ہوٹل میں قرنطینہ کیے گئے مسافروں سے واجبات لینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے جاری پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے بیرون ملک سے آنے والے ہوٹلوں میں قرنطینہ کئے گئے مسافروں سے واجبات وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے.
حکومت نے بیرون ملک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کی ٹرانسپورٹیشن، ان کی قرنطینہ سینٹرز میں رہائش اور کھانے پینے کی فراہمی پر لاکھوں روپے خرچ کردیے ہیں۔اب تک جن ہوٹلوں میں قرنطینہ کے مراکز قائم کیے گئے ہیں وہ رہائش اور کھانا مہیا کررہے ہیں اور ان کے بل حکومت کی طرف سے ادا کیے جارہے تھے۔
تاہم اب جاری ایک نئی ایس او پی کے تحت قرنطینہ کیے گئے تمام مسافر اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے اور جو کوئی اخراجات نہیں اٹھا سکتا انہیں سرکاری قرنطینہ سینٹر میں منتقل کردیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد محمد حمزہ شفقت کا کہنا ہے کہ ہر مسافر کے نقل و حمل، کھانے پینے اور کرایے پر 5 ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں اور اب تک بیرون ملک پھنسے 2 ہزار پاکستانی واپس لائے گئے ہیں۔فی الحال بیرون ملک سے واپس آنے والے اور قرنطینہ مراکز میں رکھے جانے والے لوگوں کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے روزانہ ایک کروڑ روپے درکار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مسافروں کو 2 دن تک نگرانی پر رکھا گیا لیکن نئی ایس او پی کے مطابق انہیں ایک ہفتے کے لیے الگ کیا جا رہا ہے۔ڈی سی نے بتایا کہ مختلف ممالک سے مزید 30 ہزار مسافر کی آمد متوقع ہے اور دبئی سے 250 افراد کو لے آنے والی ایک پرواز 18 اپریل کو پہنچے گی۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے واپس آنے والے افراد کے لیے امدادی نرخوں پر ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں اور کھانے کا انتظام کیا۔تاہم اب نئی ایس او پی کے تحت تمام مثبت مسافروں کو 14 دن تک قرنطینہ سینٹر میں رکھا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت انتظامیہ نے بین الاقوامی مسافروں کے لیے ماہرین صحت سے مشاورت کے بعد ایس او پی تیار کی جسے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے منظور کرلیا۔
ایس او پی کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اسلام آباد اور قومی ادارہ صحت کے تعاون سے تمام بین الاقوامی مسافروں کی اسکریننگ شروع کردی۔ہوائی اڈے سے تمام بین الاقوامی مسافروں کو ہوٹلوں/ قرنطینہ کے مراکز میں منتقل کرنے اور وہاں سے ان کے آبائی اضلاع تک منتقلی کے لیے انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر اداروں کے افسران کا تقرر کیا گیا۔انتظامیہ اس سرگرمی کی نگرانی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کو نامزد کرے گی اور ریاعتی نرخوں پر گاڑیوں اور ہوٹلوں کا انتظام کرے گی۔مسافر سفر کے چارجز اور کمرے کا کرایہ ادا کریں گے جس میں کھانا بھی شامل ہوگا، علاوہ ازیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار قرنطینہ سینٹر کے باہر تعینات ہوں گے۔انتظامیہ تمام قرنطینہ سینٹرز کے عملے، ریپڈ رسپانس ٹیموں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کو ذاتی حفاظتی ساز وسامان (پی پی ایز) فراہم کرے گی۔
ہوائی اڈے کا محکمہ صحت تمام مسافروں کی تھرمل اسکریننگ کرے گا اور مسافروں کی حفاظت اور ہموار اسکریننگ کے لیے تمام فرنٹ لائن عملہ پی پی ایز اور معیاری آلات سے آراستہ ہوگا۔ہوائی اڈے کا عملہ تمام مسافروں کا ریکارڈ مرتب کرکے متعلقہ حکام کو فراہم کرے گا اور کسی مسافر میں وائرس کی علاماتیں ظاہر ہوئی یا اس کی تشخیص ہوئی تو اسے فوراً علیحدہ کرکے پمز ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
