ہیری پوٹر کہلانے والا جادوگر سپنر ابرار حافظ قرآن بھی نکلا

انگلینڈ کے ساتھ جاری کرکٹ سیریز میں جادوگر سپنر کا لقب حاصل کرنے والے ابرار احمد کو ان کے دوست انکے عینک کے فریم کی وجہ سے ہیری پوٹر کے نام سے پکارتے ہیں، لیکن ان کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ وہ حافظ قرآن بھی ہیں۔ ابرار احمد کا تعلق کراچی کے ایک متوسط گھرانے سے ہے اور انکے کوچ کے بقول وہ حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے بہت اچھی قرات بھی کرتے ہیں۔ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی میں ایک کلب میچ کے دوران جب ابرار نے سپن باؤلنگ کے اپنے دلکش انداز سے پہلی مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں تو تب اس 15 سالہ نوجوان نے اپنے دوستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے ”سپر سٹار‘‘ کہنا شروع کر دیں۔ نو سال بعد اسی نوجوان نے پاکستانی قومی ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں انگلش کرکٹ ٹیم کے سات بلے بازوں کا شکار کر کے اپنی خود ستائشی کا میرٹ ثابت کر دیا۔ ابرار کے دوست انکیں مشہور فکشنل کردار سے ملتے جلتے نظر کے چشمے پہننے پر ‘ہیری پوٹر‘ کہتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ اب کرکٹ کی گیند سے اپنی ہی طرز کا جادو بھی جگاتے ہیں۔
ابرار احمد 2019-20 کے ڈومیسٹک سیزن میں اس وقت توجہ حاصل کر پائے، جب انہوں نے ٹورنامنٹ میں 57 وکٹیں حاصل کیں، جن میں آٹھ مرتبہ پانچ وکٹوں کا حصول بھی شامل تھا۔ اس سال پاکستان کے پریمیئر فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں 43 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد انہیں پاکستان کی طرف سے قومی ٹیم کی نمائندگی کے لیے طلب کیا گیا اور انہوں نے اپنی سلیکشن صحیح ثابت کر دی۔
انگلینڈ کے خلاف شاندار پرفارمنس دکھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابرار نے کہا کہ لوگ مجھے ہیری پوٹر کہتے ہیں لیکن میں جادوگر نہیں۔ میں نے وہی کیا جو میرا کام ہے اور وہ وکٹیں لینا ہے۔ یاد رہے کہ ابرار احمد ڈیبیو پر پانچ یا اس سے زائد وکٹیں لینے والے 13ویں پاکستانی باؤلر بن گئے ہیں۔
ابرار احمد پانچ بھائیوں اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹے ہیں اور ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد کراچی میں ایک چھوٹے سے ٹرانسپورٹر تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا مذہب کی تعلیم حاصل کرے لیکن احمد پڑوس میں ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے کے لیے فرار ہو جاتے تھے۔ وہاں نوجوان ٹیلنٹ پر نظر رکھنے والے ایک کامیاب کوچ مسرور احمد نے ابرار کو دیکھا اور پھر اسے اپنی تربیت میں لے لیا۔ مسرور کا کہنا یے کہ اپنے والد کی خواہش پر ابرار نے قرآن پاک حفظ کیا لیکن ساتھ ہی انہیں (والد) کو باور کرایا کہ اس کا مستقبل کرکٹ میں ہے۔ اس طرح وہ حافظ قرآن بھی بن گئے اور کرکٹر بھی۔
