ہنزہ میں عطا آباد جھیل کے باسیوں کو زلزلے کا خطرہ کیوں؟

سال 2010 میں ہنزہ میں ایک خوفناک زلزلے کے نتیجے میں وجود میں آنے والی عطا آباد جھیل کے آس پاس کے باسیوں میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے علاقے میں ایک مرتبہ پھر زلزلہ تباہی مچانے والا ہے۔ ہنزہ کے سب ڈویژن گوجال کے گلمت اور شیش کٹ گاؤں کے رہائشیوں کے مطابق انہیں چند ہفتوں سے زمین کے نیچے سے گڑگڑاہٹ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور ہلکے جھٹکے محسوس ہو رہے ہیں۔مقامی افراد ان آوازوں اور جھٹکوں کے باعث نہایت خوف کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن اپنے گھر بار چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں حالانکہ دنیا بھر میں ایک اصول ہے کہ قدرتی آفات کے آنے سے قبل قدرت کچھ اشارے دیتی ہے اور انسان کو انہیں بروقت سمجھ کر اپنے بچاؤ کی کوشش کرنی چاہئے۔
یاد رہے کہ سنہ 2002 میں استور میں زلزلے کے نتیجے میں ہنزہ کے گاؤں عطا آباد کی پہاڑی میں شگاف پڑ گئے تھے، جو دو سال میں آس پاس کی زرعی زمین اور پہاڑوں تک پھیل گئے۔ پھر 2005 میں زلزلہ آیا اور یہ شگاف مزید پھیلے اور اس نے علاوے میں انفراسٹرکچر کو کافی نقصان پہنچایا۔ یاد رہے کہ عطاآباد تحصیل ہنزہ کا آخری گاؤں ہے، جس کے دو حصے ہیں، ایک عطا آباد بالا اور دوسرا عطا آباد پائن جسے سرکٹ بھی کہتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق سنہ 2009 میں حالت یہ ہو گئی تھی کہ کھیتوں کو پانی دو تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ پانی کہاں گیا۔
زمین ناہموار ہو گئی تھی اور کھیت اوپر نیچے ہو گے تھے۔ کئی جگہوں پر تو ایسے تھا جیسے سیڑھیاں بنی ہوں۔ عطا آباد بالا کے پہاڑوں پر جب دراڑیں بہت واضح ہو گئیں تو حکومت نے دسمبر 2009 کے شروع میں جھیل والے حصے کو شدید خطرناک قرار دے کر رہائشیوں کو دوسری جانب منتقل ہونے کو کہا۔ چٹانیں سرکنے کا عمل جاری رہا اور دراڑیں مزید گہری اور بڑی ہوتی گئیں۔چنانچہ عطا آباد بالا کے دائیں ہاتھ پر پہاڑ کا پورا حصہ سیدھا دریائے ہنزہ میں آ گرا۔ عطا آباد کے سامنے سے دریائے ہنزہ کی چوڑائی کم ہے۔ پہاڑ جب نیچے دریا میں گرا تو اس کا ملبہ زمین سے ٹکرانے کے بعد دوبارہ ہوا میں اچھلا اور یہ ملبہ عطا آباد پائن پر جا گرا جو عطا آباد بالا سے نیچے تھا جس عمل کے نتیجے میں وہاں 19 ہلاکتیں ہوئیں۔
یاد رہے کہ عطا آباد پائن نامی گاؤں کو تب حکومت نے محفوظ قرار دیا تھا تاہم اب جھیل بن جانے کے بعد عطا آباد بالا اور عطاآباد پائن دونوں ایک ہوچکے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں عطا آباد جھیل کے پانی میں کمی واقع ہوئی ہے اور انہیں خدشہ یے کہ چند سالوں میں یہ جھیل خشک ہو جائے گی لیکن اگر اسی عرصے میں کسی وجہ سے عطا آباد جھیل ہی میں پانی لینڈ سلائیڈ سے سپل وے کے اوپر سے نکلتا ہے تو یہ پانی تربیلا ڈیم تک تباہی مچا دے گا۔ یاد رہے کہ عطا آباد جھیل سے منسلک لینڈ سلائیڈ کی قدیم ترین کڑی 1858 سے جڑتی ہے جب سلمان آباد میں لینڈ سلائیڈ ہوئی تھی۔ سلمان آباد عطا آباد سے محض تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس جگہ بھی لینڈ سلائیڈ کا پیٹرن ہو بہو عطا آباد جیسا ہی تھا یعنی کہ لینڈ سلائیڈ تین سمتوں کی جانب گئی اور سامنے والے پہاڑ سے ٹکرا کر واپس آئی۔
خوبصورت وادی ہنزہ میں عطا آباد جھیل کے اطراف میں واقع علاقوں کے باسی کہتے ہیں کہ قدرت انہیںنآج کل مسلسل اشارے دے رہی ہے کہ کچھ ہونے والق ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ جلد از جلد اس بات کی تحقیق کرے اور اگر خدا ناخواستہ ایسا ہے تو انسانی جانیں بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
