ہیلی کاپٹر حادثہ، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو کلین چٹ دے دی

ایرانی حکام نے صدر ابراہیم رئیسی کے طیارہ حادثے میں امریکہ اور اسرائیل سمیت کسی بھی ملک کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئےہیلی کاپٹر حادثے میں کسی قسم کی ’تخریبی کارروائی‘ کے تاثر کو مستردکر دیا ہے۔ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے رواں ہفتے سابق صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی ابتدائی رپورٹ کو جاری کر دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر میں بلندی سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی تاہم اس دعوے کی وجہ نہیں بتائی گئی اور اس رپورٹ کے دعوے کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر بلندی سے کیوں ٹکرایا۔رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹر کی باقیات سے گولیاں لگنے یا کسی تخریبی کاروائی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر مقررہ راستے سے نہیں ہٹا اور جس ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا اس کے پائلٹ نے حادثے سے ڈیڑھ منٹ قبل دو دیگر ہیلی کاپٹرز سے رابطہ کیا تھا۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ واچ ٹاور کی ہیلی کاپٹر کے عملے کے ساتھ گفتگو میں بھی کوئی مشکوک مواد سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا کہ کچھ حصوں اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے گذشتہ بیانات کی طرح اس رپورٹ میں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ ایرانی ڈرونز کے ذریعے ملا تھا۔اس رپورٹ میں تبریز کی مسجد کے امام محمد علی الہاشم کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دعوے کا ذکر نہیں کیا گیا، جس کا ذکر ابراہیم رئیسی کے چیف آف سٹاف غلام حسین اسماعیلی نے کیا تھا،جن کا کہنا تھا کہ وہ حادثے کے تین یا چار گھنٹے بعد تک الحاشم کے ساتھ رابطے میں تھے۔اس کے علاوہ جاری کردہ رپورٹ میں پرواز کے دوران موسم کی صورت حال بارے بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیحالانکہ ایران میں کچھ حکام اور میڈیا کا دعویٰ ہے کہ موسم ہیلی کاپٹر کی پرواز کے لیے سازگار نہیں تھا جبکہ کچھ دیگر حکام جیسا کہ غلام حسین اسماعیلی نے دوران پرواز آسمان صاف ہونے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقات کی حتمی رپورٹ تفتیش مکمل ہونے کے بعد شیئر کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترکیہ کے ریسکیو گروپ کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ جس ہیلی کاپٹر میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان کی موت ہوئی تھی اس میں یا تو سگنل بھیجنے والا آلہ ٹرانسپونڈر بند تھا یا موجود ہی بند تھا۔اس کےعلاوہ ایرانی حکومت کو پہلے ہی پرانے ہیلی کاپٹروں کی خراب حالت سے متعلق خبردار کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جس ہیلی کاپٹر میں سفر کررہے تھے وہ امریکا کا تیار کردہ ’بیل 212‘ہیلی کاپٹر تھا۔
یاد رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر 19 مئی کو آذربائیجان کی سرحد پر ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں ایرانی صدر، وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان و دیگر حکام جاں بحق ہوگئے تھے۔ایرانی حکام نے 20مئی صبح ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سمیت دیگر کی موت کی تصدیق کی تھی۔ہیلی کاپٹر میں 9 افراد سوار تھے، جن میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی، تبریز کے امام سید محمد الہاشم،صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ موجود تھے۔
