ہالی ووڈ اداکار جونی ڈیپ کی اہلیہ ذہنی مریضہ بن گئی

معروف ہولی وڈ اداکار جونی ڈیپ کی جانب سے سابق اہلیہ امبر ہرڈ کے خلاف امریکی عدالت میں دائر کردہ ہتک عزت کیس میں خاتون ڈاکٹر نے گواہی دیتے ہوئے عدالت کو بتایا ہے کہ امبر ہرڈ پرسنیلٹی ڈس آرڈر نامی ذہنی بیماری کا شکار ہیں جس کے دستاویزی ثبوت
موجود ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق ’پرسنیلٹی ڈس آرڈر‘ بیماری کا شکار شخص بیک وقت مختلف رجحانات یا عادات کا شکار ہوتا ہے، عام طور پر ایسے شخص کو کئی شخصیتیں رکھنے والا فرد کہا جاتا ہے. ایسے مرض میں مبتلا افراد عام عوام کے سامنے دوسری طرح جب کہ نجی سطح پر دوسرے طریقے سے لوگوں سے پیش آتے ہیں اور ان میں سخت غصہ بھی پایا جاتا ہے، ایسے لوگ پر تشدد بھی ہوتے ہیں جبکہ دوسروں کو ہمیشہ غلط کہتے اور سمجھتے رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ فلم ’’پائیریٹس آف دی کیربین‘‘ سے مقبولیت حاصل کرنے والے ہالی ووڈ سٹار جونی ڈیپ آج کل عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں، اداکار نے اپنی سابقہ اہلیہ پر ہتک عزت کے مقدمے میں بیان حلفی جمع کروا دیا ہے جس کے بعد امبر ہرڈ کے وکلا نے جرح بھی کی، عدالتی کارروائی کے دوران ججز کو آڈیو ریکارڈنگ بھی سنائی گئیں، جن میں مبینہ طور پر جونی ڈیپ کو سابق اہلیہ امبر ہرڈ پر تشدد کرتے اور ان پر چلاتے ہوئے سنا جا سکتا تھا۔ بیان حلفی اور جرح کے دوران جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ پر کسی طرح کے تشدد، ان کے استحصال یا ان پر سختیاں کرنے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ گھریلو تشدد کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
جرح کے دوران جونی ڈیپ نے دعویٰ کیا کہ وہ نہیں بلکہ ان کی سابق اہلیہ ان پر تشدد کرتی رہیں، انکا کہنا تھا کہ امبر نے ان پر شیشے کی بوتلیں پھینکیں، ان کی انگلی توڑی اور ان پر چلاتی رہتیں، اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتی رہتیں۔ جونی ڈیپ نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ شراب نوشی کی عادت سے وہ پر تشدد بن گئے تھے اور سابق اہلیہ پر تشدد کرتے تھے، اداکار نے بتایا کہ اگر ان کی شراب نوشی سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا تو وہ اداکار کی اپنی ذات تھی، جونی ڈیپ کے بیان حلفی سے قبل ان کے حق میں کچھ گواہوں نے بھی بیانات ریکارڈ کروائے تھے جبکہ ان کی بڑی بہن بھی ان کی جانب سے بطور گواہ جیوری کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔
اب امبر ہرڈ کے بیان حلفی کو ریکارڈ کیا جائے گا، اس کے بعد ٹرائل کے دوران متعدد اداکار جن میں جیمز فرانکو اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے بھی عدالت میں پیش ہوکر بیان دینے کا امکان ہے، کیوںکہ دونوں افراد پر جونی ڈیپ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی سابق اہلیہ سے ناجائز تعلقات رہے ہیں۔
ٹرائل 13 اپریل سے ریاست ورجینیا کی کاؤنٹی فیئر فیکس کی عدالت میں شروع ہوا تھا جس کی سماعت 7 رکنی جیوری ارکان کر رہے ہیں جبکہ 4 اضافی ارکان بھی جیوری کا حصہ ہیں، ٹرائل کی سماعتیں 6 سے 8 ہفتوں تک چلنے کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر جولائی کے اختتام یا اگست 2022 کے وسط تک کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ جونی ڈیپ کی جانب سے مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد امبر ہرڈ نے بھی ان کے خلاف جوابی 10 کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ یہ کیس جونی ڈیپ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کا ہے، جس میں سابق اہلیہ امبر ہرڈ کے خلاف 5 کروڑ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے، مقدمہ جونی ڈیپ نے مارچ 2019 میں سابق اہلیہ امبر ہرڈ کی جانب سے اخبار میں مضمون لکھنے کے بعد دائر کیا تھا۔ جونی ڈیپ کی سابق اہلیہ نے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ میں خواتین پر گھریلو تشدد، انہیں گھریلو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے پر ایک مضمون لکھا تھا، امبر نے اپنے مضمون میں امریکی حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خواتین کو گھریلو تشدد، گھریلو جنسی ہراسانی اور استحصال سے بچانے کیلئے مزید سخت اقدامات اٹھائیں۔ امبر ہرڈ نے مضمون میں واضح کیا تھا کہ وہ کافی عرصے تک گھریلو جنسی استحصال، تشدد اور ہراسانی کا شکار رہیں اور معروف ہونے کے باوجود وہ اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کرسکیں، اداکارہ نے اپنے مضمون میں سابق شوہر جونی ڈیپ کا نام استعمال نہیں کیا تھا تاہم ان کا اشارہ ان کی جانب ہی تھا۔ مضمون شائع ہونے کے بعد جونی ڈیپ پر تنقید بڑھ گئی تھی اور ان کا کیریئر بھی خطرے میں پڑ گیا تھا، جس کے بعد ا مارچ 2019 میں امبر ہرڈ کے خلاف 5 کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا، جس کے جواب میں امبر ہرڈ نے بھی ان پر 10 کروڑ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
خیال رہے کہ امبر ہرڈ اور جونی ڈیپ کے درمیان 2011 میں تعلقات استوار ہوئے تھے اور دونوں نے فروری 2015 میں شادی کی تھی، شادی کے 15 ماہ بعد امبر ہرڈ نے مئی 2016 میں جونی ڈیپ پر تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور دونوں کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔

Back to top button