ہائیکورٹ کے حکم پر مریم نوازکو پاسپورٹ مل گیا

لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو پاسپورٹ مل گیا۔
لیگی رہنما مریم نواز اپنا پاسپورٹ لینے لاہور ہائیکورٹ پہنچیں جہاں انہوں نے رجسٹرار کے کمرے سے اپنا پاسپورٹ وصول کیا۔
انہوں نے پاسپورٹ واپسی کے لیے دستاویزات پر دستخط کیے جس کے بعد وہ میڈیا سے گفتگو کیے بغیر عدالت سے روانہ ہوگئیں۔
خیال رہے کہ مریم نواز نے پاسپورٹ واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے ان کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کی تھی۔
لاہور کی عدالت عالیہ نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو تصدیقی عمل مکمل کرکے پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی نے مریم نواز کے پاسپورٹ واپسی کے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔
ادھر تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ نیب نے درخواست گزار کے پاسپورٹ کی واپسی کی مخالفت نہیں کی، عدالت کے پاس درخواست کی اجازت دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا، نیب نے موقف اختیار کیا کہ مزید تفتیش یا ٹرائل کے مقصد کی کوئی ضرورت نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کرتی ہے، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل مریم نواز کا پاسپورٹ واپس کریں۔
واضح رہے کہ مریم نواز کو اگست 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہیں تھیں۔بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے 7 کروڑ روپے نقد جمع کرانے اور اپنا پاسپورٹ ڈپٹی رجسٹرار کے پاس رکھوانے کے بدلے مریم نواز کی ضمانت منظور کی تھی۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لندن جانے کی غرض سے اپنا پاسپورٹ واپس حاصل کرنے کے لئے درخواست لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔ مختلف وجوہات کی بنا پر کئی مرتبہ درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ ٹوٹ چکے تھے۔مریم نواز نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ درخواست دائر کی ۔ گزشتہ ماہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے اپنی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل 3 رکنی بنچ تشکیل دیا جس نے بالاخر اس درخواست کی سماعت کی۔
