ہنگامہ آرائی، مریم نوازاورلیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج

قومی احتساب بیورو(نیب) کے دفتر میں ہنگامہ آرائی کے خلاف تھانہ چوہنگ میں دو مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں مسلم لیگ کی مرکزی رہنما مریم نواز سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات اور188 ارکان کو نامزد کیا گیا ہے۔
نیب دفتر پر حملے کے واقعہ کیخلاف نیب کی درخواست پر تھانہ چوہنگ میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت دیگر شخصیات اور کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جن دیگر شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے ان میں رانا ثناء اللہ، محمد زبیر، جاوید لطیف، بلال یاسین اور عمران نذیر سمیت دیگر شامل ہیں۔مسلم لیگ (ن) کیخلاف مقدمہ میں 353، 427، 148 اور 16 ایم پی او کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اندراج مقدمہ کیلئے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا تھا کہ مریم صفدر کی قیادت میں کارکنوں نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ مریم نواز نے اپنے شوہر صفدر اعوان کی ایما پر نیب پر حملہ کرایا۔ لیگی کارکنوں کے پتھراؤ سے نیب ملازمین سمیت 13 اہلکار زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے نیب واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ مریم نواز نے عدالتی رعایت کا غلط استعمال کیا، پتھر لانے والی کچھ گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں جعلی تھیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔انہوں نے سارے کھیل کا ‘’ماسٹر مائنڈ’’ مریم نواز شریف کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نیب پیشی پر پنجاب بھر سے کارکنوں کو ساتھ لانا ایک سوچی سمجھی سکیم ہے۔ (ن) لیگ کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب ان کا احتساب ہوا، انہوں نے واویلا مچایا۔ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ، نیب اور دیگر اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی حد پہلے ہی پار کر چکی تھیں۔ آج نیب کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے پتھراؤ بھی کر ڈالا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ان تمام گاڑیوں کی فوٹیجز موجود ہیں، جن سے پتھراؤ ہوا۔ ہم نے محکمہ ایکسائز سے ان گاڑیوں کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ پتھراؤ کرنے والی گاڑیوں اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کسی کی جاگیر نہیں کہ کوئی بھی اٹھے اور یہاں دہشت پھیلانا شروع کر دے۔ عدالتوں میں قافلوں کی صورت میں آنا اور اپنے جرائم پر غرور کرنا (ن) لیگ کی سیاست کا حصہ ہے۔ پنجاب حکومت کسی صورت یہ برداشت نہیں کرے گی کہ شہر میں سرکاری یا نجی املاک کو مجرموں کی وجہ سے نقصان پہنچے۔
ذرائع کے مطابق مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقعے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی میں توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف مقدمے کی دو درخواستیں تھانہ چوہنگ کو موصول ہوئی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے میں مریم نواز شریف سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات کیخلاف مقدمہ کے اندراج کے علاوہ 50 گرفتار افراد پر بھی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔ واقعے کے دو مقدمات درج کرنے کا حکم اعلی پولیس افسران کی طرف سے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں درخواستوں میں نامزد افراد کو مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مریم نواز کی نیب آمد کے موقعے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی رپورٹ حکومت کو بھجوادی ہے جس کے مطابق لیگی کارکنوں کا پولیس سے تصادم منصوبہ بندی کے تحت تھا اور لیگی کارکن اپنے ساتھ گاڑیوں میں شاپنگ بیگزمیں پتھر لے کر آئے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مریم نواز کی نیب پیشی کے موقعے پر 20 ارکان صوبائی اسمبلی اور 7 ارکان قومی اسمبلی نیب آفس پہنچے۔ اراکین اسمبلی کے علاوہ 700 سو سے زائد لیگی چیئرمین ، وائس چئیرمین اور کارکن نیب کے دفتر پہنچے۔ لیگی رہنما رانا ثناء اللہ ، طلال چوہدری ، مصدق ملک ، کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر بھی موقع پر موجود تھے۔رپورٹ میں مریم نواز سمیت لیگی رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف نیب اور پولیس کی مدعیت میں الگ الگ دو مقدمات درج کرنے کی استدعا کی گئی۔
ذرائع کے مطابق توڑپھوڑ اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نیب نےلیگی رہنماؤں کیخلاف اندراج مقدمہ کیلئےدرخواست دی تھی، لاہور کے چوہنگ پولیس اسٹیشن میں نیب لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی چودھری اصغر کی طرف سے جمع کرائی گئی درخواست میں مریم نواز،کیپٹن صفدر،راناثنا اللہ،محمدزبیر،بلال یاسین،دانیال عزیز،پرویزرشید،طلال چودھری،مصدق ملک اور عظمیٰ بخاری سمیت ن لیگ کے188رہنماؤں اورکارکنان کو نامزد کیا گیا تھا۔



لیگی رہنماؤں اور کارکنان کیخلاف مقدمے کے اندراج کے بعد نون لیگ نے وزیراعظم، پنجاب حکومت اور چیئرمین نیب کیخلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کردیا ہے، ترجمان مریم اورنگزیب کہتی ہیں مریم نواز پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، نیب نیازی گٹھ جوڑ کھل کرسامنے آگیا،اگر پولیس نے درخواست وصول نہ کی تو ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی جائے گی۔
