ہزارہ کے کسان فصلوں پر سوروں کے حملے سے پریشان

صوبہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن کے رہائشی کسانوں کے پاس خطرناک جنگلی سوروں کے ہاتھوں مسلسل اپنی فصلوں کی تباہی کے بعد اب اور کوئی چارہ باقی نہیں بچا کہ وہ ان کھیتوں کو چھوڑ دیں جن پر ان کے خاندان نسل در نسل کاشت کرتے چلے آ رہے تھے۔ جنگلی سؤروں کی وجہ سے فصلوں کی مسلسل تباہی نے انہیں پہاڑوں سے شہر کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے پہاڑی اور معتدل موسم والی ہزارہ پٹی کی زرعی زمین میں جنگلی سؤروں کے حملوں سے کسان اور مقامی لوگ حیران بھی ہیں اور خوفزدہ بھی ہیں۔ ان میں سے بہت سوں نے پہلے کبھی جنگلی سؤر نہیں دیکھا تھا اور وہ ابتداء میں رات کو حملہ کرکے فصل تباہ کرنے والوں کو ریچھ سمجھ بیٹھے تھے۔ لیکن اب حملہ آور سوروں کا اچھی طرح ادراک ہو جانے کے بعد اس علاقے کے کسان کھیتی باڑی چھوڑ رہے ہیں بعض نے نوکری کےلیے شہروں کا رخ کرلیا ہے اور کچھ زمیندار ایسی فصلوں کی طرف منتقل ہورہے ہیں جو سؤروں کو کم مرغوب ہوتی ہیں کہ کم سے کم نقصان ہو۔ ان حالات میں مقامی انتظامیہ سؤروں سے لڑنے کےلیے رہائشیوں کو بغیر لائسنس اسلحہ فراہم کرنے پر بھی غور کررہی ہے، حالانکہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بندوق استعمال نہیں کی۔
یاد رہے کہ ہزارہ کا یہ پہاڑی خطہ دریائے سندھ کے مشرق میں واقع ہے اور اس میں سات اضلاع شامل ہیں جن میں ایبٹ آباد، بٹگرام، ہری پور، مانسہرہ، بالائی کوہستان، نشیبی کوہستان اور تورغر شامل ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کا خیال ہے کہ جنگلی سؤر کی پہاڑی علاقوں میں نقل مکانی کے پیچھے بنیادی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی ہے جس نے اس خطّے کو سؤروں کےلیے آرام دہ گھر بنادیا جو عموماً گرم مرطوب یا نیم گرم مرطوب علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں خیبر پختونخواہ کے ان علاقوں کا ٹھنڈا موسم راس آگیا ہے۔
بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کھیتوں اور فصلوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ جنگلی سؤر پودوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں تاکہ ان کی جڑیں کھا سکیں، اور یہ عمل گلیات کی زرخیز ماحولیات کےلیے خطرناک ہے۔ یہ جانور جڑ تک پہنچنے کےلیے مٹی کو اپنے مضبوط کھروں سے کھودتا ہے اور پورے پودے کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کے کٹاؤ کا سبب بھی رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی گرمی کے نتیجے میں پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں درجہءِ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی لیے جنگلی سؤر اس خطے کو ایک آرام دہ ٹھکانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو ان کے قدرتی گرم مرطوب خطے سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہ سؤر پہلے اسلام آباد کے نواحی علاقوں اور پنجاب کے متصل علاقے پوٹھوہار سے مری پہاڑیوں کی طرف ہجرت کرتے گئے اور پھر مناسب ماحول کی وجہ سے جلد ہی ہزارہ کے پورے پہاڑی علاقے میں پھیل گئے۔ بدلتے ہوئے درجہءِ حرارت کی وجہ سے گرم خطے کے گل دیودار کے درختوں سمیت کچھ پودوں کی نسلیں، گلیات میں اگنے لگی ہیں۔ جن کو کھانے کےلیے سؤر کھیتوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔
اپنے علاقوں میں جنگلی سؤروں کی آمد اور اس کے نتیجے میں فصلوں کو پہنچنے والے نقصان سے ہزارہ میں کاشتکاری طبقہ پریشان ہے اور شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ چنانچہ 80 فیصد زمینداروں نے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اپنی زمین کاشتکاری کےلیے استعمال کرنا چھوڑ دی ہے۔ اب وہاں کے کاشتکاروں کو گندم کی کاشت کی ترغیب دی جارہی ہے۔
ایک زمیندار کا کہنا ہے خنزیر کے ریوڑوں کے حملوں کی وجہ سے وہ اپنی زمین مکئی اور آلو کی کاشت کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔ اب انہوں نے سرسوں کی بوائی کی ہے کیوں کہ جنگلی سؤر اس فصل کو اتنا پسند نہیں کرتے جتنا وہ آلو اور مکئی کرتے ہیں۔ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی خیبر پختونخوا اسمبلی کی سابق رکن آمنہ سردار کا کہنا ہے کہ جنگلی سؤروں کی وجہ سے فصلوں کی تباہی کا معاملہ بہت سنگین ہے اور اس نے پہاڑی خطے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ میرے ہی حلقے میں تقریباً 50 فیصد کسانوں نے مسلسل نقصان کی وجہ سے کاشتکاری بند کردی ہے اور ساتھ ساتھ مویشیوں اور انسانوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ کسانوں کے مالی نقصانات کے خاتمے کی امید میں آمنہ سردار نے یہ معاملہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اٹھایا جس کے نتیجے میں مارچ کے اوائل میں ضلعی ڈائریکٹر زراعت کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس کی سفارشات کے تحت جانوروں کے شکار کےلیے ٹریکنگ کتوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسکے علاوہ تجربہ کار اور ماہر نشانہ بازوں کو اسلحہ دینے اور انہیں جنگلی سؤروں کے خاتمے پر مامور کرنے کی بھی تجاویز دی جا رہی ہیں۔
صوبے میں محکمہ وائلڈ لائف کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ ہم شمالی علاقے میں متاثرہ کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کے تحفظ کےلیے لائسنس کے بغیر بندوقیں استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کر رہے ہیں، کیوں کہ لائسنس کی فیس ہزاروں میں ہے۔مشاورتی اجلاس کے دوران، جنگلی حیات، لائیو اسٹاک اور بلدیہ کے محکموں کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگلی سؤر کے خاتمے کےلیے کیمیکل کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور اس جانور کو گولی مار کے ہلاک کیا جائے گا، جس کی لاش ٹھکانے لگانے کی ذمہ دار میونسپل اتھارٹیز ہوں گی۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ’سور کنٹرول کمیٹیاں‘ قائم کی جائیں گی، جہاں مقامی افراد کو جانوروں کے خاتمے میں شامل جائے گا۔
زراعت کے ضلعی ڈائریکٹر نوید اقبال نے کہا کہ ‘ہم جنگلی سؤروں کو مارنے اور اس کے شواہد پیش کرنے والے مقامی لوگوں کےلیے انعامات سرقع کرنے کا سوچ رہے ہیں’۔
