار رائے اور معلومات کی آزادی کے حق کے ساتھ ان پابندیوں کو کیسے متوازن بنایا جا سکتا ہے، یہ زیادہ واضح نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کے خلاف عدالت تو شاید کوئی نوٹس نہ لے سکے لیکن پیمرا میں شکایت کی جاسکتی ہے اور نور کے والدین اپنی بیٹی کی کردار کشی کے لیے پیکا کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی اے میں شکایت کر سکتے ہیں۔

Back to top button