ہائبرڈ نظام میں صحافیوں کو غدار کیوں بنایا جا رہا ہے؟

ہائبرڈ نظام حکومت کے دوران پچھلے تین برسوں میں عمران خان کے نئے پاکستان میں سچ بولنے اور لکھنے والے صحافیوں پر حملوں کے ریکارڈ توڑ واقعات ہوئے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان حملوں کے پیچھے کارفرما خفیہ ہاتھ تشدد کا شکار صحافیوں کو غدار ثابت کرنے پر بھی تل جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس کا بنیادی مقصد دوسرے باضمیر صحافیوں کو مار کھانے والے غدار صحافیوں کی پیروی کرنے سے روکنا ہے تاکہ سچ کے وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
پاکستان میں صحافیوں پر حملوں اور پھر انہیں غدار قرار دینے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ایسے شر پسند اور سر پھرے صحافیوں کو ہمیشہ سے جھوٹے الزامات، خونی حملوں اور موت کے فرشتے کا سامنا رہا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین غداری کے الزامات سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر عائد کیے گئے جب وہ صحافیوں پر مسلسل حملوں کے بعد ایک احتجاجی جلسے میں حملہ آوروں پر حملہ آور ہوگئے۔ چنانچہ حامد میر کو انکے پروگرام سے آف ائیر کرنے دیا گیا۔ اس کے فوری بعد ریاستی ٹرولرز بھی حرکت میں آ گے اور انہوں نے حامد میر کا تعلق بھارت سے جوڑتے ہوئے انہیں ملک دشمن قرار دے دیا۔ تاہم یہ اور بات ہے کہ ایسے ٹرولرز جلد ہی جھوٹے ثابت ہوکرایکسپوز ہوئے۔ تاہم راولپنڈی اسلام آباد فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے حامد میر کے معاملے میں ایک وضاحتی پریس ریلیز جاری ہونے کے باوجود ٹرولز اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آرہے۔
اس معاملے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قانون میں آزادی اظہار رائے اور جان کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے، تاہم غداری کے الزامات کے حوالے سے کوئی الگ قانون موجود نہیں ہے۔ پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور حکومت صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ موقف اب گھسا پٹا اور پرانا ہوچکا چونکہ عملی طور پر صحافیوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث کوئی ایک بھی ملزم گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی اغوا کیے جانے والے صحافی کے اغواء کاروں کا پتہ لگایا جاسکا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس حوالے سے حکومتی ناکامی کی سب سے بڑی مثال حامد میر کی ہے جن پر اپریل 2014 میں ایک خوفناک قاتلانہ حملہ کیا گیا جس کے بعد سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مبنی ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا لیکن سات برس گزر جانے کے باوجود اس کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں صحافیوں کے خلاف غداری کے الزامات میں اضافہ ہوا ہے اور سینئر صحافی حامد میر کے خلاف مختلف شہروں میں غداری کے الزامات کے تحت مقدمات کے اندراج کے لیے درخواستیں دائر کی گئیں۔ ان کے ساتھ ساتھ عاصمہ شیرازی کے خلاف بھی مقدمات کے اندراج کے لیے درخواست دی گئی ہے۔صحافیوں پر مقدمات درج کروانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر انہیں ٹرول کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ان کے خلاف اور حق میں ٹرینڈ بنائے جا رہے ہیں۔
حامد میر اور عاصمہ شیرازی کے خلاف حالیہ دنوں میں ایک وی لاگر مخدوم شہاب نے الزام عائد کیے کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت سے چلائے جا رہے ہیں۔ اس الزام پر سوشل میڈیا پر دونوں صحافیوں کے حق میں اور ان کے خلاف ٹویٹس کی جاتی رہیں۔
اس بارے میں حامد میر کا کہنا تھا کہ مجھ پر غداری کے الزامات نئے نہیں ہیں، ماضی میں بھی مجھ پر الزامات عائد کیے گئے لیکن میں ان کے جواب میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر مجھ پر مقدمات قائم کرنے ہیں تو کر دیں۔ اگر مجھے جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں لیکن صحافیوں پر حملے بند کر دیں۔حامد میر کا کہنا تھا کہ صحافیوں پر حملے کرنے والوں اور حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو رکنا ہو گا۔ اگر وہ اپنی روش تبدیل نہیں کرتے تو ہم بھی اپنی روش تبدیل نہیں کریں گے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ جب آزادی اظہار رائے کی بات کی جاتی ہے، اس کے ساتھ ہی درخواستیں تھانوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس عمل کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ ایسے الزامات لگا کر صحافیوں کی زندگیوں کو خطرے میں کیوں ڈالا جارہا ہے۔
اس بارے میں سینئر قانون دان کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 19 اور 9 موجود ہیں جنہیں اگر ملا کر پڑھا جائے تو صحافیوں کو ایسے الزامات سے تحفظ حاصل ہے۔آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق ہر شخص کو تحفظ حاصل ہے اور کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق اس کی زندگی کو خطرات سے دوچار نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق ہر شخص کو آزادی اظہار رائے حاصل ہے۔ ہر پاکستانی کو اپنی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے۔کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئین میں حاصل اس آزادی کی مدد سے ہر شخص قانون کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آزاد ہے اور صحافیوں نے حالیہ دنوں میں بھی ایسا ہی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں عدالتیں اس بارے میں موجود قوانین کو استعمال نہیں کرتیں۔ عدالتوں کی کمزوری کی وجہ سے ایسے الزامات عائد کیے جاتے رہتے ہیں اور صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے۔ اس کے لیے عدلیہ کو مضبوط کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ مثال کے طور پر موجود ہے جس میں صحافیوں کو غداری کی دفعات کے تحت کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔
اس معاملے میں سینئر قانون دان عابد ساقی کہتے ہیں کہ عدلیہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ماضی میں ہمیشہ طاقت ور لوگوں نے قانون کو اپنے مرضی کے مطابق تروڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ آج کل کچھ صحافیوں کے خلاف مقدمات بھی ایسے ہی ہیں جن میں انہیں اپنی رائے کا اظہار کرنے پر غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے وہ آزادی اظہار رائے پر کوئی پابندی عائد نہیں کر رہے اور ان کی طرف سے صحافیوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ سینئر صحافی حامد میر کو آف ایئر کیے جانے کے بعد وائس آف امریکہ کے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے لیے جرنلسٹ پروٹیکشن بل لے کر آ رہے ہیں اور ہم آزادی اظہار رائے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے صحافی حامد میر کو آف ایئر کیے جانے کے حوالے سے کہا کہ اس بارے میں ہماری طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ تاہم اس حوالے سے سے وزیر مملکت کا موقف درست معلوم ہوتا ہے چونکہ حامد میر کو حکومت کے نہیں بلکہ ایک طاقتور خفیہ ایجنسی کے دباو پر آف ائیر کیا گیا ہے۔
پاکستان میں عام طور پر صحافیوں پر دباؤ ڈالنے بارے الزامات ریاستی اداروں پر ہی عائد کیے جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صحافی اسد طور پر حملے کے بعد آئی ایس آئی نے وزارت اطلاعات کے توسط سے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اس حملہ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کا کہا تھا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ حملے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی اعلان کیا تھا کہ ہم اگلے 24 گھنٹوں میں ملزمان کو سامنے لے آئیں گے۔ تاہم دو ہفتے گزر گے لیکن ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سب کو معلوم لیکن نامعلوم ملزمان قانون کی گرفت سے دور ہیں۔ ظاہر ہے پاکستان کی پولیس آئی ایس آئی سے زیادہ تگڑی تو نہیں۔
