یوم آزادی پر پاکستان میں افغان طالبان کے پرچموں کی فروخت


پاکستانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب قوم نام نہاد یوم آزادی کا جشن منا رہی یے تو بلوچستان میں پاکستان کے پرچم کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی امارات اسلامی کے پرچم بھی بڑی تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں۔ افغان طالبان کے پرچم بیچنے اور خریدنے والوں کو یقین ہے کہ ملا محمد عمر کے پیروکار اور کچھ عرصے میں دوبارہ افغانستان پر قابض ہو جائیں گے۔
چنانچہ ان حالات میں یوم آزادی سے ایک ہفتہ پہلے ہی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی پرچموں کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی امارات اسلامی کے پرچموں کی فروخت بھی شروع یو گئی تھی۔ کوئٹہ کے علاوہ چمن اور کچلاک میں بھی افغان طالبان کے پرچم فروخت کے لیے نظر آ رہے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیرستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع ژوب میں ایک دکان پر افغان طالبان کے پرچموں کی موجودگی کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔ جب اس معاملے پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو سے افغان طالبان کے پرچموں کی فروخت بارے پوچھا گیا تو اُنھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کریں گے۔
اسکے علاوہ کچلاک میں بھی بڑی تعداد میں افغان طالبان کے پرچم فروخت ہونے کی ویڈیوز وائرل ہیں۔ کچلاک ضلع کوئٹہ کا حصہ ہے اور یہ کوئٹہ شہر کے شمال میں 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کچلاک سے سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی ایک ویڈیو شیئر میں جہاں ایک ریڑھی اور دکان پر 14 اگست کی مناسبت سے پاکستانی پرچم بڑی تعداد میں نظر آ رہے ہیں وہاں ان کے ساتھ افغان طالبان کے پرچم بھی موجود ہیں۔ بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کے لیے کہ واقعی کچلاک میں افغان طالبان کے پرچم فروخت ہورہے ہیں یا نہیں، بعض مقامی لوگوں سے رابطہ کیا تو اُنھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ افغان طالبان کے پرچم فروخت ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سابق سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے بعد بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد آئی تھی۔ ان میں سے بہت سارے لوگ مختلف اوقات میں افغانستان واپس چلے گئے لیکن اب بھی جن علاقوں میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد موجود ہے ان میں کچلاک کا علاقہ بھی شامل ہے۔ اسی طرح ژوب کے حوالے سے بھی ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں ژوب کے بازار میں ایک دکان پر افغان طالبان کے پرچم دکھائی دے رہے ہیں۔ژوب کوئٹہ کے شمال مشرق میں ایک سرحدی ضلع ہے جس کی سرحدیں وزیرستان کے علاوہ افغانستان سے بھی ملتی ہیں۔
جب 90 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو اس وقت بھی جہاں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ان کی حمایت میں مظاہرے ہوئے تھے وہاں ان کے پرچم اور ان کے ترانوں پر مشتمل آڈیو کیسٹس اور رسالے فروخت ہوتے رہے ہیں۔اسی طرح افغانستان میں جب امریکہ اور نیٹو ممالک کی افواج نے طالبان کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تو اس وقت ان حملوں کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے تھے۔تاہم امریکی اور نیٹو افواج کے حملوں کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کے پرچم اور دیگر اشاعتی مواد نظر آنے کا سلسلہ بند ہو گیا تھا۔
اب جبکہ طالبان، امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد دوبارہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں کنٹرول حاصل کر رہے ہیں تو ان کے پرچم ریڑھیوں اور دکانوں پر فروخت کے لیے نظر آ رہے ہیں۔

Back to top button