ہم جنس پرستوں کا ’بلیوڈ ایپ‘ نیٹ ورک کیسے پکڑا گیا؟

سائبر کرائمز کی روک تھام کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل نے پاکستان میں ایک موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے ہم جنس پرستی کا نیٹ ورک چلانے والے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم سیل فیصل آباد کے مطابق چاروں ملزمان ہم جنس پرست افراد میں مقبول ‘بلیوڈ’ نامی موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے دیگر ہم جنس پرست مردوں سے رابطہ قائم کرنے کے بعد پیسوں کے عوض ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔
سائبر کرائم سیل کے تفتیشی افسران کے مطابق گرفتار ملزمان سے دورانِ تفتیش ملنے والی معلومات کی مدد سے ایک ایسے واٹس ایپ گروپ کے بارے میں بھی معلوم ہوا جس پر چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق مواد موجود تھا۔ فیصل آباد سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم رضوان ارشد نے بتایا کہ ’یہ مواد زیادہ تر ویڈیوز پر مبنی تھا جس میں دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تعلق رکھنے والے چند بچوں کی سیکس ویڈیوز بھی موجود تھیں۔‘
یاد رہے کہ ہم جنس پرستی یا دو ہم جنس افراد کے درمیان جنسی تعلق قائم کرنا پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین کے تحت بھی ایسے افراد کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ عام طور پر پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سائبر کرائم کے قوانین کے مطابق چائلد پورنوگرافک مواد محض اپنے پاس رکھنا بھی جرم تصور کیا جاتا ہے۔پکڑے جانے والے نیٹ ورک سے ایسی ویڈیوز بھی ملی ہیں جن میں کم عمر لڑکوں کو سیکس کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا۔ یعنی کسی جگہ پر ایسا انتظام موجود تھا جہاں کم عمر بچوں سے ایسا کام لیا جا رہا تھا اور اس کی فلمبندی بھی کی جا رہی تھی۔
فیصل آباد سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم رضوان ارشد کا کہنا تھا کہ انھیں ملنے والی معلومات کے مطابق چائلڈ پورنوگرافی پر مبنی اس نوعیت کی ویڈیوز دیگر شہروں میں یا تو بنائی گئیں تھیں یا وہاں سے اس واٹس ایپ گروپ میں اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ سائبر کرائم فیصل آباد نے اس حوالے سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان اور صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں موجود ایف آئی اے سائبر کرائم کی برانچوں کو مطلع کیا اور ان کے مدد سے ایسی ویڈیوز بنانے یا حاصل کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ رضوان ارشد نے بتایا کہ دراصل سب سے پہلے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے طلبا نے ان کی توجہ ایک موبائل ایپ کی طرف مبذول کروائی جس کو استعمال کر کے ہم جنس پرست مرد ایک دوسرے سے رابطہ کرتے تھے۔
اس اطلاع کی تصدیق اور پاکستان میں اس موبائل ایپلیکیشن کو استعمال کرنے والوں تک پہنچنے کے لیے ایف آئی اے نے انتہائی بنیادی طریقہ تفتیش استعمال کیا۔ انھوں نے یونیورسٹی کے ایک سٹیشن پر موجود ایک افسر کو اس ایپلیکیشن پر رجسٹرڈ کروایا۔ اس افسر نے خود کو ایک ہم جنس پرست مرد کے طور پر ’بلیوڈ‘ ایپ پر رجسٹر کیا۔ اس کا استعمال کسی بھی دوسری ڈیٹنگ ایپ کی طرح ہوتا تھا۔ طریقہ کار کے مطابق رجسٹرڈ صارفین اپنی دلچسپی کے افراد کو تلاش کرنے کے بعد ان سے رابطہ قائم کر سکتے تھے یا پھر وہاں پہلے سے موجود دوسرے صارفین براہِ راست ان سے رابطہ کرتے تھے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان ارشد نے بتایا کہ ’اس ایپ پر رجسٹرد ہونے کے محض پندرہ منٹ کے اندر ہی چھ سے سات افراد نے ہمارے ’آدمی’ سے رابطہ قائم کیا، اپنی تصاویر بھیجیں اور ہم جنس پرست میں دلچسپی کے حوالے سے بتایا۔‘ سائبر کرائم کے ’ایجنٹ‘ نے ان افراد کو مختلف اوقات میں ایک خاص مقام پر آنے کا کہا اور لوکیشن ان کے ساتھ شیئر کی۔ اگلے چند گھنٹے کے اندر ہی وہ تمام افراد بتائی گئی لوکیشن پر پہنچ گئے۔ ان میں سے ایک شخص کارخانے میں کام کرتا تھا، وہ کام چھوڑ کر دو گھنٹے کے اندر وہاں پہنچ گیا۔ ایک شخص شادی شدہ تھا، وہ بھی ایک گھنٹے کے اندر وہاں پہنچ گیا۔ وہاں پہلے سے موجود ایف آئی اے سائبر کرائم کے اہلکاروں نے ان افراد کو حراست میں لے لیا۔
گرفتار افراد میں ایک شخص کی عمر 20 سال کے لگ بھگ جبکہ باقی تینوں کی عمریں 30 برس سے زیادہ تھیں۔
ان چاروں افراد کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔ تاہم ’وہ ایک نیٹ ورک کا حصہ تھے جو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیلا ہوا تھا۔ یہ کام بھی جسم فروشی کی طرح کیا جا رہا تھا۔ گرفتار ہونے والے چاروں مردوں نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ بلیوڈ ایپ اور واٹس ایپ گروپ پر وہ خود کو ہم جنس پرست مردوں کے درمیان جنسی تعلق قائم کرنے کے حوالے سے استعمال ہونے والی اصطلاع ’ٹاپ‘ کے ساتھ منصوب کرتے تھے۔ اس طرح ان نیٹ ورکس پر موجود جو افراد ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے یہ افراد ان سے پیسوں کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ رقم عموماً 500 روپے سے لے کر 2000 روپے تک ہوتی تھی۔ رقم طے ہو جانے کے بعد یہ ان سے ملاقات کرتے تھے۔
چنانچہ ایف آئی اے سائبر کرائم کے ایجنٹ نے بھی اسی پہلو کو استعمال کرتے ہوئے ملزمان کو اس مقام پر بلایا تھا جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ سائبر کرائم کے تحقیقاتی افسر نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے ذریعے انھیں معلوم ہوا تھا کہ پاکستان کے کئی شہروں میں موجود ہم جنس پرست مردوں کی ایک بڑی تعداد بلیوڈ ایپلیکیشن کو استعمال کر رہی تھی۔ ہمارے ایجنٹس نے مختلف شہروں کے اندر بھی اس ایپلیکیشن کے ذریعے ایسے افراد کی نشاندہی کر رکھی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ہم جنس پرست مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے ہمارے ایجنٹوں سے رابطہ قائم کیا تھا۔ یہ نیٹ ورک ہمارے اندازے سے زیادہ بڑا ہے۔
ایف آئی کے افسر رضوان ارشد نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون یعنی پیکا کی دفعات 22، 23 اور 24 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ انکامکہنا تھا کہ بلیوڈ ایپ بنیادی طور پر ایک ’گے‘ یا ہم جنس پرست افراد کی ڈیٹنگ ایپ ہے جس کا مرکز چین میں بتایا جاتا ہے۔ اس کو زیادہ تر ہم جنس پرست مرد استعمال کرتے ہیں اور اس کے صارفین کا تعلق دنیا بھر کے کئی ممالک سے ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس ایپ کو استعمال کرنے والوں کی تعداد چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ کسی بھی دوسری ڈیٹنگ ایپ کی طرح صارف کو خود کو اس پر رجسٹر کرنا ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی دلچسپی کے افراد کے ساتھ رابطہ قائم کر سکتا ہے۔
