ہیرا منڈی کی طوائفوں نے انقلاب کی بجائے انگریز کا ساتھ کیوں دیا؟

نامور بھارتی ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی نے اپنی ہیرا منڈی نامی نیٹ فلکس سیریز میں لاہور کے شاہی محلہ کی طوائفوں کو انگریز سرکار کے خلاف لڑنے والے انقلابیوں کا ساتھ دیتے ہوئے دکھایا ہے جو کہ واقعاتی طور پر جھوٹ ہے۔ سچ تو یہ یے کہ لاہور کی طوائفوں نے تحریک آزادی کے مجاہدوں کی بجائے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انگریز دور میں سارے ہی نواب انگریزوں کے پٹھو تھے۔ طوائفوں کے کوٹھے بھی انہی نوابوں کی وجہ سے چلتے تھے لہذا طوائفوں کی وفاداریاں ان نوابوں کی وجہ سے انگریز سرکار کے ساتھ تھیں اور وہ آزادی کی جنگ میں حصہ ڈالنے کی بجائے غلامی کے گھنگرو پہن کر اپنا ناچ گانا جاری رکھنا چاہتی تھیں۔
ان خیالات کا اظہار معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کیا ہے۔ یاد ریے کہ تاریخی ہیرا منڈی لاہور میں ہے جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اصلی ہیرا منڈی شاہی قلعہ لاہور کے پہلو میں نہیں بلکہ بھارت اور پاکستان کے بڑے شہروں کے ماڈرن علاقوں میں منتقل ہو چکی ہے۔ پرانی ہیرا منڈی میں طوائفیں زلف ورخسار بیچتی تھیں لیکن نئی ہیرا منڈیوں میں اہل سیاست و صحافت اپنا کردار بیچتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں ضمیر فروشی اور انصاف فروشی آگے نکل گئی اور جسم فروشی بہت پیچھے رہ گئی۔ آج ہمارا اہم ترین مسئلہ لاہور کی پرانی ہیرا منڈی نہیں بلکہ نئی ہیرا منڈیاں ہیں جہاں معززین شہر اپنےضمیر بیچ کر معتبر ٹھہرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ نیٹ فلیکس پر ہیرا منڈی کی آٹھ قسطیں دیکھنا کافی مشکل تھا لیکن اس ناچیز نے کسی نہ کسی طرح یہ آٹھ قسطیں دیکھ ڈالیں۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہیرا منڈی پر دستاویزی فلم بنانے کا شوقین میرا ایک امریکی دوست یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا جو ہیرا منڈی نیٹ فلک سیریز میں دکھائی گئی ہے وہ حقیقی ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ میں نے یہ سیریز دیکھنے کے بعد اپنے دوست کو پیغام بھیجا کہ نیٹ فلیکس والی ہیرا منڈی صرف تخیلاتی ہے جس میں دکھائی گئی طوائفوں سے لیکر عمارتوں تک کوئی بھی چیز آج کے لاہور میں موجود نہیں لہٰذا ہیرا منڈی پر دستاویزی فلم بنانے کی کوشش وقت کا ضیاع ہو گی۔ میرے دوست نے پوچھا کہ کیا لاہور میں کوئی ایسا تاریخ دان یا محقق موجود ہے جو اسے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں لاہور کی طوائفوں کے کردار پر کچھ مواد مہیا کر سکے؟ میرے ذہن میں فوری طور پر مستنصر حسین تارڑ صاحب کا نام آیا جنہوں نے اپنی کتاب ’’لاہور آوارگی ‘‘ میں ہیرا منڈی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ میں نے دوست سے کہا کہ تارڑ صاحب سے رابطہ کر لو لیکن لیاقت علی سندھو کی کتاب ’’لاہور کی کھوج‘‘ بھی منگوا لو جس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کی اکثر طوائفوں نے تحریک آزادی کے مجاہدوں کی بجائے انگریزوں کاساتھ دیا تھا۔
حامد میر کے مطابق مسئلہ دراصل یہ تھا کہ نیٹ فلیکس پر دکھائی جانے والی ہیرا منڈی میں ایک طوائف بیبو جان تحریک آزادی کے مجاہدوں کیلئے انگریزوں کی مخبری کرتی ہے اور ایک انگریز پولیس افسر پر گولی بھی چلاتی ہے۔ اس قسم کا کوئی کردار مجھے مستنصر حسین تارڑ کی کتاب میں نہیں ملا، البتہ 1857ءکی بغاوت میں کان پور کی ایک طوائف عزیز النساء نے باغیوں کا کھل کرساتھ دیا تھا۔ یہ طوائف عزیزن بائی کے نام سے مشہور تھی۔ اسکی دیکھا دیکھی لکھنؤ کی طوائفوں نے بھی بغاوت کی اور پھر واراناسی میں حسینہ بائی نے ایک ’’طوائف سبھا‘‘ بھی بنائی۔ سنجے لیلا بھنسالی کے لئے لکھنؤیا واراناسی کی طوائفوں پر ڈرامہ بنانا زیادہ آسان تھا لیکن انہوں نے عزیزن بائی اور حسینہ بائی کے کردار کو لاہور کی ہیرا منڈی میں فلما کر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ آج کل پاکستان میں یہ بحث چل رہی ہے کہ نیٹ فلیکس پر دکھائی جانے والی ہیرا منڈی اور لاہور کی اصلی ہیرا منڈی میں کیا فرق ہے۔ سنجے نے نیٹ فلیکس پر جو ہیرا منڈی دکھائی ہے اس میں بڑی بڑی عالی شان حویلیاں ہیں جو آج کی اصلی ہیرا منڈی میں کہیں نظر نہیں آتیں۔اس سیریز میں جو نواب دکھائے گئے ہیں وہ انگریز کے زمانے میں لکھنؤ میں تو موجود تھے لیکن لاہور میں نہیں تھے۔سنجے لیلا بھنسالی کیلئے اس سیریز کا سکرپٹ معین بیگ نے لکھا ہے۔ ڈرامہ تو ڈرامہ ہوتا ہے جس میں حقیقت اور افسانے کا امتزاج بنانا ایک پرانی روایت ہے ۔عام خیال یہ ہے کہ لاہور کی ہیرا منڈی مغلوں کے دور میں قائم کی گئی لیکن ’’تاریخ لاہور‘‘ کے مصنف کنہیا لال ہندی بتاتے ہیں کہ لاہور کی طوائفوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں عروج حاصل ہوا کیونکہ اس نے دو طوائفوں موراں اور گل بیگم سے شادی کی ۔موراں نے ایک مسجد بھی بنوائی اور جو مسجد مائی موراں کے نام سے مشہور ہوئی اور گل بیگم کے نام پر آج باغ گل بیگم کا علاقہ لاہور میں موجود ہے ۔رنجیت سنگھ کے دور میں پنجاب کے ڈوگرہ وزیر اعظم ہیرا سنگھ نے بازار حسن کو کاروبار کا مرکز بنانے کیلئے یہاں زرعی اجناس کی منڈی بھی بنا دی اور اس علاقے کو ’’ہیرا سنگھ دی منڈی‘‘ کہا جانےلگا۔
حامد میر کے مطابق مستنصر حسین تارڑ کی ’’لاہور آوارگی ‘‘ کے ایک باب کا نام ’’ہارٹ آف ہیرا منڈی ‘‘ہے جس میں تارڑ صاحب نور جہاں، فریدہ خانم، مہدی حسن، بڑے غلام علی خان اور کئی دیگر بڑے فنکاروں کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن نیٹ فلیکس والی ہیرا منڈی ان کی کتاب میں نظر نہیں آتی۔
