یوم مزدور : صدر و وزیراعظم کا کورونا سے متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی

دنیا بھر کی طرح آج یکم مئی کوپاکستان میں بھی محنت کشوں کی عظمت کے اعتراف اور ان سے یکجہتی کے اظہار کا عالمی دن ‘یوم مزدور’ منایا جارہا ہے۔
یہ دن یکم مئی 1886 کو شکاگو میں محنت کشوں کی جانب سے اوقات کار 8 گھنٹے مقرر کرنے کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی پہلی لیبر پالیسی 1972 میں تشکیل دی گئی تھی جس میں یکم مئی کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا تھا۔ آج بھی ملک میں عام تعطیل ہے لیکن دنیا بھر کو متاثر کرنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث یوم مزدور گزشتہ برسوں سے مختلف ہے۔
کورونا وائرس کے باعث جہاں انسانی صحت کو خطرات لاحق ہیں وہیں اس عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤنز اور بندشوں نے مزدور طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔اب تک ملک میں ہزاروں مزدوروں کو بیروزگاری کا سامنا ہے جبکہ کورونا وائرس کے سبب ملک میں لاکھوں افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ بھی ہے۔یوں تو ہر سال یوم مزدور پر ملک بھر میں محنت کشوں کی تنظیموں کی جانب سے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں اور ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں تاہم وبا کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں کسی بھی قسم کی ریلی اور اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔
محنت کشوں کے عالمی دن پر وزیراعظم عمران خان اور صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اپنے خصوصی پیغامات میں مزدوروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے محنت کشوں کے حقوق کو تحفظ دینے سے متعلق حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔
یوم مزدور کے موقع پر صدر مملکت عارف علوی نے اپنے پیغام میں محنت کشوں کو بنیادی حقوق کے لیے جرات مندانہ اور قابل تعریف جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دن نہ صرف محنت کشوں کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے بلکہ قومی ترقی اور خوشحالی میں ان کے کردار کے اعتراف کی عکاسی بھی کرتا ہے۔صدر نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث عالمی معیشت متاثر ہورہی ہے جس سے مزدور طبقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد بیروزگار ہوچکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کو لاک ڈاؤن کے باعث مزدوروں کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غریبوں اور مستحق افراد کی امداد کے لیے احساس ایمرجنسی کیش ریلیف پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے یوم مزدور کے موقع پر جاری پیغام میں محنت کشوں کے معیارِ زندگی میں بہتری اور رہائش، تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے ذریعے ان کی اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے مذہب نے بھی سماجی انصاف اور لوگوں کے حقوق کے احترام پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے نہ صرف آبادی کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ صںعتوں اور فیکٹریوں کی بندش کے براہ راست پڑنے سے مزدور پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کورونا وائرس کی عالمی وبا سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،حکومت نے ان کے لیے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور مزدورں کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی میں مزدورں کے کردار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لیے محنت کشوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات تک اقتصادی ترقی کے ثمرات پہنچانے کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
