ہواؤں میں اڑنے والا جام صفدر اصل میں کون ہے؟

ہیلی کاپٹر کو ہاتھوں سے گھمانے، ہواؤں میں اڑنے، سمندر کی لہروں سے کھیلنے اور ایک ہاتھ سے ٹرین کو روک کر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے اچ شریف کے ٹک ٹاک سٹار جام صفدر نے تین ماہ میں نہ صرف دنیا بھر میں اپنے لاکھوں پرستار بنا لئے بلکہ لوگوں تک تفریح کا سامان بہم پہنچانے کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔

ہمارے ہاں ماضی میں اور آج بھی مزاحیہ فنکاروں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ویسے اکثریت ان فنکاروں کو ‘فضول لوگ’ یا ‘میراثی’ کہتی ہے، لیکن در حقیقت یہی لوگ اپنے دکھوں کو عیاں کیے بغیر دوسروں کو ہنسانے کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ماضی میں سٹیج فنکار اور اب ٹک ٹاک صارف یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے روزگار کا ذریعہ بھی بنانا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ٹک ٹاک پر ایک گاﺅں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ” پھولو “ نے اپنے انوکھے انداز کے باعث شہرت حاصل کی تاہم اب ان کے بعد ایک اور شخص جام صفدر نے اپنی انوکھی ویڈیوز کے باعث ٹک ٹاک پر لاکھوں فالورز حاصل کر لیے ہیں اچ شریف کے گاؤں دھوڑ کوٹ کے رہائشی جام صفدر نے صرف تین ماہ میں لاکھوں فالورز بنا لیے ہیں۔ جام صفدر اپنی ویڈیوز میں کبھی ہیلی کاپٹر پر تو کبھی سمندر یا پھر کبھی ٹرین کے سامنے اسے روکے کھڑے نظر آتے ہیں۔ جام صفدر کی تعلیم صرف پرائمری ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے کسان ہیں مگر اپنے بیٹے کو ٹک ٹاک بناتا دیکھ کر چھ بیٹوں کے باپ کو خود ٹک ٹاک بنانے کا شوق پیدا ہوا۔ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے ایک عام موبائل سے کیمرے والے موبائل اور کیمرے والے موبائل سے لیب ٹاپ خریدنے کا سفر طے کیا۔
چاچا جام صفدر کے مطابق پہلے وہ صرف لپ سنک پر ویڈیوز بناتے تھے تاہم انہیں کوئی خاص رسپانس نہیں ملا جس کے بعد انہوں نے اپنی فلائنگ ویڈیوز بنانا اور ایڈٹ کرنا شروع کر دیں۔ اس سے انہیں صرف تین ماہ کے مختصر عرصے میں سات لاکھ کے قریب فالورز ملے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ یوٹیوب اور گوگل سے ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اور پھر اپنی ویڈیو بنا کر اس پر ایڈٹ کر کے اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے گھر میں ایک دیوار کے ساتھ گرین کپڑا لگایا ہوا ہے۔ ایک ٹرائی پوڈ، کیمرے والا موبائل اور گرین کپڑا ہی ان کا پروڈکشن ہاؤس ہے، جہاں ویڈیو بنانے کے بعد وہ موبائل میں کین ماسٹر ایپ کے ذریعے ایڈٹ کرتے ہیں یا پھر ہیوی فائلوں کے لیے لیب ٹاپ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس سارے سامان پر تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں ۔

جام صفدر کے مطابق ان کے اس شوق کو رشتہ دار فضول کام اور وقت کا ضیاع کہتے ہیں جبکہ ان کی بیوی ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہ کر جہاں بجلی اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات بمشکل ہیں، وہاں ایک منفرد انداز میں خود کو منوانا بلاشبہ قابل تعریف ہے۔
