ہم آئینی عدالت بنا کر رہیں گے :  بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وقت پر انصاف ملےتو پھر آئینی عدالت ضروری ہے مجبوری ہے،آئینی و قانونی عدالت میں صوبوں کی برابر نمائندگی ہو گی ۔ہم آئینی عدالت بنا کررہیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتےہوئے کہا کسی حکومت کی حمایت یا ترمیم کےلیے نہیں آیا، میں چارٹر آف ڈیموکریسی اور عدالتی ریفارمز کےلیے آیا ہوں، وفاقی عدالت میں ہر صوبے کی برابر کی نمائندگی ہوگی، عوام کو انصاف دلانے کےلیے جو ادارہ بناہے ان کو کام کرنےدیں، ہم آئینی عدالت بنائیں گےجو دیکھیں گےکہ آئینی،سیاسی کیسز کیا ہیں؟۔

بلاول بھٹو نے مزید کہاکہ آئینی اصلاحات ان کےلیے نئی چیز ہےجن کی تاریخ تحریک عدم اعتماد سےشروع ہوتی ہے،دنیا میں عدم اعتماد واحد جمہوری پارلیمانی طریقہ ہے،یہ اختیار پارلیمان کےپاس ہے کسی جج یا جنرل کےپاس نہیں، تاریخ میں پہلی بار عدم اعتماد کےذریعے ایک وزیر اعظم کو گھر بھیجا،63اے کا جب فیصلہ لکھاجارہا تھاکیا کسی نےآئین پڑھا؟ کیا کسی نےسوچا کہ ہم کتنا بڑا فیصلہ سنانےجا رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھاکہ عدالت نےیہ اختیار اپنے پاس لےلیا کہ آئین ہم لکھ سکتےہیں، مرضی یہ تھی کہ پی ڈی ایم کی پنجاب حکومت نہ بنے،فیصلہ یہ تھاکہ آپ ووٹ پارٹی کےخلاف نہیں دےسکتے،دیتے ہو تو گنا نہیں جائےگا،پھر بھی ایسا کرتے ہیں تو گنا نہیں جائےگا، بتائیں کس آئین کے مطابق یہ فیصلےدیے گئے؟ ۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہمارا تعلق سندھ ہائی کورٹ سےتین نسلوں سے ہے،ہم ایک دوسرے کو اندر اور باہر سےجانتےہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کاکہنا تھاکہ میں تو اس خاندان،جماعت سے تعلق رکھتا ہوں جس نے آئین دیا،ہماری تاریخ کچھ ایسی ہےکہ ہم نےآمرانہ دور بھی دیکھاہے، ہم نےدیکھا ہےکہ کیسے 1973 کے آئین کو ایک آنکھ کی لرزش اور ہونٹوں کی جنبش سےاڑا دیا جاتاہے۔انہوں نےکہا کہ ہم نےیہ بھی دیکھاہے کہ کس طریقہ سےہمارےمعزز جج صاحبان آمر کو یہ کام کرنےدیتے ہیں جس کی وجہ سےوہ 10 10 سال جمہوریت اور آئین کو بھول جاتےہیں اور سارا اختیار ایک آمر کو دیاجاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کاکہنا تھا کہ ہمارے آئین کو ایک کاغذ کا ٹکرا سمجھ کرپھاڑا گیااور اس سےافسوس ناک بات کہ جج صاحبان نےآمر کو آئین میں ترمیم کرنےکی اجازت دی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کہاجاتا تھاکہ آپ اتنے کرپٹ ہیں کہ آپ پر آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتا،پاکستان کاجمہوری نظام ایسا ہےکہ ہم صرف ایک پی سی او جج برداشت کرسکتےہیں، اگر ایک دفعہ ایک جج پی سی او کا حلف لیتےہیں تو تب آئین کو اور جمہوریت کو مسئلہ ہوتاہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نےجمہوریت کی بحال کےلیے نسلوں کی قربانیاں دی تاکہ عوام کی مرضی چلے تاکہ آپ پارلیمان میں ایسےنمائندے بھیجیں کہ آپ کی مرضی کا قانون بنےاور آپ کی مرضی کا آئین بنے۔انہوں نےکہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پردستخط کرکے یہ طےکیا کہ اگر ہم نے پاکستان کانظام ٹھیک کرناہے اور جمہوریت کو بحال کرنا ہے،عوام کے مسائل حل کرنےہیں تو میثاق جمہوریت جیسے معاہدوں کو لاگو کرناہوگا۔ان کاکہنا تھاکہ اس میثاق جمہوریت کےتحت 18 ویں ترمیم پاس کرنےاور 1973 کے آئین کو بحال کرنےکے بعد ہم نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کےنا مکمل مشن کو پوراکیا۔

بلاول بھٹو نےکہا کہ اس وقت جب افتخار چوہدری پی سی او جج تھےکوئی انقلابی نہیں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نےیہ طےکیاتھا کہ آئینی عدالت بنےگی اور عدالتی اصلاحات ہوں گی اور عوام کو فوری انصاف ملےگا۔ہم نے اپنےماضی سے سبق سیکھےہیں، ہم اپنی وکلاء برادری کی بہت عزت کرتےہیں، قانون سازی اور آئین سازی عدالت کےذریعے نہیں ہوسکتی لیکن جج صاحبان نے 184 اور 186 کے نام پر خود کو اختیار دیا ہےکہ وہ آئین سازی کر سکتے ہیں۔انہوں نےکہا کہ پاکستان میں عدالتی نظام ٹوٹ چکاہے،عدالتوں میں ہزاروں مقدمات زیرالتوا ہیں اور مجھےانصاف کےحصول کےلیے 45 سال انتظار کرناپڑا۔

بلاول بھٹو کا تقریب سے خطاب کرتےہوئے کہناتھا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہریوں کوفوری انصاف ملےاور کسی صوبے کےدرمیان کوئی فرق نہ رہےتو پھر وفاقی آئینی ضروری ہے۔

ن لیگ مخصوص نشستوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے : عرفان صدیقی

Back to top button