ہونڈا کمپنی کی گاڑیوں کی قیمتوں میں دوسرے ماہ بھی اضافہ

گاڑیاں بنانے والی کمپنی ہونڈا اٹلس نے اپنی مد مقابل کمپنی انڈس موٹرز کی طرح 2 ماہ کے دوران اپنی گاڑیوں کی قیمتوں دوسرا اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث ہونڈا کی
گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک لاکھ 70 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔
ڈیلرز کو لکھے گئے اپنے خط میں کمپنی نے کہا ہے کہ ایکسچینج ریٹ میں مزید اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی اس اثر کو مارکیٹ پر منتقل کرنے پر مجبور ہے، کمپنی کے اعلان کے مطابق گاڑیوں کی نئی قیمتیں یکم مئی 2022 سے لاگو ہوں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’30 اپریل 2022 تک مکمل بیک آرڈر’ سابقہ ریٹیل قیمتوں پر فراہم کیے جائیں گے۔
ہونڈا نے مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک لاکھ 35 ہزار سے ایک لاکھ 70 ہزار روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ بی آر۔وی سی وی ٹی گاڑی کی قیمت میں دیکھا گیا جس کی قیمت 40 لاکھ 79 ہزار روپے سے بڑھ کر 42 لاکھ 49 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
نئے اضافے کے ساتھ سٹی بیس ویریئنٹ ایم ٹی 1.2 ایل کی قیمت 31 لاکھ 29 ہزار روپے سے بڑھ کر 32 لاکھ 64 ہزار روپے ہوگئی، اس گاڑی کی قیمت میں 1 لاکھ 35 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سٹی سی وی ٹی 1.2 ایل اور سی وی ٹی 1.5 ایل گاڑیوں کی قیمتوں میں بالترتیب ایک لاکھ 40 ہزار روپے اور ایک 43 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ دونوں اسپائر ماڈلز کی قیمتوں میں ایک لاکھ 50 ہزار روپے تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح ہونڈا سوک جسے کمپنی نے اس سال فروری میں متعارف کرایا تھا، اس کی صارفین کو فراہمی کا وقت آئندہ سال فروری تھا، اس کی فراہمی کی مدت میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور دو اعلیٰ قسم کی گاڑیوں کی فراہمی اپریل 2023 میں ہوگی۔
ادھرسوک گاڑی کی تینوں قسموں کی قیمتوں میں ایک لاکھ 50 ہزار روپے کا یکساں اضافہ دیکھا گیا، سوک 1.5 ایم سی وی ٹی کی عارضی ترسیل کا وقت اگست 2022 دیا جارہا ہے، سوک 1.5 ایل اوریئل ایم سی وی ٹی کی عارضی ترسیل کا وقت اپریل 2023 جبکہ سوک آر ایس 1.5 ایل ایل سی وی ٹی کی عارضی ترسیل کا وقت بھی اپریل 2023 بتایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مارچ میں جب ہونڈا نے قیمتوں پر نظر ثانی کا اعلان کیا تھا کہ اس وقت روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 182 کی سطح کے قریب تھی، ایک ماہ بعد روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 186 تک کمزور ہو گیا جو 181.55 تک آنے سے پہلے 188 کو بھی پار کر چکا تھا، تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران روپے کی قدر میں 2.2 فیصد کمی ہوئی ہے۔
خیال رہےکہ پاکستان میں کئی سالوں سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر کو قرار دیا جاتا ہے۔

Back to top button