یہاں خاتون اسسٹنٹ کمشنر بھی ہراسانی سے محفوظ نہیں


اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ملک میں خواتین کے متعلق مردوں کی سوچ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آ سکی، لہذٰا آج بھی متعصب اور پدرسری سوچ کے حامل مرد خواتین کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں پیش آیا جہاں تین نوجوانوں نے خاتون اسسٹنٹ کمشنر ماروی شیر ملک کو انکی سرکاری گاڑی روک کر دن دیہاڑے سڑک پر ہراساں کیا۔ ملزموں نے خاتون اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کا پیچھا کیا، اور پھر ہاتھ سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکالنے کی کوشش کی، حملہ آوروں نے انکے سیکیوڑی گارڈ اور ڈرائیور کے ساتھ گالم گلوچ اور جھگڑا بھی کیا۔
یاد رہے کہ ماروی ملک شیر ان پانچ بہنوں میں شامل ہیں جنھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے پاکستان میں نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
ماروی کے مطابق ان کو صرف خاتون ہونے کے ناطے ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بطور سرکاری افسر اپنا تعارف کروانے پر انہیں جواب میں کہا گیا کہ تم خاتون ہو کر ہم لوگوں کے اوپر اے سی کیسے تعینات ہو گئی، ملزمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کسی خاتون کو اے سی یا ڈی سی نہیں مانتے۔
تاہم مانسہرہ پولیس نے واقعے میں ملوث تینوں نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایس ایچ او تھانہ سٹی مانسہرہ اسرار شاہ کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ ہراسانی کا واقعہ ہے، خاتون کے ساتھ غنڈہ گردی دیکھ کر موقع پر لوگ اکھٹے ہو گئے تھے جنھوں نے تینوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا، تھانہ سٹی مانسہرہ میں اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ، ماروی ملک کی درخواست پر درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ پجارو جیپ پر سوار تین نوجوانوں نے ہماری سرکاری گاڑی کا پیچھا کیا اور بار بار اوور ٹیک کرنے کے علاوہ اپنے موبائل سے تصاویر بھی لیں۔
مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ جب ہماری گاڑی غازی کوٹ کے مقام پر پہنچی تو ملزموں نے اپنی گاڑی کو ہماری گاڑی کے سامنے کھڑا کر کے روک لیا، تینوں لڑکے گاڑی سے باہر نکلے، انہوں نے پہلے گالم گلوچ اور پھر تکرار کی، اس کے بعد گارڈ کے ساتھ ہاتھا پائی کی، میرے ساتھ بدتمیزی کی گئی، میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں میرا ہاتھ زخمی ہوا۔
اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ ماروی ملک کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزموں نے ڈرائیور پر تشدد کیا اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ مجھے مارو، یہ یہاں اے سی بن کر آئی ہے، ہمارے ہی پیسوں پر پل رہی ہے، ہم کسی اے سی، ڈی سی کو نہیں مانتے، نہ ہی کسی خاتون کو افسر کو مانتے ہیں۔
موقع پر موجود ایک عینی شاہد سمیر نے بتایا کہ وہ اپنے شہر کی خاتون اے سی کو چہرے سے جانتے ہیں، یہ ایک فعال افسر ہیں، میں نے دیکھا کہ تین نوجوان ان کا گھیراؤ کیے ہوئے تھے اور اونچی آواز میں بد تمیزی کر رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ خاتون اے سی تینوں سے کا بڑی بہادری سے سامنا کر رہی تھیں۔ سمیر کے مطابق اتنے میں کئی اکھٹے ہو گئے اور تینوں کو اپنے قابو میں کر کے پولیس کو اطلاع دی کیونکہ سب لوگ خاتون اے سی کو پہچانتے تھے، ماروی ملک کے والد رفیق اعوان کے مطابق ’میری بیٹی بالکل بھی خوفزدہ نہیں، وہ مانسہرہ ہی میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ میری بیٹیاں بہت بہادر ہیں، ان کی پرورش ہی اسی طرح ہوئی ہے کہ وہ کسی سے بھی خوفزدہ ہونے والی نہیں ہیں، وہ اپنے ملک و قوم اور لوگوں کی خدمت کر رہی ہیں، اس راستے میں وہ کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گی۔
خیبر پختونخواہ میں انسانی حقوق کی کارکن اور سپریم کورٹ کی وکیل شبنم نواز ایڈووکیٹ کہتی ہیں کہ ماروری ملک کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ’ماروری ملک انتہائی بہادر افسیر ہیں جو عوام کی خدمت کر رہی ہیں، ان کی کارگردگی چھپی ہوئی نہیں ہے بلکہ سب کے سامنے ہے، ان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنا ثابت کر رہا ہے کہ ہمیں ابھی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر ماروی شیر کی بہن نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’خاتون آفیسر ہونے پر گذشتہ روز کچھ غنڈوں نے میری بہن پر حملہ کیا، یہ 21ویں صدی ہے لیکن ہمارے ملک میں متعصب اور پدرسری سوچ رکھنے والوں کو خاتون کی لیڈرشپ رول میں موجودگی اب بھی بری لگتی ہے۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی شدید برہمی اور افسوس کا اظہار کیا، ادریس سعید نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ملزمان قانون کی حراست میں ہیں، ان شاءاللہ عزوجل سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ قیصر خان نے لکھا کہ کمتر سوچ، لیکن لوگوں کی اکثریت اس کی مذمت کر رہی ہے اور ماروی میم کے ساتھ کھڑی ہے، محمد شاہان خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ یہ سن کر افسوس ہوا، آج کے دور میں ایسی جہالت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

Back to top button