یہاں طاقتور پنکی پیرنی کے بیٹے کے لیے قانون مختلف ہے

وزیراعظم عمران خان کے اس وعدے کی نفی کرتے ہوئے کہ ملک میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہوگا، پنجاب پولیس نے طاقتور خاتون اول بشریٰ بی بی کے اغوا برائے تاوان کیس میں مطلوب بیٹے کو بچانے کے لیے دونوں اغوا شدہ افراد کی گرفتاری ظاہر کر دی حالانکہ پچھلی پیشی پر پولیس عدالت کو صاف بتا چکی تھی کہ اسے دونوں گمشدہ افراد کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کے روز لاہور ہائی کورٹ نے ایک سائل کی درخواست پر بشری بی بی اور خاور مانیکا کے بیٹے ابراہیم مانیکا کو اغوا برائے تاوان کے ایک مقدمے میں 24 فروری کو طلب کیا تھا۔ تاہم پچھلی پیشی پر عدالت میں دونوں گمشدہ شہریوں کی عدم گرفتاری اور عدم مقدمے کا بیان دینے والی پنجاب پولیس نے 24 فروری کے روز لاہور ہائیکورٹ میں ابراہیم مانیکا کی ذاتی حیثیت میں طلبی کے موقع پر نہ صرف مغوی شہریوں کی پولیس حراست میں ہونے کا بیان دے دیا بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ مغوی اعجاز احمد اور ان کے بھائی احمد حسن تھانہ ہئیر میں 18 فروری کو ایک فراڈ کا کیس درج ہونے کی وجہ سے گرفتار کیے گئے تھے۔ تاہم جج صاحب نے بھی کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کو پچھلی پیشی پر جھوٹا بیان دینے پر باز پرس کرنے کی بجائے خاتون اول کے بیٹے ابراہیم مانیکا کے خلاف دو شہریوں کے اغوا کا پرچہ کرنے کی درخواست خارج کر دی۔
اب کوئی پوچھے کہ پنجاب پولیس کا 20 فروری کو عدالت کے سامنے دیا گیا بیان درست تھا یا 24 فروری کو لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ حقائق پر مبنی ہے۔ 24 فروری کو لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس انوارالحق پنوں نے محمد حسن کی درخواست پر سماعت کی، خاتون اول بشریٰ بیگم کے بیٹے ابراہیم مانیکا عدالتی طلبی پر پیش ہوئے۔ درخواست میں شہری حسن نے ابراہیم مانیکا سمیت دیگر کو فریق بنا کر الزام لگایا کہ ان کے دو بھائیوں کو پولیس کی مدد سے اغوا کروایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایاکہ پولیس نے اس کے ایک بھائی پراپرٹی ڈیلراعجاز احمد کو 11 دسمبر 2019ءکو، جبکہ دوسرے بھائی احمد حسن کو 3 فروری کو گھر سے اٹھایا۔ اس پر عدالت نےاستفسار کیاکہ اس میں ابراہیم مانیکا کا کیا کردار ہے؟ درخواست گزار حسن نے بتایا کہ ابراہیم مانیکا نے انہیں 10 لاکھ روپے سرمایہ کاری کے لیے دیئے تھے، سرمایہ کاری کی رقم سے خریدی گئی جائیداد ابھی بِکی نہیں تھی کہ ابراہیم مانیکا نے رقم کی واپسی کا تقاضا شروع کر دیا، ابراہیم مانیکا کے والد اور بشریٰ بی بی کے خاوند خاور مانیکا نے ان سے رقم لینے کے لیے ایک گاڑی پر بندے ان کے گھر بھیجے مگر وہ گاڑی راستے میں اُلٹ گئی، لہذا اسکے دونوں بھائیوں نے گاڑی کی مرمت بھی ڈھائی لاکھ روپے میں کروا کر دی اور ان کے ڈرائیور کو واپس بھجوانے کے لیے کرائے پر ایک گاڑی بھی لے کر دی جو اب بھی ابرہیم مانیکا کے قبضے میں ہے۔
تاہم جب حسن نے پولیس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تو درخواست گزار کے بھائیوں کے خلاف 20 فروری کو امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ 24 فروری کو کیس کی سماعت کے دوران عدالت نےریمارکس دیئےکہ حسن نے تو اپنی درخواست میں متعلقہ پولیس کو فریق بنایا ہی نہیں، اس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں تو علم ہی نہیں تھا کہ اس کے بھائی کس پولیس کی تحویل میں ہیں۔ حسن نے الزام لگایا کہ ابراہیم مانیکا کو پیشی کے لیے عدالتی نوٹس ملاتو اسے اس کے بھائیوں کے ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، حسن نے کہا کہ اس کے بھائی 10 لاکھ کے بدلے ابراہیم مانیکا کو 15 لاکھ روپےدے چکے ہیں، وہ اب مزید ڈیڑھ کروڑ روپے کا تقاضا کر رہا ہے اور اسی وجہ سے اس کے بھائیوں کو اغوا بھی کروایا گیا ہے۔
24 فروری کو تھانہ ہئیر پولیس نے عدالت کے روبرو جواب جمع کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ دونوں نامزد ملزمان کیخلاف امانت میں خیانت کا مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ملزمان کیخلاف کب مقدمہ درج ہوا جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ بیس فروری کومقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست خارج کرتےہوئے حسن کو کہا کہ دونوں مغوی افراد پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، آپ جاکر ضمانت کرائیں۔ عدالت نے مغوی احمد حسن اور اعجاز کیخلاف امانت میں خیانت کا مقدمہ درج ہونے کی بنیاد پر ابراہیم مانیکا کے خلاف درخواست بھی خارج کر دی۔
یاد رہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا سے ان کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے مغوی اعجاز احمد کے پراپرٹی کے کاروبار میں دس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی لیکن صرف ایک ماہ بعد ہی زور زبردستی کے ذریعے سے دس لاکھ اصل زر کیساتھ پانچ لاکھ روپے منافع بھی وصول کیا تھا۔ مغوی اعجاز احمد نے یہ رقم بشری بی بی کے پہلے خاوند خاور فرید مانیکا کے حوالے کی تھی۔ تاہم کچھ دن بعد ابراہیم مانیکا نے پراپرٹی ڈیلر اعجاز احمد سے ڈیڑھ کروڑ روپے دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب اعجاز احمد نے یہ ناجائز مطالبہ پورا کرنے سے انکار کیا تو ابراہیم نے اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ بعد ازاں 3 فروری 2020 کو ابراہیم نے پولیس کے ذریعے اعجاز کے بھائی احمد حسن کو گرفتار کروا دیا۔ بعد ازاں 12 فروری کی رات کاہنہ کے علاقے سے پولیس نے اعجاز احمد کو بھی گرفتار کر لیا۔ تاہم 20 فروری کے روز لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ پولیس حکام سے پوچھا کہ ان کے خلاف کیا مقدمہ درج ہے اور وہ کہاں ہیں اور انہیں رہا کب کیا جائے گا تو پولیس حکام نے ان کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ جس پر لاہور ہائی کورٹ نے کاروباری لین دین پر دونوں بھائیوں کو مبینہ طور پر پولیس کے ذریعے لاپتہ کرانے پر خاتون اول بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا کو ذاتی حیثیت میں 24 فروری کو طلب کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button