ہماری سیاسی قیادت یو ٹرن کو غیر اخلاقی کیوں نہیں سمجھتی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان یوٹرن لینے کے لیے شہرت رکھتے ہیں اور اس فیلڈ میں انکا کوئی ثانی نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن بھی یو ٹرن لینے میں میں کسی سے کم نہیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ خان صاحب کسی بھی وقت یوٹرن لے کر پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنوا سکتے ہیں، وہ بلاجھجک جنرل باجوہ کو سب سے بڑا جمہوریت پسند آرمی چیف قرار دینے کے بعد اسے میر جعفر کا خطاب بھی دے سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سیاست میں صرف عمران خان ہی یوٹرن لیا کرتے ہیں؟ کیا نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر سیاسی قائدین اپنی مصلحتوں کے اسیر بن کر سیاسی موقف تبدیل نہیں کرتے؟

حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان پر ہم نے بہت تنقید کر لی۔ 2019 میں کہا جاتا تھا کہ عمران پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہیں جسے فوج، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تب خان صاحب دن رات آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے گن گایا کرتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ہم نے عمران کے طرز حکمرانی پر سوال اٹھانے شروع کئے تو خان صاحب ناراض ہو گئے۔
ان کے فیض سے ہمارے ٹی وی پروگراموں پر پابندیاں لگنی شروع ہوگئیں اور پھر خان صاحب کا فیض اتنا آگے چلا گیا کہ انہوں نے میڈیکل وجوہات پر نواز شریف کو جیل سے نکال کر برطانیہ بھجوا دیا۔ میرا خیال تھا کہ نواز شریف بدل چکے ہیں وہ بیرون ملک نہیں جائیں گے لیکن مجھے میاں صاحب کی ایسی میڈیکل رپورٹیں دکھائی گئیں کہ مجھے بھی کہنا پڑا نواز شریف کو اپنے علاج کے لئے برطانیہ ضرور جانا چاہئے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو علاج کے لئے چند ہفتوں میں واپس آنے کے ہدایت دی تھی لیکن اب میاں صاحب کو بیرون ملک گئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔عمران کی طرف سے نواز شریف کو بھگوڑا قرار دیا گیا لیکن نواز شریف اکثر خاموش ہی رہے۔ جن صحافیوں نے انکے بیرون ملک علاج کی حمایت کی تھی انہیں تحریک انصاف والوں نے نجانے کیا کیا کہا لیکن میاں صاحب نے کبھی یہ وضاحت کرنے کی زحمت نہیں کی کہ وہ تین سال سے لندن میں کیا کر رہے ہیں؟ اب وقت بدل رہا ہے۔ جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہوا وہ عمران کے ساتھ ہونے والا ہے۔ نواز شریف اپنے ایک بدترین سیاسی مخالف کے انجام کو قریب سے دیکھنے کے لئے پاکستان واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔

حامد میر کے بقول نواز شریف نے عمران کو چیلنج دیا ہے کہ وہ اپنا کوئی ایک ایسا منصوبہ بتائیں جو انہوں نے بطور وزیر اعظم شروع کیا اور پورا کیا ہو۔ میاں صاحب نے فرمایا کہ جو شخص خود سر سے پائوں تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے وہ دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، ہمیں تو مفت میں جلا وطنی اور جیلیں بھگتنا پڑیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف تین بار پاکستان کے وزیراعظم بنے لیکن وہ تینوں مرتبہ اپنے عہدے کی مدت پوری نہ کرسکے۔ انہوں نے بہت تکالیف اٹھائیں لیکن ان کے تینوں ادوار کے عینی شاہد کے طور پر یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ آپ تین بار وزیر اعظم بنے لیکن کیا ایک مرتبہ بھی آپ نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھا؟ نواز شریف کے حالیہ بیانات میں بڑی مظلومیت نظر آتی ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ ہاں! آپ کے ساتھ ظلم ہوا لیکن کیا یہ ظلم صرف آپ کےساتھ ہوا؟آپ کی غلطیوں کی سزا صرف آپ نے نہیں بلکہ آپ کے خاندان، آپ کی پارٹی اور آپ کی ذات میں کسی شیر کو تلاش کرنے والے اہل فکر و دانش نے بھی پائی۔ جب عمران طاقت میں تھے تو ہم نے ان کے طرز حکمرانی پر سوالات اٹھائے اور سزا بھی پائی۔ اب آپ طاقتور ہو چکے ہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ اب عمران نااہل ہو جائیں گے اور آپ کی نااہلی ختم ہو جائے گی۔ لہٰذا اب آپ سے یہ سوال پوچھنے کا وقت آ چکا ہے کہ آئندہ انتخابات میں آپ کی پارٹی اور اس کے اتحادی اسی طریقے سے تو کامیابی حاصل نہیں کریں گے جس طریقے سے 2018ء میں عمران خان کو کامیابی دلوائی گئی تھی؟ کیا آپ ہمیں یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ پاکستان واپسی کے بعد آپ اپنی پارٹی میں جمہوری کلچر متعارف کرائیں گے اور پارٹی میں انتخابات کروائیں گے؟۔

