یاسر حسین قاتل اور عائشہ عمر پولیس افسر بننے کو تیار

خبریں ہیں کہ یاسر حسین اور عائشہ عمر تقریبا 6 سال بعد ایک ساتھ دوبارہ بڑی اسکرین پر ایکشن میں دکھائی دیں گے۔
اطلاعات ہیں کہ دونوں جلد ہی فلم ساز ابو علیحہ کی ہارر فلم کے ذریعے بڑی اسکرین پر واپسی کریں گے۔
ابو علیحہ اور عائشہ عمر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں متعدد شوبز ویب سائٹس کی خبروں کے اسکرین شاٹ شیئر کیے، جن کے مطابق جلد ہی وہ ایک منصوبے پر کام کرتے نظر آئیں گے۔
ابو علیحہ کی جانب سے شیئر کی گئی شوبز ویب سائٹ کی خبر کے مطابق عائشہ عمر اور یاسر حسین ’ان ٹائٹل اسٹوری آف جاوید اقبال‘ کے نام سے بنائی جانے والی فلم میں دکھائی دیں گے۔
رپورٹ کے مطابق فلم کی ہدایات اور کہانی ابو علیحہ نے لکھی ہے جو پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر بنائی جائے گی۔
فلم میں یاسر حسین سیریل کلر جاوید اقبال کا کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے جب کہ عائشہ عمر پولیس افسر کے روپ میں ہوں گی۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ فلم کو کب تک ریلیز کیا جائے گا اور کب اس کی شوٹنگ شروع ہوگی، تاہم امکان ہے کہ اس حوالے سے جلد تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔
اگرچہ عائشہ عمر نے مذکورہ معاملے پر خود کوئی بیان نہیں دیا، تاہم انہوں نے اس پر شائع ہونے والی متعدد شوبز ویب سائٹس کی خبروں کے لنک شیئر کیے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پولیس افسر بننے کو تیارہیں۔
عائشہ عمر نے بھی خبروں کے لنکس شیئر کیے—اسکرین شاٹ
فلم ساز ابو علیحہ نے بھی اس پر شوبز ویب سائٹس کی خبروں کے لنک شیئر کیے۔
ابو علیحہ سے قبل فلم ساز و اداکار شمعون عباسی نے بھی سیریل کلر جاوید اقبال پر ویب سیریز بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم تاحال وہ سیریز بھی سامنے نہیں آ سکی۔
جاوید اقبال مغل 100 بچوں کے قتل اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا مجرم تھا۔
1999 میں جاوید اقبال نے پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔ اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے ان بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے کیے۔
جاوید اقبال مغل نے 2001 اکتوبر میں لاہور کی جیل میں خودکشی کرلی تھی۔
بشکریہ: ڈان نیوز