حامد میر نواز شریف سے سوال کرتے ہیں کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ بار بار جلا وطنی اور جیلیں اس لئے بھگتتے ہیں کہ پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت کوئی نظریہ نہیں بلکہ کچھ شخصیات ہیں؟ یہ سوالات پوچھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہو رہی ہے کہ عمران خان کے جیل جانے اور آپ کے پاکستان واپس آنے سے عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ گستاخی معاف! آپ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو ہمیں آپ سے بڑی امیدیں تھیں۔ ان امیدوں کو آپ کی حکومت نے باقاعدہ قتل کیا۔  آپ نے پاکستان میں آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کے لئے 2016ء میں بدنام زمانہ پیکا ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا اور پھر اسی قانون کو عمران حکومت نے ایک ڈرائونی شکل میں پیکا آرڈیننس کے ذریعہ ہم پر نافذ کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کو عدلیہ نے ناکام بنا دیا لیکن پیکا ایکٹ 2016ء آج بھی صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ عمران خان کے دور میں ایک رکن پارلیمنٹ علی وزیر پر ناجائز مقدمات بنائے گئے۔ آج آپکی پارٹی اقتدار میں ہے اور ایک سینیٹر اعظم سواتی کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جب عمران خان کا اقتدار اپنے عروج پر تھا تو میں نے رانا ثناء اللہ پرمنشیات کی اسمگلنگ کے جھوٹے مقدمے کے خلاف آواز اٹھائی۔ اب رانا ثنا اللہ اس جھوٹے مقدمے میں بری ہو چکے۔ امید ہے آپ پر بھی قائم تمام مقدمات ختم ہو جائیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ آج آپ کے دور میں جو کچھ اعظم سواتی کے ساتھ ہو رہا ہے یہ کل کو دوبارہ آپ کیساتھ ہوگا۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اچھی طرح پتہ ہے کہ رانا ثناء اور حنیف عباسی پر اینٹی نارکاٹکس فورس نے جو جھوٹے کیسز بنائے ان میں صرف عمران کی خواہش نہیں بلکہ جنرل باجوہ کی تائید بھی شامل تھی۔ جب تک باجوہ آرمی چیف تھے انہوں نے رانا ثنا ء اللہ کے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ ختم نہیں ہونے دیا۔ افسوس کہ مسلم لیگ (ن) کے کچھ اہم رہنما اسی باجوہ صاحب کو دوسری ایکسٹینشن دلوانے کے لئے سرگرم تھے اور نواز شریف نے ان سرگرمیوں پر آنکھیں بند کئے رکھیں۔ پاکستان کی سیاست کا حال یہ ہو چکا ہے کہ عمران خان ہوں یا آصف زرداری، نواز شریف ہوں یا مولانا فضل الرحمٰن، یہ سب عمائدین پنجاب کے ایک عدد سب سے بڑے ڈاکو کی خوشامدیں کرتے پھر رہے ہیں۔ ڈاکو صاحب جدھر جائیں پاور پالیٹکس کا پلڑا ادھر جھک جائے گا۔ نواز شریف کو یہ ماننا پڑے گا کہ انہیں بار بار جلاوطنی اور جیلیں اس لئے بھگتنا پڑتی ہیں کہ وہ کسی نظریے پر کھڑے نہیں رہتے، کبھی باجوہ اچھا، کبھی برا اور پھر اچھا ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی ڈاکو بہت برا ہو جاتا ہے چند ماہ کے بعد پھر اچھا ہو جاتا ہے۔ عوام کے ساتھ یہ مذاق بند ہونا چاہئے۔

Back to top button